سنو سنو!!
"آپ نے مجھے پہچانا؟
(ناصرالدین مظاہری)
ملنے ملانے کے بھی آداب ہوتے ہیں، وقت کی بھی حرمت ہوتی ہے اور لوگوں کی مصروفیات کا بھی کچھ لحاظ کیا جاتا ہے، لیکن بعض حضرات شاید ان سب چیزوں کو اختیاری مضامین سمجھتے ہیں، جو چاہے پڑھے، جو چاہے چھوڑ دے۔
ہوا یوں کہ مئی کا مہینہ تھا۔ سورج میاں آسمان پر نہیں بلکہ یوں محسوس ہوتا تھا کہ ہمارے صحن میں کرسی ڈال کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ زمین کا حال یہ تھا کہ اگر غلطی سے انڈا گر جاتا تو آملیٹ بن کر اٹھتا۔ دوپہر اپنے پورے جوبن پر تھی اور گرمی ایسی کہ پنکھا بھی ہوا دینے کے بجائے گرم سانسیں چھوڑ رہا تھا۔
ہم اہلِ مدرسہ بھی عجیب مخلوق ہیں۔ ہماری ڈیوٹی سرکاری دفتروں کی طرح نہیں کہ پانچ بجے شام کو فائل بند کی اور گھر روانہ ہوگئے۔ ہماری صبح تو فجر سے پہلے آنکھ کھلنے کے ساتھ شروع ہوجاتی ہے اور پھر نماز، تلاوت، درس، تدریس، مطالعہ، مضمون نویسی، مہمانوں کی ناز برداری اور جانے کتنے مشاغل کا سلسلہ چلتا رہتا ہے۔
چنانچہ ظہر سے تقریباً ایک گھنٹہ پہلے ہم قیلولہ کی سنت زندہ کرنے کی نیت سے بستر پر دراز ہوئے۔ ابھی نیند بی بی نے بڑی محبت سے پلکوں پر اپنا نرم رومال رکھا ہی تھا کہ دروازے پر ایسی دستک ہوئی جیسے پولیس کسی مفرور مجرم کی تلاش میں آئی ہو۔
دل نے کہا: "شاید کوئی ضروری کام ہوگا۔"
آنکھوں نے کہا: "ضروری نہ ہوتا تو اس وقت کون آتا؟"
بستر نے کہا: "مت جاؤ!"
مگر ہم دروازے تک پہنچ ہی گئے۔
دروازہ کھولا تو ایک صاحب سامنے کھڑے تھے۔ سلام ہوا۔ ہم منتظر رہے کہ اب تعارف ہوگا، پھر مقصد بیان ہوگا۔ لیکن حضرت نے تمہید کا پورا باب حذف کرکے سیدھا سوال داغ دیا:
"آپ نے مجھے پہچانا؟"
اب آپ ہی بتائیے!
نہ فون، نہ پیغام، نہ حالیہ ملاقات، نہ کوئی ایسی نشانی کہ حافظے کے قبرستان سے کوئی یاد زندہ ہوکر باہر آجائے۔ سوال ایسا جیسے ہم دونوں نے ایک ہی تختی پر الف بے پڑھی ہو، ایک ہی آم کے باغ میں کنچے کھیلے ہوں اور برسوں بعد بچھڑے ہوئے دوست ملے ہوں۔
ہم نے ایک نظر ان پر ڈالی، دوسری نظر اپنی نیند پر ڈالی جو دروازے کے پیچھے دم توڑ رہی تھی، اور عرض کیا:
"حضرت! یہ پہچاننے کا وقت بھی نہیں ہے۔"
بس اتنا کہنا تھا کہ گویا بارود میں چنگاری لگ گئی۔
فرمانے لگے:
"یہ کیسے اخلاق ہیں؟"
پھر اخلاقیات پر ایک مختصر مگر پُرجوش خطاب فرمایا، جس کا خلاصہ یہ تھا کہ دنیا میں اخلاق ختم ہوگئے ہیں اور اس تباہی کے اصل ذمہ دار شاید ہم ہی ہیں۔
وہ تشریف لے گئے اور ہم دروازہ بند کرکے سوچنے لگے:
آخر بے اخلاق کون تھا؟
وہ جو عین قیلولہ کے وقت کسی کے دروازے پر دھاوا بول دے؟
یا وہ جس نے جھوٹ بولنے کے بجائے سچ کہہ دیا؟
مزے کی بات یہ ہے کہ اگر ہم پہچاننے کا ڈرامہ کرتے تو اگلا سوال غالباً یہ ہوتا:
"اچھا بتائیے، میں کون ہوں؟"
اور اگر غلط نام لے دیتے تو فرماتے:
"دیکھا! پہچانا ہی نہیں!"
یعنی یہ ایسا امتحان تھا جس میں فیل ہونا بھی یقینی تھا اور پاس ہونا بھی ناممکن۔
ملاقات یقیناً محبت بڑھاتی ہے، لیکن محبت کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ ملاقات والے کی نیند، مصروفیت اور فرصت کا بھی خیال رکھا جائے۔ پہلے ایک فون کردیجیے، ایک پیغام بھیج دیجیے، اور اگر برسوں بعد ملاقات ہو رہی ہو تو سلام کے بعد خود ہی تعارف کرادیجیے:
"حضرت! میں فلاں ہوں، فلاں جگہ آپ سے ملاقات ہوئی تھی۔"
اس سے دونوں کی عزت محفوظ رہتی ہے اور حافظے پر بھی ظلم نہیں ہوتا۔
یاد رکھیے!
دوسروں کی یادداشت کا امتحان لینا کوئی مہذب مشغلہ نہیں۔ بعض لوگ نام بھول جاتے ہیں، بعض چہرے، بعض تاریخیں، اور بعض اوقات تو آدمی یہ بھی بھول جاتا ہے کہ چشمہ آنکھوں پر لگا ہوا ہے یا نہیں۔ گھڑی ہاتھ میں ہے یا نہیں ، موبائل جیب میں ہے یا نہیں بلکہ میرا حال تو عجیب ہے اگر کوئی بھری نیند میں اچانک بیدار کردے تو کچھ سیکنڈ دماغ کام نہیں کرتا۔گویا دماغ کی میموری کو بھی کچھ وقت چاہیے اور ہاں چہرے تو عموما مجھے یاد نہیں رہتے ۔
اس لیے ملاقات کا ادب یہی ہے کہ سلام کیجیے، تعارف کرائیے، مقصد بتائیے اور خاص کر وقت کی رعایت کیجیے۔تاکہ میزبان بھی آپ کی رعایت کرسکے۔
(تیرہ ذی الحجہ چودہ سو سینتالیس ہجری)

0 تبصرے