65a854e0fbfe1600199c5c82

آخری عمر کی تنہائی اور نبوی تعلیمات



 سنو سنو!!


آخری عمر کی تنہائی اور نبوی تعلیمات


(ناصرالدین مظاہری)


حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے:


«اللهم اجعل أوسع رزقك عليَّ عند كبر سني وانقطاع عمري»


"اے اللہ! میری عمر کے آخری حصے میں، بڑھاپے کے وقت، اور زندگی کے اختتام کے قریب مجھ پر اپنی رزق کی فراخی عطا فرما۔"


یہ مختصر سی دعا اپنے اندر انسانی زندگی کے ایک نہایت حساس، دردناک اور حقیقت سے بھرپور مرحلے کا نقشہ سموئے ہوئے ہے۔ جوانی کا زمانہ شور، قوت، تعلقات اور امیدوں سے بھرا ہوتا ہے؛ مگر جیسے جیسے عمر ڈھلتی ہے، انسان آہستہ آہستہ ایک ایسی دنیا میں داخل ہونے لگتا ہے جہاں جسم کمزور، حافظہ دھندلا، دوست کم، اور محفلیں اجنبی ہوتی چلی جاتی ہیں۔


بڑھاپا صرف ہڈیوں کی کمزوری کا نام نہیں؛ یہ بسا اوقات تنہائی، بے توجہی اور خاموش دکھوں کا دوسرا نام بن جاتا ہے۔


انسان کے ہم عمر ساتھی ایک ایک کرکے دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں، نئی نسل اپنی مصروفیات میں کھو جاتی ہے، اور وہ بزرگ جو کبھی گھر کی رونق اور خاندان کا سہارا تھے، رفتہ رفتہ ایک کمرے، ایک چارپائی یا ایک گوشے تک محدود ہوکر رہ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری عمر کے لیے صرف زندگی نہیں مانگی، بلکہ آسودگی، عزت اور فراخیٔ رزق کی دعا مانگی۔


یہاں رزق سے مراد صرف مال نہیں؛ بلکہ صحت، سکون، عزت، محبت، خدمت گزار اولاد، اچھا ماحول اور قلبی اطمینان بھی رزق ہی کی شکلیں ہیں۔


اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض ایسی حالتوں سے بھی اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگی جو بڑھاپے کو مزید تکلیف دہ بنادیتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا فرمایا کرتے تھے:


«اللهم إني أعوذ بك من البرص والجنون والجذام ومن سيئ الأسقام»


"اے اللہ! میں برص، جنون، جذام اور بری بیماریوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔"


ایک اور دعا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارذل العمر یعنی ایسے انتہائی بڑھاپے سے پناہ مانگی جس میں انسان کی عقل و قوت مضمحل ہوجائے۔ قرآن کریم نے بھی اس کیفیت کی طرف اشارہ کیا ہے:

﴿وَمِنْكُمْ مَنْ يُرَدُّ إِلَىٰ أَرْذَلِ الْعُمُرِ﴾

"تم میں سے بعض وہ ہیں جو بدترین عمر کی طرف لوٹا دیے جاتے ہیں۔"


اسلام نے بڑھاپے کو بوجھ نہیں بلکہ احترام کا مرحلہ قرار دیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«ليس منا من لم يرحم صغيرنا ويوقر كبيرنا»


"وہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی توقیر نہ کرے۔"


مگر افسوس! آج کی تیز رفتار دنیا میں بوڑھے والدین سب سے زیادہ تنہائی کا شکار ہورہے ہیں۔ موبائل فون کی اسکرینیں روشن ہیں مگر گھروں کے بزرگوں کے چہرے بجھے ہوئے ہیں۔ اولاد کے پاس دنیا بھر کے لوگوں سے گفتگو کا وقت ہے مگر اپنے بوڑھے باپ کی بات سننے یا اپنی ماں کے پاس چند لمحے بیٹھنے کی فرصت نہیں۔


یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ آج جو اپنے والدین سے بے رخی برت رہا ہے، کل وہ بھی اسی راستے کا مسافر ہوگا۔ زندگی ایک دائرہ ہے؛ انسان اپنے بچوں کو وہی سبق دیتا ہے جو وہ اپنے عمل سے دکھاتا ہے۔ اگر اولاد اپنے والدین کو تنہا چھوڑ دے گی تو آنے والے زمانے میں یہی تنہائی اس کے اپنے مقدر کا حصہ بھی بن سکتی ہے۔


بوڑھے والدین کو صرف دو وقت کی روٹی نہیں چاہیئے؛ انہیں اپنائیت چاہیے، گفتگو چاہیے، توجہ چاہیے، عزت چاہیے۔ ان کی کمزور آواز میں زندگی بھر کی محبت بول رہی ہوتی ہے۔ ان کے جھریوں بھرے ہاتھوں میں وہ قربانیاں چھپی ہوتی ہیں جن کے سہارے اولاد نے زندگی کی منزلیں طے کیں۔


کتنا بڑا المیہ ہے کہ جن ہاتھوں نے انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا، بڑھاپے میں وہی ہاتھ سہارا ڈھونڈتے رہ جائیں۔


اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ بڑھاپا رحمت ہے، زحمت نہیں۔ بوڑھے والدین جنت کا دروازہ ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«رغم أنفه، ثم رغم أنفه، ثم رغم أنفه، من أدرك والديه عند الكبر أحدهما أو كليهما ثم لم يدخل الجنة»


"وہ شخص ذلیل ہو، پھر ذلیل ہو، پھر ذلیل ہو جس نے اپنے والدین کو بڑھاپے میں پایا، ان میں سے ایک کو یا دونوں کو، پھر بھی جنت حاصل نہ کرسکا۔"


آج ضرورت اس بات کی ہے کہ نئی نسل ترقی کے ساتھ تعلقات کو بھی زندہ رکھے۔ اپنے گھروں کے بزرگوں کو بوجھ نہیں بلکہ برکت سمجھے۔ ان کے ساتھ بیٹھے، ان کی باتیں سنے، ان کے دل نہ توڑے، ان کی دعائیں لے۔ کیونکہ ایک وقت آئے گا جب یہی جوانی ڈھل جائے گی، یہ رعنائیاں ماند پڑ جائیں گی، یہ بہادری ٹل جائے گی، یہ طاقت وقوت کمزور پڑجائے گی، اور انسان کو اپنے ہی بچوں کی توجہ کا انتظار ہوگا۔


اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے والدین اور بزرگوں کی قدر کرنے، ان کی خدمت کرنے اور ان کی تنہائی کو محبت سے بھر دینے کی توفیق عطا فرمائے۔

(گیارہ ذی الحجہ چودہ سو سینتالیس ہجری)

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے