65a854e0fbfe1600199c5c82

قربانی: استعارۂ اخلاص و تسلیمِ ربانی



 🕯️چراغ نعمانی


قربانی: استعارۂ اخلاص و تسلیمِ ربانی 


----------------------------------------

     تمام تر حمد و ثنا، ذکر و شکر اور احسان و امتنان کی سوغات اس رب رحیم کو زیباہیں جس نے ہمیں اپنی رحمتِ بےغایت اورعنایتِ بےنہایت سےاسلام جیسےسچے مذہب‌میں پیدا کیا، اسلام ایسا دین ہے جو اعمالِ ظاہری میں کیفیاتِ باطنی کی جھلک دکھاتا ہے؛ ان ہی میں ”قربانی“ ایک ایسی عبادت اور مخلصانہ عمل ہے جو محض 'ذبحِ جانور' اور ’تقسیمِ گوشت‘ کا نام نہیں؛ بل کہ یہ اخلاص و ایثار،عشق و رضا سے سرشاراور فنائیت کے اقرار کا ایک عملی مظہر ہے۔

     تاریخِ قربانی وجودِ انسانی جیسی قدیم ہے،قرآنی بیانیہ ہے کہ فرزندانِ آدم علیہ السلام: "ہابیل وقابیل" نے اس کی داغ بیل ڈالی، جہاں قبولیتِ قربانی اخلاص و للہیت کی مقتضا تھی؛ اسی لیے 'ہابیل' کی "پُرخلوص" قربانی مقبول ہوئی جب کہ ’قابیل‘ کی "نمودِ بے بود" مردود ہوئی۔ اس واقعےے نے قیامِ قیامت تک کے لیے یہ قانون طے کر دیا کہ عبادتِ رحمانی اور کارِ قربانی؛ معیارِ خلوص و تقویٰ پر مبنی ہے اور پیمانۂ قبولیت اخلاص و للّٰہیت ہے۔

   وقت کا پہیہ گھومتا رہا، گردشِ ایام ہوتی رہی، اوراقِ زمانہ پلٹتے رہے اور پھر وہ حسین لمحہ آیا جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ’پیغمبری خواب‘ میں گوشۂ جگر حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا پروانہ ملا؛ برسوں کی دعا کے بعد عطیۂ ایزدی: لختِ جگر کو قربان کرنا اور نورِ نظر کا قربان ہو جانا معمولی بات نہ تھی؛ مگر حب و رضا اور عشق و وفا کی خاطر 'والد' و 'وَلد' دونوں ہی پابندِ حکم ہوئے؛ ایک جانب مطیع و چاقو بردار پدر، دوسری طرف رفیع و حکم بردار پسر، تیسری اور ان کے درمیان صدائے ”پرور“ کی بازگشت: ”اے ابراہیم! آپ نے خواب سچ کر دکھایا“؛ محبت و طاعت سے پُر اس دیدہ زیب منظر پر اہلِ ایماں تا قیامت نازاں و فرحاں رہیں گے، خدا بھی اس ادا کا ایسا شیدا ہوا کہ اسے اہلِ اسلام کے لیے عبادتِ دائمی اور یادگارِ براہیمی بنادیا بنادیا، یہی سنتِ’خلیلی‘ ہے جسے ہم ہرسال بقرہ عید پر زندہ کرتے ہیں۔ 

     قربانی کا یہ یہ عمل نبی اکرمﷺ کی حیات مبارکہ میں بھی نمایاں رہا، آپ نے لگاتار قربانی کی اور اپنی امت کو تعلیم دی، فرمایا: قربانی کا ہر قطرۂ خون زمین پر گرنے سے پہلے ہی اللہ کے ہاں مقبول ہو جاتا ہے؛ لہذا تم بشاشت سے قربانی کیا کرو۔

     تمام اہل اسلام کے نام قربانی کا یہ پیغام ہے کہ ہر ذبح ہوتی گردن کے ساتھ ہمیں اپنی خودی، انا، نفسانیت اور امور دینیہ میں حائل غفلت کو بھی ذبح کر ڈینا ہے، قرآن مجید نے قربانی کی روح کو یوں بیان کیا: "اللہ کو نہ ہی ان ( جانوروں ) کا گوشت پہنچتا ہے نہ ہی خون ؛ بلکہ تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے"(الحج:37)۔

     ضرورت ہے کہ ہم قربانی کو محض رسم نہ بنائیں ؛ بلکہ اخلاص و تقوی سے قربانی کریں، اپنی حیات مستعار کو جذبۂ ایثار سے روشن کرتے چلیں اور دعا کریں کہ اللّٰہ ہمیں وہ قربانی نصیب کرے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یادگار ہو، جو حضرت اسماعیل علیہ السلام کی آئینہ دار ہو اور جو سرور دو عالمﷺ کی بوئے سنت کی مشک بار ہو ۔ آمین

     قلمکشِ افکار:

اسجد نعمانی کشن گنجی

۱۰/ذی الحجہ/۴۷ھ=۲۸/مئی

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے