65a854e0fbfe1600199c5c82

زیادہ گوشت کھانے کے نقصانات



سنو سنو!!


زیادہ گوشت کھانے کے نقصانات


(ناصرالدین مظاہری)


گوشت انسانی غذا کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہ بدن کو طاقت، حرارت اور غذائیت فراہم کرتا ہے، اسی لیے دنیا کی تقریباً ہر قوم میں گوشت خوری کا رواج پایا جاتا ہے۔ اسلام نے بھی حلال جانوروں کے گوشت کو جائز اور عمدہ غذا قرار دیا ہے، لیکن ہر جائز چیز کی طرح اس میں بھی اعتدال مطلوب ہے۔ جب گوشت خوری ضرورت اور اعتدال سے بڑھ جاتی ہے تو یہی مفید غذا مختلف جسمانی و طبی مسائل کا سبب بننے لگتی ہے۔


قدیم اطباء نے اس مسئلہ پر خاص توجہ دی ہے۔ ابنِ سینا نے القانون فی الطب میں لکھا ہے کہ زیادہ گوشت کھانے سے بدن میں غلیظ مادے پیدا ہوتے ہیں اور نظامِ ہضم پر بوجھ بڑھ جاتا ہے۔


 یونانی طبیب جالینوس بھی کثرتِ گوشت کو کئی بیماریوں کا سبب قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک مسلسل ثقیل غذاؤں کا استعمال جسمانی توازن کو بگاڑ دیتا ہے۔


جدید طب بھی اسی حقیقت کی تائید کرتی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت (WHO) اور دیگر طبی اداروں نے حد سے زیادہ سرخ گوشت اور چکنائی والی غذاؤں کے استعمال کو دل کی بیماریوں، موٹاپے، کولیسٹرول، یورک ایسڈ اور بعض اقسام کے سرطان کے بڑھتے ہوئے خطرات سے جوڑا ہے۔


خصوصاً برصغیر کے معاشرے میں عید الاضحیٰ کے دنوں میں یہ مسئلہ زیادہ نمایاں ہوجاتا ہے۔ قربانی کے تین دنوں میں لوگ بڑی مقدار میں گوشت جمع کرلیتے ہیں، فریج اور ڈیپ فریزر بھر دیے جاتے ہیں، پھر کئی کئی دن بلکہ بعض گھروں میں ہفتوں تک صبح و شام گوشت ہی استعمال ہوتا رہتا ہے۔ ناشتہ، دوپہر اور رات؛ ہر وقت گوشت پر مشتمل مرغن اور ثقیل غذائیں کھائی جاتی ہیں۔بعض لوگ تو جم کر دبا کر گوشت کھاتے ہیں اور کھاتے ہی بھینس کی طرح بستر پر لڑھک جاتے ہیں، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ معدہ بوجھل ہوجاتا ہے، بدہضمی، قبض، تیزابیت، سستی اور مختلف جسمانی شکایات پیدا ہونے لگتی ہیں۔


اطباء کے مطابق مسلسل زیادہ گوشت کھانے سے خون میں یورک ایسڈ کی مقدار بڑھ جاتی ہے، جو بعد میں جوڑوں کے درد اور گاؤٹ (نقرس) جیسی بیماریوں کا سبب بنتی ہے۔


 اسی طرح چکنائی والا گوشت دل اور شریانوں پر منفی اثر ڈالتا ہے۔ ایسے افراد جو جسمانی محنت کم کرتے ہیں، ان کے لیے یہ نقصان اور بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔


البتہ اگر کوئی شخص گوشت زیادہ پسند کرتا ہو اور ایامِ قربانی میں اس کے استعمال سے مکمل اجتناب ممکن نہ ہو تو کم از کم چند احتیاطیں اختیار کرلینی چاہییں تاکہ جسمانی نقصان کم ہوسکے:


گوشت کے ساتھ سلاد، سبزیاں اور ریشے دار غذائیں استعمال کی جائیں تاکہ ہضم بہتر رہے۔


مسلسل کئی وقت گوشت کھانے کے بجائے درمیان میں دال، سبزی یا ہلکی غذا رکھی جائے۔


بہت زیادہ چکنائی والا گوشت کم استعمال کیا جائے۔


کھانے کے فوراً بعد لیٹنے سے پرہیز کیا جائے۔


پانی مناسب مقدار میں پیا جائے۔


روزانہ کچھ نہ کچھ جسمانی مشقت یا چہل قدمی ضرور کی جائے۔


رات کے وقت حد سے زیادہ ثقیل اور مصالحہ دار گوشت کھانے سے بچا جائے۔

جب تک بھوک نہ لگے کھانے سے احتیاط کی جائے۔


فریج میں مہینوں پرانا جما ہوا گوشت مسلسل استعمال نہ کیا جائے۔


اسلام نے کھانے پینے میں اعتدال کی تعلیم دی ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے:


﴿وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا﴾


" کھاؤ، پیو اور اسراف نہ کرو۔"


حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے اس قول میں اگرچہ محدثین نے کلام کیا ہے مگر چونکہ امام مالک نے اپنی مؤطا میں اور امام بیہقی نے اس کو نقل کیا ہے اس لئے اس کا نقل کرنا بھی مناسب  ہے:


"إيّاكم واللحم، فإن له ضراوة كضراوة الخمر" (مؤطا مالک)


یعنی گوشت کی زیادتی سے بچو، کیونکہ اس کی بھی ایک عادت اور رغبت پڑجاتی ہے۔


اس لیے مناسب یہی ہے کہ قربانی کے ایام میں بھی اعتدال کو ملحوظ رکھا جائے۔ گوشت کے ساتھ سبزیاں، دالیں اور ہلکی غذائیں بھی استعمال کی جائیں تاکہ جسم متوازن رہے۔ شریعت کا مزاج یہی ہے کہ انسان نعمتوں سے فائدہ اٹھائے، مگر افراط و تفریط سے بچے۔ یہی اعتدال صحت کی حفاظت اور بہتر زندگی کا ضامن ہے۔


(گیارہ ذی الحجہ چودہ سو سینتالیس ہجری)

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے