65a854e0fbfe1600199c5c82

قربانی اور فریج و فریزر



 سنو سنو !!


قربانی اور فریج و فریزر


(ناصرالدین مظاہری)


اگر میں کہوں کہ میں نے اپنے ہی گاؤں کے بے شمار غرباء کو قربانی کے دن بازار سے گوشت خریدتے بارہا دیکھا ہے تو آپ کو یقین نہیں آئے گا، اور اگر میں کہوں کہ میں نے ایسے بہت سے افراد دیکھے ہیں جنھوں نے غربت کی وجہ سے کبھی قربانی ہی نہیں کی ہے تو شاید آپ کو اور بھی تعجب ہو۔ غربت ابھی ختم نہیں ہوئی ہے، بس یہ در اور گھر بدل رہی ہے۔ کبھی جہاں دولت کی ریل پیل تھی، حالات نے ایسا پلٹا کھایا کہ امیر لوگ مقروض ہوگئے۔ جو لوگ کئی کئی جانور ذبح کرتے تھے، آج ان پر قربانی واجب نہیں رہی۔ یہی تو اللہ تعالیٰ کا نظام ہے، وہی ہے جو رزق کے دہانے کھولتا ہے اور وہی ہے جو رزق کے دروازے بند کر دیتا ہے۔ وہ غنی بھی ہے اور ہر چیز سے مستغنی بھی ہے، اُسے ہماری ضرورت ہرگز نہیں ہے۔ ہم سب اس کے در کے فقیر اور منگتا ہیں۔


عشرت کے دنوں میں اگر آپ نے عسرت والوں کے لیے اپنے دل کا گوشہ نرم رکھا، اپنی سخاوت کا دریا جاری رکھا اور مہربانیوں و صلہ رحمیوں سے غریبوں کو نوازتے رہے تو خداوند قدوس آپ کو بھی ہمیشہ نوازتا رہے گا۔ لیکن اگر آپ نے اپنے سے نیچے والوں کا دھیان نہیں رکھا تو اللہ تعالیٰ آپ سے نظرِ رحمت پھیر لے گا۔


قربانی کی آمد آمد ہے۔ غریبوں کے بچے خوش ہیں کہ قربانی میں انھیں پیٹ بھر کر گوشت کھانے کو ملے گا، اور ادھر کچھ امیر ایسے بھی ہیں جو بڑے بڑے فریج اور فریزر منگوا چکے ہیں۔ ان امیروں کی نیت یہ ہے کہ ہم قربانی کا بہترین گوشت اپنے فریزر میں ذخیرہ کر لیں گے تاکہ مدت تک بازار سے گوشت خریدنا نہ پڑے۔


اللہ اللہ ایک برقی سرد خانے کے طفیل

اس نے کتنی عمر پائی ذبح ہوجانے کے بعد


مجھے یاد آیا، دو تین سال پہلے ایسا ہوا کہ کئی دن تک بجلی نہیں آئی۔ انورٹر کہاں تک ساتھ دے سکتا ہے، جنریٹر ہر شخص نہیں رکھ سکتا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ امیروں کے فریج اور فریزر کا گوشت سڑ گیا اور پھر یہ گوشت پھینکنا پڑا۔ بہانہ تو بجلی کا نہ آنا ہے، لیکن حق اور سچ یہ ہے کہ یہ غریبوں کے حق کو مارنے کا نتیجہ اور انجام ہے۔


آپ بازار سے روز نیا گوشت کھاتے تو آپ پر کوئی فرق نہ پڑتا، لیکن غریب جو بے روزگار ہے، عیال دار ہے، مفلس و بے نوا ہے، وہ کیا کرے؟ میں نے گیارہ ذی الحجہ کو بہت سے گھروں میں سبزی اور دال پکتے دیکھی ہے، کیونکہ دس ذی الحجہ کو جو گوشت جمع ہوا وہ اسی دن کھا لیا گیا۔ اگلے دن قربانی کا کوئی نام و نشان نہ تھا۔ اگر آپ بھی یہ منظر دیکھنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے کسی غریب، دور افتادہ گاؤں کا سفر کیجیے، ایک بڑی دنیا ایسی نظر آئے گی۔


خدا بھلا کرے ان لوگوں کا جو ایسے غریب گاؤں میں محض اس لیے قربانیاں کراتے ہیں تاکہ کم از کم غریب گھروں میں گوشت پہنچ سکے اور غریب بچوں کے چہروں پر خوشیاں آ سکیں۔


خدارا! آپ صرف جواز اور استحباب پر نظر نہ کریں۔ یہ نہ دیکھیں کہ شریعت ضرورت کی وجہ سے اختیار دیتی ہے کہ آپ سارا گوشت اپنے پاس رکھ سکتے ہیں، بلکہ یہ بھی دیکھیں کہ گوشت کے حق دار کون کون ہیں۔ یہ گوشت پہنچانا آپ کی ذمہ داری ہے۔ آپ خود گوشت پہنچائیں گے تو آپ کی عزت میں اضافہ ہوگا، غریب آپ کے دروازے پر لائن لگائے تو اس کی عزتِ نفس مجروح ہوگی۔


اگر آپ چھوٹے جانور کی قربانی کرتے ہیں تو اس میں بھی تین حصے مستحب ہیں: پہلا حصہ اپنے لیے، دوسرا عزیز و اقارب کے لیے، اور تیسرا غرباء کے لیے۔


جب اللہ تعالیٰ آپ کو دینے میں کبھی کمی نہیں کرتا تو آپ غریبوں کے حق اور حصے میں کٹوتی کیوں کرتے ہیں؟

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے