65a854e0fbfe1600199c5c82

بیٹی کو محل نہیں، اہل چاہیے



 سنو! سنو!!


بیٹی کو محل نہیں، اہل چاہیے


(ناصرالدین مظاہری)


ایک طوطے اور ایک کوے کو ایک ہی پنجرے میں بند کردیا گیا۔ طوطا کوے کو دیکھ کر پریشان، کوا طوطے کو دیکھ کر رنجیدہ!

طوطا بولا:


’’یہ کیسی مکروہ صورت ہے، کیسا نفرت انگیز حلیہ ہے، کیسی ناموزوں شکل ہے! کاش میرے اور تیرے درمیان مشرق و مغرب جتنا فاصلہ ہوتا!‘‘


کوا بھی طوطے سے کم تنگ نہ تھا۔ وہ بھی گردشِ زمانہ کا شکوہ کرتا اور سوچتا کہ میری قسمت میں یہ کیسی صحبت لکھی تھی!


بلبل شیراز شیخ سعدیؒ نے دونوں کی اس ناگواری سے ایک بڑا سبق نکالا:

جس قدر دانا کو نادان سے نفرت ہوتی ہے، نادان کو دانا سے اسی قدر وحشت ہوتی ہے۔


یہ حکایت صرف طوطے اور کوے کی نہیں، زندگی کے بہت سے رشتوں کی بھی ہے۔


میں اسی حکایت سے ایک نکتہ لے کر آج کی اس قسط اور نشست میں نکاح اور ازدواجی زندگی کی طرف آنا چاہتا ہوں۔


کچھ لوگ اپنی بے زبان، شریف اور معصوم بیٹیوں کا نکاح ایسے لوگوں سے کردیتے ہیں جن کی عمر ان سے دوگنی ہوتی ہے۔ وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ


’’آدمی مال دار ہے۔اس کے پاس بڑا گھر ہے۔دولت ہے، کاروبار ہے، آسائش ہے، عیش ہے۔‘‘


اور پھر یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ بیٹی کو ’’سب کچھ‘‘ مل گیا!

حالانکہ کبھی کبھی جسے ہم سب کچھ سمجھ رہے ہوتے ہیں، اس میں ’’بہت کچھ‘‘ نہیں ہوتا۔

دولت ہوتی ہے، مگر عمر کی مناسبت نہیں ہوتی۔مکان ہوتا ہے، مگر دلوں کی قربت نہیں ہوتی۔

عیش ہوتا ہے، مگر جوانی کی شوخی نہیں ہوتی۔ سہولت ہوتی ہے، مگر ذہنی ہم آہنگی نہیں ہوتی۔

اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ایک ایسا انسان ہوتا ہے جس کے ساتھ پوری زندگی گزارنی ہے، مگر زندگی کے موسم ایک جیسے نہیں ہوتے۔


عمر کا تفاوت ہر نکاح کو ناکام نہیں بناتا، لیکن بہت زیادہ عمری فرق ازدواجی زندگی کی خوش گواری کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے۔


کیا آپ نے کبھی دیکھا ہے کہ دو تین سال کے بچے کو پندرہ سولہ سال کے لڑکوں کے ساتھ کھیلنے میں وہی لطف آتا ہو جو ہم عمر بچوں کے ساتھ آتا ہے؟


بچوں کی اپنی دنیا ہوتی ہے۔

ان کی اپنی زبان، اپنی شرارتیں، اپنی ہنسی، اپنے کھیل اور اپنی پسند ہوتی ہے۔


پرندوں کو دیکھیے!


کیا آپ نے بلبل کو طوطے کے ساتھ، گوے کو کبوتر کے ساتھ، کوئل کو چیک کے ساتھ محوِ پرواز دیکھا ہے؟

نہیں نا! کیونکہ قدرت نے ہر ایک کو اس کے مزاج، جسامت، رفتار اور طبیعت کے مطابق جوڑا ہے۔


بچے بے شک آپ کے ہیں، مگر ان کی بھی ایک دنیا ہے؛ انہیں صرف گھر نہیں، جوڑ چاہیے؛ صرف شوہر نہیں، جوڑی دار چاہیے۔


میرے ایک واقف نے مجھے اپنی زندگی کا ایک واقعہ سنایاکہ 


’’میری پہلی بیوی بہت اچھی تھی۔ نمازی تھی، دیندار تھی، نیک تھی، کتابیں پڑھتی تھی، بزرگوں کے واقعات سناتی تھی، مگر اس میں بیویوں والی کوئی بات نہیں تھی۔ نہ ہنسنا، نہ کھلکھلانا، نہ ناز و نخرے، نہ شرارتیں، نہ مسکراہٹیں! ہر وقت ایک عجیب سا سکوت طاری رہتا تھا۔ شور و شرارت کو پسند نہیں کرتی تھی، بات بات پر کتابوں کے حوالے اور بزرگوں کے قصے بتا کر آئینہ دکھاتی تھی!‘‘


