65a854e0fbfe1600199c5c82

فیل سے فعل تک (قسط 3)



سنو سنو!!


فیل سے فعل تک 


(قسط 3)


(ناصرالدین مظاہری)


جوہری کی تلاش میں ہیرے:


جس طرح گدڑی میں لعل، دریا میں موتی اور سمندر میں سیپ پوشیدہ ہوتے ہیں، اسی طرح مدارس، مکاتب، کالجوں، یونیورسٹیوں، عوامی مقامات، گاؤں دیہات، جنگلوں، پہاڑوں اور ریگستانوں میں بھی بے شمار ایسی صلاحیتیں موجود ہوتی ہیں جو مناسب مواقع نہ ملنے کی وجہ سے نظروں سے اوجھل رہ جاتی ہیں۔


ہیرے کی پرکھ جوہری کو ہوتی ہے، سونے کی شناخت زرگر کرتا ہے، کھیتی کی کیفیت کسان جانتا ہے اور ہر فن کا ماہر اپنے میدان کے جوہر شناسوں میں شمار ہوتا ہے۔ جب حالات سازگار ہوں، ماحول موافق ہو اور اسباب میسر آجائیں تو مسبب الاسباب بھی ایسے راستے کھول دیتا ہے جن کا انسان نے کبھی تصور بھی نہ کیا ہو۔


لیکن اگر کوئی شخص اپنی صلاحیت اور اپنے میدان سے بے خبر ہو جائے تو اس کی مثال اس مسافر کی سی ہے جو منزلِ مقصود کے بجائے کسی اور سمت روانہ ہو جائے۔ آپ دہلی کے مصروف بازاروں میں کھیتی باڑی شروع کردیں، کسی ریگستان میں دھان اگانے کی کوشش کریں، کسی پہاڑ کی چوٹی پر کشتی رانی کا مرکز قائم کردیں، یا موسم اور حالات سے بے نیاز ہوکر ایسے کاموں میں لگ جائیں جن کا کامیابی سے کوئی تعلق نہ ہو، تو لوگ آپ کو عجیب نگاہوں سے دیکھیں گے۔ وجہ صرف یہ ہوگی کہ آپ ایسی راہ پر چل پڑے ہیں جو منزل تک نہیں بلکہ ناکامی تک پہنچاتی ہے۔


فارسی کا مشہور شعر ہے:


ترسم نرسی بہ کعبہ اے اعرابی

کیں رہ کہ تو می روی بترکستان است

(اے مسافر! مجھے اندیشہ ہے کہ تو کعبہ تک نہیں پہنچ سکے گا، کیونکہ جس راستے پر تو چل رہا ہے وہ ترکستان کی طرف جاتا ہے۔)


زندگی میں بھی یہی اصول کارفرما ہے۔ بہت سے لوگ ناکام نہیں ہوتے، بلکہ غلط جگہ کھڑے ہوتے ہیں۔

دنیا نے ایسے بے شمار مناظر دیکھے ہیں کہ غیر معمولی ذہانت رکھنے والے افراد گمنامی کی زندگی گزار گئے اور معمولی صلاحیت رکھنے والے لوگ بلند مناصب تک جا پہنچے۔ کتنے ہی ذہین دماغ حالات کی چکی میں پس گئے، کتنے ہی باصلاحیت افراد ناقدروں کی ناقدری کا شکار ہوئے، اور کتنے ہی ہیرے جواہرات قدردان نہ ملنے کی وجہ سے مٹی میں دبے رہ گئے۔


کتنے ہی ڈرائیور اپنے مالکان سے زیادہ فہم و فراست رکھتے ہیں، کتنے ہی کارکن اپنے افسروں سے زیادہ دور اندیش ہوتے ہیں، کتنے ہی طلبہ ایسے ہوتے ہیں جن میں غیر معمولی صلاحیتیں پوشیدہ ہوتی ہیں، لیکن انہیں اپنی قابلیت کے اظہار کا موقع نہیں مل پاتا۔ کتنی ہی اولاد عقل و دانش، فہم و شعور اور تدبر میں اپنے بڑوں سے آگے نکل جاتی ہے۔


اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے:


رُبَّ مُبَلَّغٍ أَوْعَى مِنْ سَامِعٍ

"بعض اوقات جس تک بات پہنچائی جاتی ہے وہ سنانے والے سے زیادہ سمجھ دار ثابت ہوتا ہے۔"


دنیا نے یہ منظر بھی بارہا دیکھا ہے کہ تیز رفتار گھوڑا اپنی سستی، غفلت یا بے توجہی کی وجہ سے پیچھے رہ گیا، جبکہ ایک معمولی رفتار رکھنے والا گھوڑا مسلسل محنت، ثابت قدمی اور جہدِ مسلسل کے بل پر سبقت لے گیا۔ صلاحیت یقیناً اہم ہے، مگر کامیابی صرف صلاحیت کا نام نہیں؛ کامیابی صلاحیت، محنت، درست سمت اور مناسب مواقع کے امتزاج سے وجود میں آتی ہے۔


آج ضرورت ایسے داناؤں، ہوشمندوں، درد مندوں، فکر مندوں اور حساس دل رکھنے والے انسانوں کی ہے جو میدانِ عمل میں اتریں، گرتوں کو سہارا دیں، ناامیدوں کی امید بنیں، بجھے ہوئے جذبوں میں حرارت پیدا کریں اور ان صلاحیتوں کو تلاش کریں جو حالات کے گرد و غبار میں گم ہوچکی ہیں۔


(سولہ ذی الحجہ چودہ سو سینتالیس ہجری)

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے