65a854e0fbfe1600199c5c82

کچھ ضرورت اس کی بھی (ایک غیر مسلم سے گفتگو)



کچھ ضرورت اس کی بھی 

(ایک غیر مسلم سے گفتگو)



 تعطیل بقرعید ختم ہونے کے بعد راقم دارالعلوم دیوبند کے سفر کے لیے "خواجہ غریب نواز ایکسپریس" پر سوار ہے، یہ گاڑی کشن گنج سے چل کر مؤو، لکھنؤاور دہلی کے راستے اجمیر شریف تک جاتی ہے۔ ٹرین جب شام کو مؤو اسٹیشن پہنچی تو یہیں کا ایک غیرمسلم تعلیم یافتہ نوجوان سوار ہوا، اس کے پاس سیٹ نہیں تھی تو میں نے اسلامی اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے اپنی آدھی سیٹ دے دی، لمحوں بعد سلسلہ کلام شروع ہوا:

      میں نے پوچھا: بھائی! کہاں جانا ہے؟ کہا: لکھنؤ، کیا کرتے ہو؟ کہا: پڑھائی، پڑھ کر کیا بننا ہے؟ کہا: آرمی آفیسر، پھر یہی سوالات اس نے مجھ سے بھی کیے؛ میں نے کہا: سہارنپور ضلعے  میں واقع ایک بہت ہی بڑا مدرسہ 'دارالعلوم دیوبند' ہے وہیں پڑھتا ہوں، اس نے کہا: میں سہارنپور جانتا ہوں نہ یہ مدرسہ، تو میں نہایت متحیر ہوا اور اسے بتانے لگا کہ یہ ضلع آپ کے یوپی میں ہی پڑتا اس کے بعد اتراکھنڈ آتاہے۔


       اور "دارالعلوم دیوبند" وہ مدرسہ ہے جس کا ملک کی آزادی میں بڑا اہم کردار رہا، آپ تاریخ پڑھیں گے تو فریڈم کی ہسٹری میں اس کا اہم تذکرہ پائیں گے، اسی کی وجہ سے دیش آزاد ہوا؛ کیونکہ یہاں سے وہ مردان کار پڑھ کر نکلے جنہوں نے انگریزی استعمار ک ناکوں چنے چبوادیے اور انھیں یہاں سے نکال کر دم لیا، وہ بھی معترف ہوا کہ ہاں! اس کا آزادی میں حصہ ہے۔ پھر میں نے اس کو دارالعلوم کی سپید و سرخ عمارت والی مشہور تصویر (دارالحدیث) دکھائی تو وہ پہچان گیا، مزید میں نے اسے دارالعلوم کی ویب سائٹ انگلش موڈ میں نکال کر دی اور اس سے پڑھوایا۔

      آخرش وہ اعتراف کرتے ہوئے قائل ہوگیا کہ دارالعلوم دیوبند کا کیا مقام ہے؟ دارالعلوم کی عظمت اس کے دل میں بیٹھ گئی اور وہ مجھ سے کافی متاثر بھی ہوا، خوب عزت بھی کرنے لگا۔


      مقصد تحریر یہ کہ ہم کو بہ کو موقع بہ موقع برادران وطن کے تعلیم یافتہ طبقے کو یہ باتیں ذہن نشین کرائیں، صحیح ہندوستانی تاریخ بتائیں، اسلامی تعلیمات سے بھی واقف کرائیں اور اس سے پہلے کہ وہ دارالعلوم وغیرہ کے بارے منفی رویے سے متاثر کیے جائیں ان کو مثبت پہلو سے آگاہ کر دیں!

      ضرورت اس کی بھی ہے کہ ہم انھیں بتائیں کہ یہ مدرسے دہشت گردی کے اڈے نہیں ہیں جیساکہ گمراہ کیا جاتاہے؛ بلکہ یہ مدارس امن و اماں کی قیام گاہ ملکی وفاداری کی تعلیم گاہ اور فکر و عمل کی جولان گاہ ہیں، یہاں سے وہ علماء و مجاہدین نکلے اور نکلتے ہیں جو دیش کی خاطر اپنا تن من دھن سب لٹادیتے ہیں، دہشت گردی و ملکی غلامی کو ختم کرنے کے لیے جان کی بھی بازی لگا دیتے ہیں۔


قلمکش افکار:

اسجد نعمانی کشن گنجی

(13/ذی الحجہ/47ھ=1/جون

بہ وقت فجر در سفر)

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے