سنو سنو!!
امتحان صرف طلبہ کا نہیں، ممتحن کا بھی
(ناصرالدین مظاہری)
اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسانی نفسیات، صلاحیتوں اور طبقات کے فرق کو ملحوظ رکھتا ہے۔ اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد منقول ہے: «أَنْزِلُوا النَّاسَ مَنَازِلَهُمْ» یعنی لوگوں کو ان کے مراتب اور مقامات کے مطابق رکھو۔ اسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ مشہور ارشاد اہلِ علم کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہا ہے: «حَدِّثُوا النَّاسَ بِمَا يَعْرِفُونَ، أَتُحِبُّونَ أَنْ يُكَذَّبَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ؟» یعنی لوگوں سے وہ باتیں بیان کرو جنہیں وہ سمجھ سکیں، کیا تم چاہتے ہو کہ اللہ اور اس کے رسول کو جھٹلایا جائے؟
یہ دونوں نصوص ایک عظیم تعلیمی اور تربیتی اصول کی طرف رہنمائی کرتی ہیں کہ مخاطب کی علمی سطح، ذہنی استعداد اور فہم و ادراک کو نظر انداز کرکے گفتگو کرنا، تعلیم دینا یا اس سے سوال کرنا حکمت کے خلاف ہے۔
امتحانات کے موسم میں عموماً ساری توجہ طلبہ کی تیاری، ان کی کامیابی و ناکامی اور ان کی علمی صلاحیتوں پر مرکوز رہتی ہے، حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ امتحان کے موقع پر صرف طلبہ ہی کا امتحان نہیں ہوتا، بلکہ ممتحن بھی ایک خاموش امتحان سے گزر رہا ہوتا ہے۔ اگر طالب علم جواب نامہ لکھ رہا ہے تو ممتحن سوال نامہ مرتب کرکے اپنے علم، فہم، بصیرت اور عدل کا تعارف پیش کررہا ہوتا ہے۔
سوال نامہ دراصل ممتحن کا علمی تعارف نامہ ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سوال مرتب کرنے والا نصاب کے مقاصد سے کس حد تک واقف ہے، طلبہ کی ذہنی سطح کو کتنا سمجھتا ہے، تدریسی تجربے سے کتنا بہرہ مند ہے اور تعلیم کو کس زاویے سے دیکھتا ہے۔ بعض اوقات چند سوالات ہی ممتحن کی علمی پختگی یا سطحیت کا پورا نقشہ سامنے لے آتے ہیں۔
ایک کامیاب ممتحن وہ نہیں جو طلبہ کو حیران و پریشان کردے یا ایسے سوالات پوچھے جن کے جوابات تلاش کرنے کے لیے طلبہ کو پوری لائبریری کھنگالنی پڑے۔ کامیاب ممتحن وہ ہے جو مقررہ نصاب، مطلوبہ اہداف اور طلبہ کی استعداد کے مطابق ایسے سوالات مرتب کرے جن سے علم کی مقدار ہی نہیں بلکہ فہم کی کیفیت بھی سامنے آسکے۔
بعض حضرات امتحان کو اپنی علمی برتری کے اظہار کا ذریعہ بنالیتے ہیں۔ وہ ایسے پیچیدہ اور غیر متوقع سوالات پوچھنے میں فخر محسوس کرتے ہیں جن کا تعلق نہ نصاب سے ہوتا ہے، نہ تدریس سے اور نہ ہی تعلیمی مقاصد سے۔ بظاہر یہ طرزِ عمل ممتحن کی علمی رفعت کا اظہار معلوم ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ اس کی تدریسی کمزوری اور تعلیمی حکمت سے دوری کی علامت بن جاتا ہے۔
