65a854e0fbfe1600199c5c82

قربانی کے جانور اور اسلام کی رحمت



 سنو سنو!!


قربانی کے جانور اور اسلام کی رحمت


(ناصرالدین مظاہری)


اسلام دینِ رحمت ہے۔ اس کی تعلیمات صرف انسانوں ہی کے لیے رحمت نہیں بلکہ حیوانات کے حقوق کی بھی محافظ ہیں۔ قربانی ایک عظیم عبادت ہے، مگر اس عبادت کی ادائیگی میں بھی اسلام نے جانوروں کے ساتھ نرمی، شفقت اور حسنِ سلوک کی بے مثال تعلیم دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے موقع پر ایسے اصول بیان فرمائے جن سے جانور کو کم سے کم تکلیف پہنچے اور اس کے دل میں خوف و دہشت پیدا نہ ہو۔


چھری خوب تیز کرنے کی تعلیم

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:


«إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذِّبْحَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ»


"بیشک اللہ تعالیٰ نے ہر چیز میں احسان کو لازم فرمایا ہے۔ لہٰذا جب تم قتل کرو تو اچھے طریقے سے کرو، اور جب ذبح کرو تو اچھے انداز سے ذبح کرو۔ تم میں سے ہر شخص اپنی چھری کو خوب تیز کرلے اور اپنے ذبیحہ کو راحت پہنچائے۔" (صحیح مسلم)


اس حدیث میں «وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ» کے الفاظ نہایت قابلِ غور ہیں؛ یعنی جانور کو آرام اور راحت پہنچانے کی کوشش کی جائے، اسے اذیت نہ دی جائے۔


جانور کے سامنے چھری تیز کرنے سے ممانعت


حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس سے گزرے جو ایک بکری کو لٹائے ہوئے تھا اور اسی کے سامنے چھری تیز کررہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:


«أَتُرِيدُ أَنْ تُمِيتَهَا مَوْتَتَيْنِ؟ هَلَّا حَدَدْتَ شَفْرَتَكَ قَبْلَ أَنْ تُضْجِعَهَا؟»


"کیا تم اسے دو مرتبہ مارنا چاہتے ہو؟ تم نے اسے لٹانے سے پہلے اپنی چھری کیوں نہ تیز کرلی؟" (المستدرک للحاکم)


یعنی جانور کے سامنے چھری تیز کرنا اس کے دل میں خوف پیدا کرنا ہے، اور اسلام اس اذیت سے بھی منع کرتا ہے۔


ایک جانور کو دوسرے کے سامنے ذبح نہ کرنا


حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:


"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ ایک جانور کو دوسرے جانور کے سامنے ذبح کیا جائے۔"


اس ممانعت کی حکمت واضح ہے کہ جانور بھی خوف اور دہشت محسوس کرتے ہیں۔ اسلام نہیں چاہتا کہ قربانی جیسی عبادت ظلم اور سنگ دلی کا منظر بن جائے۔

جانور کو مارنے پیٹنے سے ممانعت

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کو بلاوجہ تکلیف دینے سے سختی سے منع فرمایا۔ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے گدھے کو دیکھا جس کے چہرے پر داغ لگایا گیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«لَعَنَ اللَّهُ مَنْ وَسَمَهُ»

"اللہ کی لعنت ہو اس شخص پر جس نے اس کے چہرے پر داغ لگایا۔" (صحیح مسلم)


جب اسلام چہرے پر نشان لگانے جیسی تکلیف کو ناپسند کرتا ہے تو ذبح کے وقت بے رحمی اور سختی کو کیسے پسند کرسکتا ہے۔


جانور کو بھوکا پیاسا نہ رکھنا


احادیثِ مبارکہ میں جانوروں کو بھوکا پیاسا رکھنے پر سخت وعید آئی ہے۔ ایک عورت کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ایک بلی کو باندھ کر بھوکا رکھنے کی وجہ سے عذاب میں مبتلا ہوئی۔ (صحیح بخاری)


اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قربانی کے جانور کے کھانے پینے، آرام اور صحت کا خیال رکھنا بھی دینی ذمہ داری ہے۔


جانور پر رحم کرنے والوں کے لیے بشارت


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:


«الرَّاحِمُونَ يَرْحَمُهُمُ الرَّحْمٰنُ»

"رحم کرنے والوں پر رحمن رحم فرماتا ہے۔" (سنن ترمذی)


اسلام چاہتا ہے کہ مسلمان کے دل میں ہر مخلوق کے لیے رحم اور نرمی ہو۔ قربانی عبادت ہے، مگر اس عبادت کا حسن اسی وقت مکمل ہوتا ہے جب اس میں تقویٰ کے ساتھ رحمت بھی شامل ہو۔


پیغام قربانی:



قربانی محض جانور ذبح کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ اطاعت، ایثار، تقویٰ اور رحمت کا درس ہے۔ قرآنِ کریم میں فرمایا گیا:


﴿لَنْ يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلٰكِنْ يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ﴾


"اللہ تک نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون، بلکہ اس تک تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔" (سورۃ الحج: 37)


لہٰذا مسلمان کو چاہیے کہ قربانی کے موقع پر سنتِ نبوی کی ان تعلیمات کا خاص اہتمام کرے:


چھری خوب تیز کرے۔


جانور کو تکلیف نہ دے۔


دوسرے جانوروں کے سامنے ذبح نہ کرے۔


ذبح میں جلدی اور نرمی اختیار کرے۔


جانور کو مارنے پیٹنے اور خوف زدہ کرنے سے بچے۔


اسی میں سنت کی پیروی اور عبادت کی روح پوشیدہ ہے۔


یہ سطور لکھنے کا سبب ایک ویڈیو بنی، جس میں کسی اسلامی ملک کے مذبح خانے میں ایک اونٹ کے سامنے دوسرا اونٹ ذبح کیا جارہا تھا، اور زندہ اونٹ کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرتے صاف دیکھے جاسکتے تھے۔


وہ منظر دیکھ کر مجھے نبوی ہدایات، نبوی شفقت اور رحمت یاد آتی چلی گئیں، اور انہی ہدایات کو موتیوں کی لڑی میں پرونے کی کوشش کرتا رہا، یہاں تک کہ یہ مضمون وجود میں آگیا۔


(دس ذی الحجہ چودہ سو سینتالیس ہجری)

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے