سنو! سنو!!
ہر سچ بتانے کے لائق نہیں ہوتا
(ناصرالدین مظاہری)
حضرت مولانا محمد سعیدیؒ کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ ایک صاحب تشریف لائے اور اپنے گھر کے حالات و معاملات کی پوری کتھا بیان کرنے لگے۔ حضرت نے انہیں تفصیلات بیان کرنے سے روکا تو وہ کہنے لگے:
’’حضرت! یہ باتیں تو سچ ہیں۔‘‘
حضرت نے بڑا مختصر، مگر بہت گہرا جواب دیا:
’’ہر سچ بتانے کے لائق نہیں ہوتا۔‘‘
حضرت کا یہ جملہ سنتے ہی مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد یاد آگیا:
مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ۔
(بخاری، کتاب الأدب: 6018)
’’جو شخص اللہ تعالیٰ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ خیر کی بات کہے یا خاموش رہے۔‘‘
یہاں ایک نہایت لطیف نکتہ ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تو فرماتے:
فَلْيَقُلْ صِدْقًا
’’وہ سچی بات کہے۔‘‘
لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
فَلْيَقُلْ خَيْرًا
’’وہ خیر کی بات کہے۔‘‘
گویا صرف سچ ہونا کافی نہیں، سچ کا خیر اور مصلحت پر مبنی ہونا بھی ضروری ہے۔ چپ رہنا بھی کبھی عین حکمت ہوتا ہے۔
علامہ نوویؒ فرماتے ہیں کہ انسان کو وہی بات کہنی چاہیے جس میں خیر ہو، ورنہ خاموش رہنا بہتر ہے۔
(شرح صحیح مسلم)
حافظ ابن حجرؒ نے ’’خیر‘‘ کی تشریح کرتے ہوئے لکھا:
وَالْخَيْرُ كَلِمَةٌ جَامِعَةٌ تَعُمُّ الطَّاعَاتِ وَالْمُبَاحَاتِ الدُّنْيَوِيَّةَ وَالْأُخْرَوِيَّةَ، وَتُخْرِجُ الْمَنْهِيَّاتِ۔
’’خیر ایک جامع لفظ ہے جو دینی و دنیوی اطاعت اور مباح باتوں کو شامل ہے اور ممنوع باتوں کو خارج کرتا ہے۔‘‘
(فتح الباری، کتاب الأدب)
کسی کے گھر کا راز سچا ہوسکتا ہے، کسی کی کمزوری سچی ہوسکتی ہے، کسی کا عیب اور کسی کی لغزش بھی حقیقت ہوسکتی ہے؛ لیکن ہر سچی بات کو ہر مجلس میں بیان کردینا نہ دیانت ہے، نہ حکمت اور نہ خیر۔ کبھی یہی سچ فتنے کا سبب بن جاتا ہے۔
اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
كُفُّوا أَلْسِنَتَكُمْ
’’اپنی زبانوں کو روک کر رکھو۔‘‘
زبان کا کمال یہ نہیں کہ وہ ہر سچ بول دے، بلکہ کمال یہ ہے کہ کب، کہاں، کس سے اور کتنی بات کہنی ہے، یہ جانتی ہو۔
غالباً پروین شاکرؔ نے بھی انسانی نفسیات کی اسی حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے کہا ہوگا:
ہر شخص تو ہوتا نہیں ہر بات کے قابل
ہر شخص کو ہر بات بتایا نہیں کرتے
واقعی ہر شخص ہر بات سننے کے قابل نہیں ہوتا، ہر بات ہر مجلس کے قابل نہیں ہوتی اور ہر سچ ہر وقت کہنے کے قابل نہیں ہوتا۔
بہت سے معدے بہت سی چیزیں ہضم نہیں کر پاتے، بالکل اسی طرح بہت سے لوگ ہر سچ بھی ہضم نہیں کر پاتے۔ اس لیے کبھی بے موقع سچ بھی فساد کا دروازہ کھول دیتا ہے۔
بیٹی اپنے میکے والوں کو بتاتی ہے کہ آج سسرال میں چٹنی روٹی پکی ہے، بہو اپنے شوہر سے کہتی ہے کہ اس کی ماں نے باسی روٹی کھلا دی، شاگرد اپنے والد کو بتاتا ہے کہ استاد نے آج دھوپ میں کھڑا کیا تھا، اور مرید اپنے ساتھیوں سے کہتا ہے کہ آج حضرت جی موبائل پر ویڈیو دیکھ رہے تھے۔
ان میں سے ہر بات اپنی جگہ سچی ہوسکتی ہے، لیکن کیا ہر سچ کو ہر شخص کے سامنے، ہر وقت اور ہر مجلس میں بیان کرنا ضروری ہے؟
ہرگز نہیں!
کبھی ایک سچی بات غلط فہمی پیدا کردیتی ہے، کبھی معمولی واقعہ بڑا مسئلہ بن جاتا ہے، کبھی ایک راز کئی دلوں میں بدگمانی پیدا کردیتا ہے اور کبھی بے محل سچ پورے خاندان یا تعلق میں فساد کا پیش خیمہ بن جاتا ہے۔
اس لیے سچ بولیے، مگر ہر سچ مت بولیے؛ خیر کی بات کہیے، ورنہ خاموش رہیے۔
(اٹھائیس صفر المظفر چودہ سو اڑتالیس ہجری)

0 تبصرے