یہ تھے حضرت مولانا محمد سعیدی رحمہ اللہ
(قسط: 44)
(ناصرالدین مظاہری)
حضرت مولانا محمد سعیدی رحمہ اللہ نے ماشاءاللہ متعدد بار حرمین شریفین کی زیارت بغرضِ عبادت کی۔ آپ ہمیشہ سعودی حکومت کے انتظامات کی تعریف و تحسین کرتے تھے۔ فرمایا کرتے تھے کہ:
"یہ حکومت عازمینِ حج و عمرہ کی سہولت کے لیے کسی بھی خرچ سے دریغ نہیں کرتی۔ اگر کسی سال معمولی بدانتظامی بھی ظاہر ہوجائے تو حکومت اس کی جڑ تلاش کر کے بڑے بڑے منصوبے منہدم کر کے نئے سرے سے اعلیٰ پیمانے پر تعمیرات کراتی ہے۔"
جن لوگوں نے پچھلے دو تین عشروں میں حرمین شریفین کی زیارت کی ہے، وہ جانتے ہیں کہ حکومتِ سعودی عرب نے عرفات، منیٰ، مزدلفہ وغیرہ میں حاجیوں کے لیے عظیم الشان سہولتیں فراہم کی ہیں۔ راحت رسانی میں حکومت کے یہاں کوئی بخل نہیں۔
فرماتے تھے کہ:
"پوری دنیا کی تہذیب، ثقافت اور زبانیں حج میں ایک جگہ جمع ہوجاتی ہیں، مگر حسنِ انتظام ایسا کہ کوئی ناگوار کیفیت پیدا نہیں ہوتی۔ اگر کبھی کوئی مسئلہ پیش بھی آتا ہے تو اس میں قصور عوام کا ہوتا ہے، حکومت کا نہیں، مثلاً بھگدڑ، غیرقانونی طریقۂ حج، یا افواہوں پر یقین وغیرہ۔"
یہ بھی کہا کرتے تھے کہ:
"خادم الحرمین الشریفین ہونا کھیل تماشہ نہیں، اور عربوں کو برا کہنا بھی مناسب نہیں۔"
کم از کم دو مرتبہ ایسا ہوا کہ میں عمرے کے لیے گیا اور آپ بھی قریب کے ایام میں پہنچ گئے۔ ایک بار جدہ میں عارف بھائی کے مکان پر دعوت میں ملاقات ہوگئی، اور دوسری بار دو تین سال قبل مسجدِ نبوی میں ملاقات ہوئی۔ اُس وقت مجھے بخار تھا اور شبِ برات کا روزہ بھی۔
ناظم صاحب نے مولانا جمیل احمد سیتاپوری کے صاحبزادے محمد بَکیر سلمہ کو کچھ ریال دیے اور فرمایا:
"تم لوگوں کی افطاری میری طرف سے ہوگی، جاؤ سامان لے آؤ۔"
چنانچہ روزہ داروں نے افطاری کی، اور جو روزے سے نہ تھے انہوں نے “عصرانہ” کیا۔ ملاقات نہایت پُرمغز اور محبت بھری رہی۔ بعد میں آپ جدہ روانہ ہوگئے کیونکہ ہندوستان واپسی کا ارادہ تھا۔
مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ دونوں میں آپ کے بہت سے احباب و متعلقین تھے، بلکہ کئی سہارنپوری، میرٹھی اور دہلوی وہاں مستقل قیام پذیر ہیں۔ مگر آپ عموماً کسی سے ملاقات تو درکنار، اطلاع تک نہیں دیتے تھے۔ فرماتے تھے کہ:
"تعلقات کا دائرہ جتنا وسیع ہوگا، عبادات میں اتنی ہی کمی اور حاضری کے اوقات میں کوتاہی پیدا ہوجائے گی۔"
ایک بار میں نے ان سے پوچھا کہ:
“مسجدِ حرام کا تہ خانہ کہاں ہے؟”
آپ نے حیرت سے پوچھا:
"کئی بار آچکے ہو اور ابھی تک پتہ نہیں؟"
میں نے عرض کیا:
“طواف و عمرے سے ہی فرصت نہیں ملتی، ساری نمازیں مطاف یا مسعی میں ادا ہوجاتی ہیں، اس لیے تہ خانے تک جانے کا موقع نہیں ملا۔”
اسی ضمن میں ایک اور واقعہ یاد آتا ہے۔ مسجد نبوی میں ایک پاکستانی بزرگ ملازم سے میں نے پوچھ لیا کہ:
“یہ سرکنے والے گنبد کتنے ہیں؟”
وہ بزرگ مجھے گھورنے لگے اور بولے:
"مجھے یہاں کام کرتے ہوئے برسوں ہوگئے، مگر مجھے آج تک یہ جاننے کا شوق نہیں ہوا۔"
میں شرمندہ ہوگیا کہ واقعی یہ سوال مناسب نہ تھا۔
بعد میں تحقیق سے معلوم ہوا کہ مسجدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں 27 خودکار (سرکنے والے) گنبد ہیں، جو جدید توسیع کے حصے میں بنائے گئے ہیں تاکہ ہوا، روشنی اور آرام دہ ماحول میسر ہو۔
البتہ مسجدِ حرام کے تہ خانوں کے راستے کا تعین ابھی تک نہیں کرسک سکا۔
ناظم صاحب اپنے حج و عمرے گننے کا مزاج نہیں رکھتے تھے۔ کبھی کسی نے ان کے منہ سے نہیں سنا کہ انہوں نے کتنے حج یا عمرے کیے۔ فرماتے تھے کہ:
"عبادات کا ڈھنڈورا پیٹنے کا کوئی فائدہ نہیں۔"
جب تک سہارنپور میں رہتے تھے تو پیدل چلنے کے عادی نہیں تھے، مگر حج کے موقع پر حیرت انگیز طور پر طویل مسافت پیدل طے کر لیتے۔ خود بتایا کہ:
"میں منیٰ سے حرم مکی تک پیدل ہی نکل آتا ہوں، کیونکہ پیدل جلدی پہنچ جاتا ہوں، بس سے بہت دیر لگ جاتی ہے، بھیڑ بہت ہوتی ہے۔"
یہ فاصلہ اندازاً بیس کلومیٹر کے قریب ہوگا۔
(جاری ہے)

0 تبصرے