پھر وہ ہنس کر کہنے لگے:


’’سچ کہوں تو وہ نوجوانی میں ہی رابعہ بصری تھی، اور مجھے رابعہ بصری نہیں، بیوی چاہیے تھی!‘‘


اس جملے کے پیچھے پورا ازدواجی المیہ چھپا ہوا تھا۔

بالآخر نوبت طلاق تک پہنچ گئی۔

بعد میں ان کی دوسری شادی ہوئی۔ کہنے لگے:


’’اب جو بیوی ملی ہے، وہ میرے مزاج کی ہے۔ ہم عمر ہے۔ وہ مجھے پسند ہے اور میں اسے پسند ہوں۔ ہم ایک دوسرے کو سمجھتے ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ ہنستے ہیں، باتیں کرتے ہیں، ہنسی خوشی زندگی گزارتے ہیں۔‘‘


یہ واقعہ کسی نیک عورت کی تنقیص نہیں، بلکہ ازدواجی زندگی میں مزاج کی مناسبت کی اہمیت کو سمجھنے کا ایک تجربہ ہے۔


چلتے چلتے ایک واقعہ اور سنتے چلئے!


یہ سن دو ہزار عیسوی سے پہلے کی بات ہے۔ ضلع بلند شہر سے ایک بڑے عالمِ دین اپنی بیٹی کے لیے ایک رشتہ دیکھنے سہارنپور تشریف لائے۔ ان کا قیام مظاہر علوم وقف سہارنپور کے مہمان خانے میں علامہ رفیق بھیسانویؒ والے حجرے میں تھا۔

میں اور قاری مفتی ذوالفقار دونوں بہت فکرمند تھے کہ کسی طرح یہ رشتہ ہوجائے۔ ہمارے خلوص میں ذرہ برابر ریا شامل نہیں تھی۔ ہم دونوں ان کی خدمت میں بیٹھے رشتے کی تعریف کررہے تھے اور کہہ رہے تھے:


’’ماشاء اللہ! بہت مناسب رشتہ ہے۔ عالم ہیں، مفتی ہیں، مدرس ہیں، مقرر ہیں، مضمون نگار ہیں، ہر فن مولیٰ ہیں۔‘‘


لطیفے کی بات یہ تھی کہ ’’لڑکا‘‘ بلا مبالغہ "خشک کھجور" یا "سوکھے چھوارے" کی مثال تھا!

وہ صاحب لڑکے کو دیکھ کر شاید اندر سے بھرے ہوئے تھے، ہمارے یہ قصیدے سن کر ذرا سنبھل کر بیٹھے، تھوڑا جھکے اور سرگوشی کے انداز میں کہنے لگے:


’’بے شک میری بیٹی ہے، بیٹی تو بیٹی ہوتی ہے، کسی کی بھی ہو! بات اصل یہ ہے کہ لڑکی کو صلاحیت نہیں، صحت چاہیے!‘‘


ہم دونوں کو تو سانپ سونگھ گیا۔ چپی سادھ لی، بولتی بند ہوگئی۔

وہاں سے اٹھے تو ہمیں لگا کہ کمند ٹوٹ چکی ہے، بادبان چھوٹ چکا ہے، رشتے کی ڈور کو ’’صحت‘‘ کی نظر لگ چکی ہے!

اور پھر یہ رشتہ نہیں ہوا۔


بہرحال، بیوی کا نیک ہونا بہت بڑی خوبی ہے، شوہر کا دیندار ہونا بہت بڑی خوبی ہے؛ لیکن نکاح صرف نیکیوں کی فہرست ملانے کا نام نہیں۔

نکاح زندگی بھر کی رفاقت کا نام ہے۔ اس لیے عمر بھی دیکھی جائے، صحت بھی دیکھی جائے، مزاج بھی، ذہن بھی، ماحول بھی، تعلیم بھی، رہن سہن بھی،مکان بھی، گفتگو کا انداز بھی، پسند و ناپسند بھی اور دونوں خاندانوں کا اندرونی ماحول بھی۔


اسی لیے شریعت نے نکاح میں کفاءت یعنی باہمی مناسبت اور موافقت کو بھی اہمیت دی ہے اور غیر مناسب رشتوں سے احتیاط کی تعلیم دی ہے۔


خالص دیندار گھرانے کی ایک ایسی لڑکی جو پردہ، نماز، تلاوت، سادگی، گھریلو ماحول اور دینی اقدار میں پلی بڑھی ہو، اسے اچانک ایسے گھر میں ڈال دینا جہاں دین سے زیادہ فیشن، نمود، مخلوط میل جول، آزادانہ طرزِ زندگی اور دنیاوی رنگ غالب ہو، کیا ضروری ہے کہ وہ آسانی سے گھل مل جائے؟


