65a854e0fbfe1600199c5c82

مطلب پرستوں کے سلام



 سنو سنو!!


"مطلب پرستوں کے سلام"


(ناصرالدین مظاہری)


زمانۂ طالب علمی میں نوید P C.O.سہارنپور کی دکان کے اندر ایک اسٹیکر دیوار پر چسپاں تھا اس پر ایک زبردست تجربہ اور نصیحت لکھی ہوئی تھی کہ


"جب تک آپ کی جیب میں پیسے ہیں سبھی کہتے ہیں آپ کیسے ہیں"


کل ایک خبر دل میں اترتی چلی گئی۔ کہا گیا کہ مشہور شاعر بشیر بدرؔ کے جنازے میں لگ بھگ بیس افراد شریک ہوئے۔ خبر شاید مختصر تھی، مگر اپنے اندر ایک پورا نوحہ سموئے ہوئے تھی۔ ایک ایسا شاعر جس کے اشعار دہائیوں تک لوگوں کے لبوں پر رہے، جس کے مصرعے محبت کرنے والوں کی زبان بنے، جس کے لفظوں نے تنہائی، جدائی، امید اور شکستگی کو لہجہ عطا کیا، اُس کی رخصتی اس خاموشی سے ہوئی کہ آدمی دیر تک سوچتا رہ جائے۔


یہ صرف ایک شاعر کی تنہا رخصتی نہیں؛ یہ ہمارے معاشرے کے بدلتے ہوئے مزاج کی کہانی بھی ہے۔ ہم اُس وقت تک لوگوں کے گرد جمع رہتے ہیں جب تک اُن سے ہماری کوئی وابستگی، کوئی منفعت، کوئی فائدہ وابستہ ہو۔ جب انسان بڑھاپے، بیماری، کمزوری یا نسیان کے حصار میں چلا جاتا ہے تو رفتہ رفتہ اُس کے گرد موجود ہجوم بھی چھٹنے لگتا ہے۔


بشیر بدرؔ صاحب کئی برسوں سے ڈِمینشیا جیسے مرض میں مبتلا تھے۔ یادداشت کا یہ زوال صرف حافظے کو متاثر نہیں کرتا، بلکہ انسان کو سماجی طور پر بھی تنہا کردیتا ہے۔ لوگ آنا جانا کم کردیتے ہیں، محفلیں بدل جاتی ہیں، فون خاموش ہونے لگتے ہیں، اور وہ شخصیت جو کبھی مرکزِ نگاہ تھی، آہستہ آہستہ زندگی کے حاشیے پر دھکیل دی جاتی ہے۔

یہ المیہ صرف بشیر بدرؔ کا نہیں۔ ہمارے معاشرے میں اکثر بزرگ اسی انجام سے دوچار ہوتے ہیں۔ جب تک اُن کے پاس قوت، عہدہ، اثر، مال یا “استعمال” کی کوئی صورت باقی رہتی ہے، لوگ اُن کے گرد رہتے ہیں۔ مگر جیسے ہی عمر اُن کے ہاتھوں سے اختیار چھین لیتی ہے، تعلقات کی چمک بھی مدھم پڑنے لگتی ہے۔ انسان زندہ ہوتا ہے مگر اُس کی سماجی موجودگی گویا ختم ہونے لگتی ہے۔


اور شاید اسی تلخ تجربے نے بشیر بدرؔ سے یہ شعر کہلوایا تھا:


"یہ مطلبوں کے سلام تھے"


واقعی، ہمارے زمانے کے اکثر سلام خلوص کے نہیں، مطلب کے سلام ہیں۔ ہم لوگوں سے اُن کی ذات کی وجہ سے کم اور اپنی ضرورتوں کی وجہ سے زیادہ جڑتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب ضرورت باقی نہیں رہتی تو تعلق بھی رسمی ہوکر رہ جاتا ہے۔


بھوپال جیسے شہر میں، جو ادب و تہذیب کا گہوارہ سمجھا جاتا ہے، جہاں ادیب، شاعر، صحافی، دانش ور اور سیاست دانوں کی کمی نہیں، اگر ایک بڑے شاعر کی آخری یاترا اتنی مختصر ہوجائے تو یہ صرف افراد کی بے حسی نہیں بلکہ پورے معاشرتی مزاج کا آئینہ ہے۔ سوال صرف یہ نہیں کہ کتنے لوگ جنازے میں شریک ہوئے؛ اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے زندہ لوگوں کو اپنی یادوں میں زندہ رکھنے کا سلیقہ کیوں کھودیا؟


شاید ہم ایک ایسے دور میں داخل ہوچکے ہیں جہاں انسان کی قدر اُس کی انسانیت سے نہیں بلکہ اُس کی افادیت سے کی جاتی ہے۔ جو شخص “کارآمد” ہے وہ محترم ہے، اور جو کمزور، بیمار یا بےبس ہوگیا، وہ آہستہ آہستہ نظروں سے اوجھل ہونے لگتا ہے۔


بڑھاپا دراصل زندگی کا وہ مرحلہ ہے جہاں انسان کو سب سے زیادہ محبت، توجہ، گفتگو اور رفاقت کی ضرورت ہوتی ہے؛ مگر افسوس یہی وہ عمر ہے جہاں اُسے سب سے زیادہ تنہائی ملتی ہے۔


بشیر بدرؔ کی خاموش رخصتی شاید ہم سب کے لیے ایک سوال چھوڑ گئی ہے:

کیا ہمارے تعلقات واقعی محبت پر قائم ہیں، یا وہ صرف "مطلبوں کے سلام" ہیں؟


(بارہ ذی الحجہ چودہ سو سینتالیس ہجری)

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے