پندرہ اگست: خوابِ ” آزادی“ تاہنوز بے تعبیر
15/اگست/1947ء کو جب اہلِ ایمان و وطن کی سعیِ پیہم اور جہدِ مسلسل کے زیرِ اثر افقِ ہند پر، گوروں کی غلامی کے گھٹاٹوپ اندھیروں میں ڈوبا ہوا سورج شعاعِ آزادی لے کر روشن ہوا، جب دم بہ دم شبِ دیجور کی زنجیر میں صبح دم ٹوٹی اور در و بام سے آفتابِ حرٌیت کی کرن پھوٹی تو اسلامیانِ ہند کے لیے یہ دن ایک نئی ابتلا بن کر طلوع ہوا، پورا ملک تو کیف و سرور کے کنول کھلانے لگا؛ مگر اہلِ ایمان ایک قسمِ نو کی غلامی زنجیروں میں جکڑ دیے گئے، وہ بہ ظاہر آزاد کہلانے لگے؛ مگر ان کا دینی، تہذیبی اور سیاسی وجود محدود ہو گیا۔
تقسیمِ ہند کے دونوں نظریے—چاہے وہ تقسیم کی چاہت ہو یا مخالفت—اپنی کامرانیوں کے دعوے کر رہے تھے؛ مگر اِس دن کا سورج اُن اہلِ اسلام کے لیے ایک المیہ بن کر نکلا، جو متحدہ قوم کے خواب دیکھ رہے تھے۔ تقسیم کے بعد جو لوگ ہجرت پر راضی یا مجبور ہوئے، ان کا سفر رنج و الم سے پُر اور ہلاکت و تباہی سے عبارت تھا، لاکھوں لوگ قتل کر دیے گئے، کروڑوں بے گھر ہو گئے اور جو یہاں رہ گئے، وہ حیرت و استِعجاب اور بے یقینی کے عالَم میں تھے۔
اس تناظر میں ہم نے جو غلطی کی، وہ یہ کہ غیروں کی آزادی کو اپنی آزادی سمجھتے رہے۔ ہم نے خود فریبی میں خوشی منا لی؛ جب کہ ہمارے پاس کچھ بھی آزاد نہیں تھا۔ سوال یہ ہے کہ جب ہماری خود مختاری گروی تھی، تو ہم نےاپنی بےمثال کوششوں اور بےلوث قربانیوں کو کیسے بھلا دیا ؟
تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ جب دشمن طاقتور ہو، تو مقابلے کے طریقے بھی بدلے جاتے ہیں؛ چناں چہ امامِ حریت،بانئ دارالعلوم حضرت مولانا قاسم نانوتوی رحمہ اللہ نے 1857ء کی ناکامی کے بعد انگریزوں کے علمی و فکری اثرات کا مقابلہ کرنے کے لیے ”دارالعلوم دیوبند“ جیسے اسلامی قلعے قائم کرکے یہ ثابت کردیا کہ تلوار و اوزار کے بغیر بھی ایک مؤثر مزاحمت ممکن ہے۔
یہ ہیں وہ اسباق جو ہماری داستانوں میں رقم تو ہیں؛ لیکن ہم ان سے کچھ عبرت پذیری نہیں کرتے ۔ 2014ء کے بعد سے جو حالات مسلمانوں پر آئے، ان پر ہم نے کوئی سنجیدہ تجزیہ کیا نہ کوئی مؤثر اقدام۔ صرف مسلح جدو جہد ہی راستہ نہیں ہوتا؛ پُرامن کوششیں بھی بہت کچھ کر سکتی ہیں، کچھ تو کیا جائے!
دوسری قومیں روز آبلہ پا ہیں، ان کے قیدی بھی پیہم سعی کرتے ہیں، وکلاء سے رابطے میں رہتے ہیں، کوشش جاری رکھتے ہیں، چاہے نتیجہ دیر سے در آئے۔ اور ہم ہیں کہ خاموشی کا شکار ہیں، بے عملی کے بیمار ہیں۔ آئے دن اہل ایمان محض مذہبی بنیاد پر قتل کر دیے جاتے ہیں؛ مگر ہماری غیرت نہیں جاگتی، سینکڑوں مظالم ڈھائے جاتے ہیں اور ہمارا ہاضمہ متاثر نہیں ہوتا، کیا اسی لیے ہم نے عَروسِ حرٌیت کی حنا بندی کی تھی؟
مروجہ ”یومِ آزادی“ اسلامیانِ ہند کے لیے سرود و سرور کا نہیں، تفکر و تدبر کا دن ہے، آزادی کا جو خواب ہم نے دیکھا تھا، وہ ہنوز تشنۂ تعبیر ہے۔ آئینۂ ” آزادی“ اب بھی غبار آلود ہے،2014ء کے بعد تو اس میں دراڑیں بھی آ گئی ہیں؛لہذا اب وقت ہے کہ ہم نفس شناسی کریں، خود کو پہچانیں، اپنے وجود کا احساس دلائیں۔ ملکی قوانین اور آئینِ ہند کے دائرے میں رہ کر پُرامن اقدامات بہ کثرت کیے جا سکتے ہیں، اب تو زبانی جمع خرچ بے محل و نا روا ہے اور خاموشی جرم۔
؏
ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات
(علامہ اقبالؒ)
آج کے دور میں صرف تقریر و تحریر سے بھی بڑے نتائج اخذ کیے جا سکتے ہیں۔ بولنے اور لکھنے سے حکومتوں پر دباؤ پڑنا یقینی ہے، اس بابت زبان و قلم بھی بڑے موثر ہتھیار ہیں؛ ان سے دنیا کی رائے بدلتی ہے، اور ان کے عزائم بے نقاب ہوتے ہیں۔ اگر ہم صدق و فہم کو آلۂ کار بنائیں، صداقت و فراست سے کام لیں تو ہم آج بھی روشنی کے دریچے کھول سکتے ہیں؛ لیکن شرط یہ ہے کہ ہم آبلہ فرسا ہو جائیں، کد و کاوش کریں،کچھ کر دکھائیں اور صرف شیخ چلّی کے خواب نہ دیکھیں۔
اسجد نعمانی کشن گنجی
یکم ربیع الاول/1448ھ
15/اگست/2026ء،ہفتہ

0 تبصرے