سنو سنو!!
فیل سے فعل تک
(قسط 1)
(ناصرالدین مظاہری)
نتائج کا دن تھا۔ کسی گھر میں مٹھائیاں تقسیم ہورہی تھیں، کہیں مبارک باد کے پیغامات آرہے تھے، کسی ماں کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے اور کسی باپ کا سینہ فخر سے چوڑا ہورہا تھا۔ لیکن اسی شور و ہنگامے کے درمیان ایک بچہ خاموش بھی بیٹھا تھا۔ اس کے ہاتھ میں بھی نتیجہ تھا، مگر اس کے چہرے پر مسکراہٹ نہیں تھی۔ اس کی نگاہیں جھکی ہوئی تھیں، دل بوجھل تھا اور دماغ میں ایک ہی لفظ گونج رہا تھا: فیل۔
ہماری نظر میں شاید یہ ایک لفظ ہو، لیکن اس بچے کے لیے یہ ایک فیصلہ بن جاتا ہے۔ ایسا فیصلہ جس کے بعد بعض لوگ اس سے نظریں چرانے لگتے ہیں، بعض اسے ناکام انسان سمجھ لیتے ہیں اور بعض اس کے مستقبل پر خطِ تنسیخ پھیر دیتے ہیں۔
لیکن میں پوچھتا ہوں کہ آخر کیوں؟
کیا یہ بچہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق نہیں ہے؟
کیا اس کی آنکھوں میں خواب نہیں ہیں؟
کیا اس کے سینے میں دھڑکتا ہوا دل نہیں ہے؟
کیا اس کے اندر صلاحیتوں کے خزانے دفن نہیں ہوسکتے؟
اگر چند بچے امتحان میں نمایاں کامیابی حاصل کرلیں تو ہم انہیں اپنے سروں پر بٹھاتے ہیں، ان کے لیے جلسے منعقد کرتے ہیں، انعامات دیتے ہیں اور ان کی تصویریں دیواروں پر آویزاں کرتے ہیں؛ مگر جو بچے ناکام ہوجاتے ہیں، ان کے حصے میں اکثر خاموشی، بے اعتنائی اور ملامت آتی ہے۔
یوں محسوس ہوتا ہے جیسے تعلیمی اداروں، اساتذہ اور سرپرستوں کی ساری محبت صرف "کریم طلبہ" کے لیے مخصوص ہو۔
سوال یہ ہے کہ پھر فیل ہونے والے بچے کہاں جائیں؟
اگر سبھی کو عمدہ فصل چاہیے تو کمزور پودوں کی آبیاری کون کرے گا؟
اگر سبھی کو چمکتے ہوئے ستارے عزیز ہیں تو بجھتے ہوئے چراغوں کو روشن کون کرے گا؟
اگر سبھی کامیاب بچوں کے ساتھ کھڑے ہوں گے تو ناکام بچوں کا ہاتھ کون تھامے گا؟
مدارس ہوں یا اسکول، کامیاب طلبہ یقیناً قابلِ قدر ہیں؛ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اصل استاد وہ ہے جو کمزور طالب علم کو سنبھال لے۔ جو تیز رفتار گھوڑے پر سوار ہوجائے، اس کی مہارت کا اندازہ نہیں ہوتا؛ مہارت تو تب ہے جب وہ لڑکھڑاتے قدموں کو راستہ دکھائے۔
ایک بچے کے فیل ہوجانے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ علم سے محروم ہے، عقل سے خالی ہے یا زندگی میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ ہوسکتا ہے اس کا ذہن کتابی امتحانوں کے لیے موزوں نہ ہو، مگر وہ کسی اور میدان میں غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہو۔ ہوسکتا ہے گھر کے حالات نے اسے پڑھنے نہ دیا ہو۔ ہوسکتا ہے غربت، محرومی، بے توجہی یا غلط ماحول نے اس کی رفتار سست کردی ہو۔
ایسے بچوں کو سزا نہیں، سہارا چاہیے۔
انہیں طعنہ نہیں، توجہ چاہیے۔
انہیں مایوسی نہیں، امید چاہیے۔
افسوس تو یہ ہے کہ بعض اوقات وظائف، امداد اور سرپرستی کا معیار بھی صرف اچھے نمبر بن جاتے ہیں، گویا مستحق وہی ہے جو نمایاں کامیابی حاصل کرے۔ حالانکہ سب سے زیادہ توجہ کا مستحق تو وہ بچہ ہے جو پیچھے رہ گیا ہے، جو لڑکھڑا رہا ہے اور جو کسی شفیق ہاتھ کا منتظر ہے۔
کسان اگر صرف مضبوط پودوں کو پانی دے اور کمزور پودوں کو سوکھنے کے لیے چھوڑ دے تو کھیت کبھی مکمل سرسبز نہیں ہوسکتا۔ ایک دانا کسان جانتا ہے کہ زیادہ محنت اسی پودے پر کرنی پڑتی ہے جو کمزور ہو۔ اساتذہ اور مربیان بھی معاشرے کے کسان ہیں۔ ان کی اصل کامیابی ذہین طلبہ کی تعداد سے نہیں، بلکہ ان کمزور بچوں کی اصلاح اور ترقی سے ناپی جانی چاہیے جنہیں دنیا ناکام سمجھ رہی ہوتی ہے۔
یاد رکھیے! ہر فیل ہونے والا بچہ ناکام نہیں ہوتا اور ہر اول آنے والا زندگی کا فاتح نہیں بنتا۔ امتحان کے چند پرچے کسی انسان کی پوری شخصیت کا پیمانہ نہیں ہوسکتے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم "فیل" کے لفظ کو بدنامی کا نشان نہ بنائیں بلکہ اسے "فعل" کی طرف سفر کا پہلا قدم سمجھیں۔ ہم ان بچوں کو یہ احساس دلائیں کہ ان کے لیے بھی دروازے کھلے ہیں، ان کے لیے بھی امکانات زندہ ہیں اور ان کے لیے بھی کامیابی کی منزلیں منتظر ہیں۔
کیونکہ جس رب نے ذہین بچوں کو پیدا کیا ہے، اسی رب نے کمزور بچوں کو بھی پیدا فرمایا ہے۔ اور ربِّ کریم کی کسی تخلیق کو حقارت کی نگاہ سے دیکھنے کا اختیار کسی کو نہیں۔
کون جانتا ہے کہ آج جس بچے کے نام کے سامنے "فیل" لکھا ہے، کل تاریخ اسی کے نام کے سامنے "کامیاب" لکھنے پر مجبور ہوجائے۔
بس شرط یہ ہے کہ کوئی اس کا ہاتھ تھامنے والا ہو، کوئی اس پر یقین کرنے والا ہو اور کوئی اسے فیل سے فعل تک پہنچانے والا ہو۔
(جاری ہے)
( پندرہ ذی الحجہ چودہ سو سینتالیس ہجری )

0 تبصرے