65a854e0fbfe1600199c5c82

غیر ثابت اور غیر معتبر روایات کا سد باب کیجیے! (قسط: 1)

‼️ غیر ثابت اور غیر معتبر روایات کا سد باب کیجیے!
(قسط: 1)


⬅️ احادیث بیان کرنے میں شدتِ احتیاط کی اشد ضرورت:

احادیث بیان کرنا جہاں بہت بڑی فضیلت اور اہمیت والا عمل ہے وہاں نہایت ہی نازک اور ذمہ داری کا کام بھی ہے، کیوں کہ کسی بات کی نسبت حضور اقدس حبیبِ خدا ﷺ کی طرف کرنا یا کسی بات کو حدیث کہہ کر بیان کرنا  بہت ہی نازک اور حساس معاملہ ہے، جس کے لیے شدید احتیاط کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔ اس معاملے میں ذرا سی بھی بے احتیاطی بڑے سے بڑے نقصان اور خسارے سے دوچار کرسکتی ہے۔ احادیث کے معاملے میں شدتِ احتیاط کا یہی تقاضا  ہے کہ کوئی بھی حدیث اُس وقت تک بیان نہ کی جائے جب تک یہ مکمل تحقیق واطمینان نہ ہوجائے کہ یہ حدیث ثابت ہے بھی یا نہیں، یہ حدیث معتبر اور قابلِ قبول ہے بھی یا نہیں، یہ حدیث بیان کرنا درست ہے بھی یا نہیں۔ اس معاملے میں مستند ماہرین اہلِ علم سے تحقیق کرلینی چاہیے، کیوں کہ تحقیق کیے بغیر حدیث بیان کرنے کے نتیجے میں یہ قوی اندیشہ ہے کہ وہ حدیث ثابت ہی نہ ہو بلکہ منگھڑت ہو، جس کے نتیجے میں کہیں ثواب کی بجائے گناہ، اللہ کی رضا کی بجائے ناراضگی اور دین کی خدمت کی بجائے دین کا نقصان حاصل نہ ہوجائے۔


⬅️ روایات کو ثابت اور معتبر ماننے کے معاملے میں چند غلطیوں کی نشاندہی:

نقلِ احادیث کے معاملے میں بہت سے عوام وخواص متعدد غلطیوں کا شکار ہیں جن کی وجہ سے امت میں غیر ثابت اور غیر معتبر روایات پھیلتی چلی جارہی ہیں، جن میں سے چند ایک غلطیاں درج ذیل ہیں جنھیں مختلف تعبیرات کے ساتھ بیان کیا جاسکتا ہے:

1️⃣ بزرگوں اور اکابر کی کتب میں مذکور روایات کو محض ان پر اعتماد کرنے کی بنیاد پر ثابت اور معتبر مان لینا۔

2️⃣ بزرگوں کی کسی کتاب میں مذکور روایات کے ثابت اور معتبر ہونے کی تحقیق نہ کرنا، بلکہ بزرگوں کے نقل پر اعتماد وانحصار کرکے بلا تحقیق روایات بیان کردینا۔

3️⃣ بے سند روایات کو محض مشہور ہونے، کسی طبقے کے عمل کرنے یا بزرگوں کے نقل کرنے کی بنیاد پر ثابت اور معتبر قرار دینا۔

4️⃣ سیرت اور فضائل کے باب میں غیر معتبر، بے سند اور موضوع روایات تک کو قابلِ قبول سمجھنا۔


✍️ مفتی مبین الرحمٰن صاحب مدظلہم

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے