سنو سنو!!
فیل سے فعل تک
(قسط 2)
(ناصر الدین مظاہری)
امتحان میں فیل ہونے والے بچوں کے ساتھ ہمارا رویہ
ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ امتحان میں ناکامی کسی بچے کی زندگی کا اختتام نہیں بلکہ ایک مرحلہ ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں نمبرات کو قابلیت، عزت اور کامیابی کا واحد پیمانہ سمجھ لیا گیا ہے۔ نتیجتاً جو بچہ فیل ہوجاتا ہے، وہ صرف ایک پرچے میں نہیں ہارتا بلکہ اسے یوں محسوس کرایا جاتا ہے جیسے وہ زندگی کی دوڑ سے ہی باہر ہوگیا ہو۔
گھر میں طعنے، رشتہ داروں کے سوالات، دوستوں کے مذاق اور اساتذہ کی بے رخی مل کر اس کے دل پر ایسے زخم لگاتے ہیں جو بعض اوقات برسوں نہیں بھرتے۔ حالانکہ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کے بے شمار کامیاب لوگ تعلیمی زندگی میں بارہا ناکام ہوئے، مگر انہیں ایسے ہاتھ میسر آگئے جنہوں نے گرنے پر سہارا دیا، دھتکارا نہیں۔
فیل ہونے والا بچہ سب سے پہلے نصیحت نہیں، محبت چاہتا ہے۔ اسے لیکچر نہیں، اعتماد درکار ہوتا ہے۔ اسے یہ سننے کی ضرورت ہوتی ہے کہ "تمہاری قدر صرف نمبروں سے نہیں، تمہاری محنت، کردار اور صلاحیتوں سے ہے۔"
یاد رکھیے! ایک ناکام نتیجہ زندگی کا فیصلہ نہیں کرتا، لیکن ہمارا رویہ ضرور کسی بچے کے مستقبل کا فیصلہ کرسکتا ہے۔ اگر ہم نے اس کے دل میں امید جگادی تو وہ دوبارہ کھڑا ہوسکتا ہے، اور اگر ہم نے اسے حقارت کی نگاہ سے دیکھا تو ممکن ہے وہ خود کو ہمیشہ کے لیے ہارا ہوا سمجھ بیٹھے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے بچوں کو یہ سکھائیں کہ ناکامی جرم نہیں، سیکھنے کا ایک مرحلہ ہے۔ جو بچہ گر کر اٹھنا سیکھ لیتا ہے، وہی آگے چل کر زندگی کے بڑے معرکے سر کرتا ہے۔
(سولہ ذی الحجہ چودہ سو سینتالیس ہجری)

0 تبصرے