اگر کوئی شخص پانچویں آسمان پر بیٹھ کر زمین والوں سے ایسے سوالات کرے جن تک ان کی رسائی ہی نہ ہو تو اس سے زمین والوں کی نااہلی ثابت نہیں ہوتی، بلکہ سوال کرنے والے کی بے اعتدالی ظاہر ہوتی ہے۔ استاد اور ممتحن کا کام اپنی بلندیوں کا مظاہرہ کرنا نہیں بلکہ اپنے سامنے بیٹھے ہوئے طالب علم کی علمی سطح تک پہنچنا اور پھر اسے اوپر اٹھانا ہے۔
امتحان کا مقصد طالب علم کو شرمندہ کرنا نہیں بلکہ اس کی علمی کیفیت معلوم کرنا ہے۔ امتحان کا مقصد خامیاں تلاش کرنا نہیں بلکہ استعداد کا جائزہ لینا ہے۔ امتحان کا مقصد راستے بند کرنا نہیں بلکہ آئندہ سفر کی سمت متعین کرنا ہے۔ امتحان کا مقصد اساتذہ کو کمتر یا کہتر ظاہر کرنا نہیں ہوتا ، یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے ماہرینِ تعلیم اس بات پر متفق ہیں کہ سوالات تدریس اور نصاب سے ہم آہنگ ہونے چاہئیں، ورنہ امتحان اپنی افادیت کھو دیتا ہے۔
ممتحن کی ذمہ داری صرف سوالات مرتب کرنے تک محدود نہیں رہتی، بلکہ جوابات کی جانچ بھی ایک عظیم امانت ہے۔ ایک نمبر کم یا زیادہ ہوجانا بعض اوقات طالب علم کی آئندہ زندگی، اس کے اعتماد اور اس کے تعلیمی مستقبل پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اس لیے جانچ کے مرحلے میں انصاف، دیانت، اعتدال اور وسعتِ ظرف ناگزیر ہیں۔ جو ممتحن محض غلطیاں تلاش کرتا ہے وہ طالب علم کے ساتھ انصاف نہیں کرتا، اور جو خوبیوں کو بھی دیکھتا ہے وہ حقیقی معنوں میں معلم اور مربی ہوتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ امتحان کا انداز طلبہ کی ذہن سازی کرتا ہے۔ اگر سوالات صرف رٹنے اور یاد کرنے پر مبنی ہوں گے تو طلبہ کی ساری توانائیاں حافظے تک محدود ہوجائیں گی، لیکن اگر سوالات فہم، استنباط، تطبیق اور تجزیے کو جانچنے والے ہوں گے تو طلبہ میں غور و فکر کی عادت پیدا ہوگی۔ اس اعتبار سے ممتحن صرف جانچنے والا نہیں بلکہ آئندہ نسلوں کے علمی مزاج کی تشکیل کرنے والوں میں بھی شامل ہے۔
مدارس ہوں یا عصری جامعات، ہر جگہ اس حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ امتحان تعلیمی عمل کا ایک نہایت حساس مرحلہ ہے۔ یہاں ایک طرف طالب علم کی محنت کا فیصلہ ہوتا ہے اور دوسری طرف ممتحن کی بصیرت کا۔ طالب علم اپنی تیاری کے ذریعے اپنا مقام متعین کرتا ہے اور ممتحن اپنے سوالات اور اپنے فیصلوں کے ذریعے اپنا علمی و اخلاقی مقام ظاہر کرتا ہے۔
اس لیے یہ کہنا بالکل درست ہوگا کہ امتحان صرف طلبہ کا نہیں ہوتا، ممتحن کا بھی ہوتا ہے۔ طالب علم کے جوابات اس کی علمی محنت کا پتہ دیتے ہیں اور ممتحن کے سوالات اس کے فہمِ تعلیم کا۔ طالب علم اپنی یادداشت، فہم اور استعداد کا امتحان دیتا ہے اور ممتحن اپنی حکمت، دیانت، انصاف اور تربیتی بصیرت کا۔
کامیاب تعلیمی نظام وہی ہے جس میں طالب علم علم حاصل کرنے کی فکر میں ہو اور ممتحن عدل کے ساتھ علم کو جانچنے کے لئے مخلص ہو۔ جب یہ توازن قائم ہوجاتا ہے تو امتحان محض نمبرات کا کھیل نہیں رہتا بلکہ تعلیم و تربیت کا ایک بامقصد اور بابرکت مرحلہ بن جاتا ہے۔
(چودہ ذی الحجہ چودہ سو سینتالیس ہجری)

0 تبصرے