سنو سنو!!
عادتِ عبادت
(ناصرالدین مظاہری)
اگر آپ کوئی کار یا دوسری گاڑی تیز رفتاری سے چلا رہے ہوں، پھر اچانک ایکسیلیٹر چھوڑ دیں یا انجن بند بھی کر دیں، تو گاڑی کچھ فاصلے تک اپنی سابقہ رفتار کے اثر سے چلتی رہتی ہے۔ اسے رفتار کا تسلسل (Momentum) کہتے ہیں۔
اسی طرح کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ آدمی کسی وظیفے، ذکر یا تلاوت میں مشغول ہو اور اچانک اس پر نیند کا غلبہ آ جائے، مگر زبان پر ذکر جاری رہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زبان، دل اور دماغ اس عمل کے اس قدر عادی ہو چکے ہوتے ہیں کہ شعور کی کمزوری بھی اس تسلسل کو فوراً ختم نہیں کر پاتی۔
بالکل یہی حال ہماری زندگی کا ہے۔ اگر انسان اپنی جوانی اور صحت کے زمانے میں عبادت، ذکر، تلاوت اور طاعات کا خوگر بن جائے تو عمر کے آخری حصے میں، جب جسم کمزور، حافظہ مضمحل اور دماغ سست پڑ جاتا ہے، تب بھی وہی پرانی نیک عادتیں اس کا ہاتھ تھام لیتی ہیں۔ گویا عبادت کی مسلسل مشق بڑھاپے کا سب سے قیمتی سرمایہ بن جاتی ہے۔
اس حقیقت پر مجھے اپنی آنکھوں دیکھی تین مثالیں یاد آتی ہیں۔
(1) حضرت مولانا سید وقار علی بجنوریؒ
استاذِ محترم حضرت مولانا سید وقار علی بجنوریؒ اپنے زمانے کے جلیل القدر عالم تھے۔ علمِ فرائض (میراث) میں پورے ہندوستان میں آپ کا جواب مشکل سے ملتا تھا۔ پیچیدہ سے پیچیدہ وراثت کے مسائل آپ پل بھر میں حل کر دیتے تھے۔ کبھی خوش طبعی کے انداز میں فرمایا کرتے تھے:
"سورۂ فاتحہ تو شاید بھول جاؤں، لیکن ان شاء اللہ سراجی نہیں بھولوں گا۔"
مگر جب عمر کے آثار غالب ہوئے تو حافظہ بہت کمزور ہو گیا۔ پہلے احباب و متعلقین کو بھولے، پھر شاگردوں اور خادموں کو، یہاں تک کہ اپنے بچوں کے نام بھی یاد نہ رہتے تھے۔ لیکن جونہی نماز کا وقت ہوتا، قریب موجود طلبہ، اساتذہ یا مدرسے کے کسی ملازم سے فرماتے:
"مجھے وضو کرا دو، نماز کا وقت ہو گیا ہے۔"
گویا نماز کی عادت حافظے سے بھی زیادہ مضبوط ثابت ہوئی۔
(2) حضرت مولانا مفتی عبدالقیوم رائے پوریؒ
حضرت مولانا مفتی عبدالقیوم رائے پوریؒ نہایت متقی، عابد، زاہد اور شریف النفس بزرگ تھے۔ ان کی پوری زندگی عبادت، تقویٰ اور خدمتِ دین سے عبارت تھی۔ مظاہر علوم میں تدریس فرمائی، دارالافتاء کی ذمہ داری سنبھالی، اٹھارہ برس تک ہدایہ پڑھائی، پھر بعض حالات کے پیشِ نظر حضرت مفتی مظفر حسینؒ کی اجازت سے مظاہر علوم وقف سے خانقاہ رائے پور تشریف لے گئے، جہاں اصلاح و تربیت کے ذریعے بے شمار لوگوں کو فائدہ پہنچایا۔
زندگی کے آخری ایام میں کئی سال تک آپ پر سکوت طاری رہا۔ گفتگو تقریباً بالکل بند ہو گئی تھی، لیکن اس عالم میں بھی جب کبھی زبان حرکت کرتی تو صاف اور واضح انداز میں "اللہ، اللہ" کی صدا سنائی دیتی تھی۔ معلوم ہوتا تھا کہ ذکرِ الٰہی آپ کی روح میں اس طرح رچ بس گیا تھا کہ زبان کی کمزوری بھی اسے نہ روک سکی۔
(3) حضرت مولانا شاہ محمد قمر الزماں الہ آبادی دامت برکاتہم
تیسری مثال ہمارے حضرت مولانا شاہ محمد قمر الزماں الہ آبادی دامت برکاتہم کی ہے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک ہی نشست میں کسی قریبی شخص کا نام ایک سے زیادہ مرتبہ دریافت فرما لیتے ہیں، لیکن جونہی تقریر کے لیے تشریف رکھتے ہیں، علوم و معارف کا ایسا دریا بہتا ہے کہ سننے والا حیرت میں ڈوب جاتا ہے۔ نادر علمی نکات، دقیق کتابی مباحث اور قیمتی معلومات اس روانی سے بیان فرماتے ہیں کہ آدمی سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ چند لمحے پہلے جو نسیان اور ذہول نظر آ رہا تھا، وہ اب کہاں چلا گیا؟
یہ سب اس بات کا زندہ ثبوت ہے کہ علم اور عبادت جب انسان کی طبیعت کا حصہ بن جائیں تو بڑھاپا، ضعف اور نسیان بھی ان کے اثرات کو مکمل طور پر ختم نہیں کر سکتے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنی زندگی کو ایسی نیک عادتوں سے آراستہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے کہ آخری سانس تک ہماری زبان پر اس کا ذکر، ہمارے اعضاء میں اس کی اطاعت، اور ہمارے دل میں اس کی محبت باقی رہے۔ آمین۔
( انیس محرم الحرام چودہ سو اڑتالیس ہجری )

0 تبصرے