اور اسی طرح خالص دنیا دار، دین بے زار ماحول میں پلی ہوئی لڑکی کو ایسے گھر میں لانا جہاں نماز، تلاوت، پردہ، دینی مطالعہ، سادگی اور شرعی پابندیوں کو زندگی کا لازمی حصہ سمجھا جاتا ہو، کیا ضروری ہے کہ وہ وہاں خوش رہ سکے؟

وہاں بھی ممکن ہے کسی کا دم گھٹنے لگے۔


یہی بات دوسری طرف بھی ہے۔

ایک انتہائی دیندار، سادہ مزاج، محدود دنیاوی خواہشات رکھنے والے نوجوان کو ایسے گھرانے میں باندھ دینا جہاں زندگی کا معیار لباس، تقریبات، تفریح، نمود، مہنگی خریداری اور دنیاوی آسائشوں سے ناپا جاتا ہو، تو ممکن ہے چند دنوں بعد دونوں ایک دوسرے کو ’’غلط‘‘ سمجھنے لگیں۔


مسئلہ ہمیشہ برائی کا نہیں ہوتا، کبھی کبھی عدم ہم آہنگی کا ہوتا ہے۔

تمثیلی حمایت میں بھی طوطا برا نہیں تھا، کوا بھی اپنے مزاج میں برا نہیں تھا؛مسئلہ یہ تھا کہ دونوں ایک پنجرے کے لیے بنے ہی نہیں تھے۔


اپنی بیٹی کا نکاح صرف یہ دیکھ کر نہ کیجیے کہ لڑکا کتنا کماتا ہے۔ یہ بھی دیکھیے کہ وہ کیسا جیتا ہے؟ بیٹی کے لیے صرف یہ نہ دیکھیے کہ گھر کتنا بڑا ہے؛ یہ بھی دیکھیے کہ اس گھر میں دل کتنا بڑا ہے؟ صرف یہ نہ دیکھیے کہ داماد کتنا دیندار ہے؛ یہ بھی دیکھیے کہ اس کی دینداری میں مزاج کی نرمی، بیوی کی طبیعت کو سمجھنے کی صلاحیت اور گھر بسانے کا شعور بھی ہے یا نہیں۔


اور بیٹے کا رشتہ کرتے ہوئے صرف یہ نہ دیکھیے کہ لڑکی کتنی خوب صورت ہے؛ یہ بھی دیکھیے کہ اس کے گھر کا ماحول کیسا ہے، اس کی تربیت کیسی ہے، اس کی ترجیحات کیا ہیں اور کیا وہ آپ کے بیٹے کے مزاج کے ساتھ چل سکتی ہے؟


نکاح دو انسانوں کا نہیں، دو مزاجوں، دو تربیتوں، دو ماحولوں اور بعض اوقات دو خاندانوں کا ملاپ ہوتا ہے۔


اس لیے رشتہ طے کرتے وقت ’’لوگ کیا کہیں گے؟‘‘ سے زیادہ یہ سوچنا چاہیے کہ یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ کیا محسوس کریں گے؟

دولت ختم ہوسکتی ہے۔ جوانی ڈھل سکتی ہے۔ حسن ماند پڑ سکتا ہے۔

مکان چھوٹا پڑ سکتا ہے۔ کاروبار کم یا زیادہ ہوسکتا ہے۔ مگر اگر میاں بیوی کے درمیان محبت، احترام، مزاج کی مناسبت، گفتگو کی روانی اور ایک دوسرے کو سمجھنے کا ہنر موجود ہو تو زندگی کی بہت سی مشکلات آسان ہوجاتی ہیں۔

اور اگر یہ چیزیں نہ ہوں تو کبھی کبھی محل بھی قفس بن جاتا ہے۔

اس لیے اپنی بیٹیوں کو صرف ’’اچھے گھر‘‘ میں نہ بھیجیے؛

اچھے ہم سفر کے ساتھ بھیجیے۔

صرف مال دار داماد نہ تلاش کیجیے؛ مزاج دار داماد تلاش کیجیے۔ صرف دینداری نہ دیکھیے؛

دینداری کے ساتھ انسانی مزاج بھی دیکھیے۔ صرف عمر نہ دیکھیے؛ عمر کی مناسبت بھی دیکھیے۔ اور صرف خاندان نہ دیکھیے؛ خاندان کے اندر کا ماحول بھی دیجیے۔ بیٹی کو قفس نہ دیجیے، اسے ایسا اہل اور ہم سفر دیجیے جس کے ساتھ وہ زندگی کے آسمان پر محوِ پرواز ہوسکے۔فَهَلَّا بِكْرًا تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ۔

’’تم نے کنواری سے شادی کیوں نہ کی کہ تم اس سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی۔


(ستائیس صفر المظفر چودہ سو اڑتالیس ہجری)

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے