65a854e0fbfe1600199c5c82

منفی سوچ کے اسیر



 سنو! سنو!!


منفی سوچ کے اسیر


(ناصرالدین مظاہری)


کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی عادت ہی منفی سوچنے، منفی بولنے اور منفی زاویۂ نگاہ سے ہر چیز کو دیکھنے کی بن جاتی ہے۔ انہیں پھول میں بھی کانٹا نظر آتا ہے، چاند میں بھی داغ دکھائی دیتا ہے، اور سورج کی روشنی میں بھی اندھیرے تلاش کرنے کی عادت ہوتی ہے۔ یہ تعریف میں تنقیص، اخلاص میں ریا، خدمت میں مفاد، کامیابی میں سازش اور خیرخواہی میں کوئی نہ کوئی کھوٹ ضرور نکال لیتے ہیں۔


ان کے دل حسد کی آگ میں اس طرح سلگتے رہتے ہیں کہ دوسروں کی خوشی انہیں اپنی مصیبت معلوم ہوتی ہے۔ قرآنِ کریم بار بار دلوں کو پاک کرنے، بدگمانی سے بچنے، غیبت سے اجتناب کرنے اور حسنِ ظن اختیار کرنے کی تعلیم دیتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زبان اور دل دونوں کی اصلاح کا حکم دیتے ہیں، مگر یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو پہلے ہی فیصلہ کرچکے ہوتے ہیں کہ انہیں ہر حال میں بال کی کھال نکالنی ہے، خواہ اس کے لیے انصاف کا گلا ہی کیوں نہ گھونٹنا پڑے۔


یہ گرتے ہوئے کو سہارا نہیں دیتے بلکہ دھکا دیتے ہیں، اور جو اٹھنے لگے اس کی ٹانگ کھینچ کر دوبارہ گرانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کسی کی عزت، مقبولیت، خدمت، علمی ترقی یا عوامی پذیرائی ان سے برداشت نہیں ہوتی۔ غیبت ان کی گفتگو کا حسن، چغلی ان کی مجلس کی رونق، الزام ان کا ہتھیار اور تہمت ان کا پسندیدہ مشغلہ بن جاتا ہے۔ زبان پر احتیاط کم اور الزام تراشی زیادہ ہوتی ہے۔


ان کے چہروں پر بشاشت کم اور ناگواری زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ ان کی دنیا چند افراد، چند مجلسوں اور چند مخصوص ناموں تک محدود ہوتی ہے، لیکن اسی محدود حلقے کو وہ حق کا واحد نمائندہ سمجھتے ہیں۔ ان کے پاس چند گھسے پٹے جملے، بزرگوں کے چند منفی قصے، تاریخ کے چند اختلافی واقعات اور چند بے جوڑ مثالیں ہوتی ہیں، جنہیں وہ ہر تقریر، ہر مجلس اور ہر تحریر میں دہراتے رہتے ہیں، گویا پوری زندگی کا سرمایہ یہی چند باتیں ہوں۔


یہ اپنے آباء و اجداد اور اپنے حلقۂ فکر کے علاوہ کسی کی عظمت کا اعتراف نہیں کرتے۔ اپنی ہر بات کو حرفِ آخر، نوشتۂ تقدیر اور پتھر کی لکیر سمجھتے ہیں، جبکہ دوسروں کی ہر رائے کو قابلِ اعتراض قرار دیتے ہیں۔ اختلافِ رائے کو دشمنی، تنقید کو عداوت اور نصیحت کو حملہ سمجھنا ان کی فطرت بن جاتی ہے۔


افسوس اس بات کا ہے کہ ایسے لوگ خود بھی سکون سے محروم رہتے ہیں اور دوسروں کا سکون بھی برباد کرتے ہیں۔ انہیں دوسروں کے عیب یاد رہتے ہیں، اپنی کمزوریاں کبھی دکھائی نہیں دیتیں۔ وہ دوسروں کے کردار کا احتساب کرتے کرتے اپنے کردار سے غافل ہوجاتے ہیں۔


یاد رکھیے! مثبت سوچ ایمان کی علامت ہے، حسنِ ظن عبادت ہے، خیرخواہی سنت ہے، اور دل جوڑنا انبیاء کا طریقہ ہے؛ جبکہ حسد، بدگمانی، غیبت، بہتان اور عیب جوئی وہ بیماریاں ہیں جو پہلے انسان کے اپنے دل کو کھاتی ہیں، پھر معاشرے کے امن و اتحاد کو۔


ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم لوگوں میں عیب تلاش کرنے کے بجائے اپنی اصلاح کی فکر کریں، دوسروں کو گرانے کے بجائے انہیں سنبھالیں، اور نفرتوں کے سوداگر بننے کے بجائے محبت، خیرخواہی اور اخوت کے سفیر بنیں۔ یہی ایمان کا تقاضا ہے، یہی اخلاقِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام ہے اور یہی صالح معاشرے کی بنیاد ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے