سنو سنو!!
جامعۃ البنات یا جامعۃ المشاہدات؟
(ناصرالدین مظاہری)
میں علامہ اقبالؒ کی معرفت کا قائل، ان کی عارفانہ و عاشقانہ شاعری سے گھائل، اور ان کی فراست و بصیرت پر بچپن ہی سے مائل ہوں۔ جوں جوں ان کے کلامِ بلاغت نظام کو سمجھتا جاتا ہوں، ان کی قدر و منزلت دل میں بڑھتی جاتی ہے۔
انہوں نے ’’طلوعِ اسلام‘‘ کے عنوان سے ایک طویل نظم لکھی ہے۔ اس نظم کا ایک شعر اچانک میرے ذہن میں آیا اور اس کے ساتھ ہی ایک منظر، پس منظر اور پیش منظر بھی نگاہوں کے سامنے آتا چلا گیا۔ کیا شاندار شعر ہے:
براہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہے
ہَوس چھُپ چھُپ کے سینوں میں بنا لیتی ہے تصویریں
یہ شعر اس وقت اور زیادہ سمجھ میں آیا جب دینی تعلیم، ثقافت و تربیت، پروگرام و جلسے، تقسیمِ انعامات اور تقریر و نظم و نعت کے نام پر مدارسِ بنات میں زیرِ تعلیم بچیوں سے مختلف پروگرام کرائے جاتے دیکھے۔
پہلے بچیوں کو تقریریں یاد کرائی جاتی ہیں، قراءت کی مشق کرائی جاتی ہے، نظمیں اور نعتیں یاد کروائی جاتی ہیں، بعض اوقات عجیب و غریب مکالمے رٹوائے جاتے ہیں، پھر انہی بچیوں کو اسٹیج پر لایا جاتا ہے اور اپنے اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کا حکم دیا جاتا ہے۔
بچیاں تو بچیاں ہیں؛ انہیں جو بتایا جاتا ہے، وہ یاد کرلیتی ہیں، جو سکھایا جاتا ہے، وہ پیش کردیتی ہیں۔ بعض پردے میں اور بعض بے پردہ اسٹیج پر نمودار ہوتی ہیں، اپنی خوب صورت آواز کا جادو جگاتی ہیں، اپنی اداؤں، حرکات، لباس اور بناؤ سنگھار سے حاضرین کو متوجہ کرتی ہیں۔
بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔
کبھی ’’ثقافت‘‘ کے نام پر بچیوں کو اسٹیج پر اس انداز سے گھمایا جاتا ہے کہ اسے گھمانا کم اور نچانا زیادہ کہا جاسکتا ہے۔
یہ بچیاں ہیں، نوخیز کلیاں ہیں۔ ان کے انگ انگ پر مردوں کی نگاہیں پڑتی ہیں۔ ان کی ہر حرکت اور ہر ادا کو شہوت پرست نگاہیں اپنے اپنے انداز سے دیکھتی ہیں۔
النَّظَرُ سَهْمٌ مِنْ سِهَامِ إِبْلِيسَ
نگاہ شیطان کے تیروں میں سے ایک تیر ہے۔ یہ تیر بڑا خطرناک ہے؛ پورے وجود کو ہلا دیتا ہے۔ اس کا اثر صرف مردوں تک محدود نہیں رہتا، بعض اوقات خواتین بھی اس سے متاثر ہوتی ہیں۔
ہائے ہائے داغ دہلویؔ!
سب لوگ جدھر وہ ہیں ادھر دیکھ رہے ہیں
ہم دیکھنے والوں کی نظر دیکھ رہے ہیں
سچ کہوں تو یہ وہ چھپی ہوئی، دبی ہوئی، خفتہ و خوابیدہ ہوس ہے جو ایسے مواقع پر دو آتشہ ہوجاتی ہے۔ آپ کچھ بھی کہہ لیجیے، سامعین و ناظرین جنید و بایزید نہیں ہوتے، اور اگر بالفرض جنید و بایزید جیسے اہلِ تقویٰ بھی موجود ہوں تو بھی ایسے پروگراموں کو ان کے تقویٰ کے حوالے کرکے جائز قرار نہیں دیا جاسکتا۔
حضرت حسرتؔ فرماتے ہیں:
برسات کے آتے ہی توبہ نہ رہی باقی
بادل جو نظر آئے بدلی میری نیت بھی
بہت سے مدارسِ بنات میں بچیاں باقاعدہ ناٹک کرتی ہیں۔ کوئی بوڑھی ماں بنتی ہے، کوئی پڑوسن، کوئی دوسرا کردار ادا کرتی ہے، پھر ایک ایسا منظر سامنے آتا ہے جس میں بچیوں کی حرکات، ادائیں، لباس اور انداز سب ناظرین کی توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں۔
یہ بچیاں ہیں، ان کی عمر کا تقاضا ہے کہ انہیں حیا، پردہ، وقار اور سادگی سکھائی جائے، نہ کہ ایسی حرکات کی مشق کرائی جائے جنہیں دیکھ کر غیر محرموں کی نگاہیں ان کی طرف اٹھیں۔
واللہ! کبھی کبھی یہ ہوس کا بدلا ہوا چولہ محسوس ہوتا ہے۔ یہ دل کی وہ امنگ و ترنگ ہے جسے ہم ان کچی کلیوں کے ذریعے بجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ شہوت، شہوت ہے؛ خواہ کسی پختہ عمر عورت کو دیکھ کر پیدا ہو یا کسی نوخیز بچی کی نمائش اس کا ذریعہ بنے۔
کل جنہیں چھو نہیں سکتی تھی فرشتوں کی نظر
آج وہ رونقِ بازار نظر آتے ہیں
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے عورتوں کے باہمی اثرات اور بے حیائی کے ماحول سے بچنے کی طرف بھی توجہ دلائی ہے۔ اس لیے صرف مردوں سے پردہ کافی نہیں؛ بے حیائی کے اثرات سے بچانا بھی تربیت کا حصہ ہے۔
مدارسِ بنات کی اصل ذمہ داری بہت بڑی ہے۔ یہ ادارے صرف کتابیں پڑھانے کے مراکز نہیں، بلکہ مستقبل کی ماؤں، معلمات اور نسلوں کی تربیت گاہیں ہیں۔ یہاں ایک ایک عادت، ایک ایک انداز، ایک ایک منظر اور ایک ایک جملہ بچیوں کی شخصیت پر اثر انداز ہوتا ہے۔
بچیوں کے دینی مدارس ویسے ہی کانٹوں بھری سیج ہیں؛ وسائل کی کمی، معاشرتی دباؤ، تربیتی چیلنجز اور بدلتے ہوئے ماحول کے درمیان انہیں سنبھالنا آسان نہیں۔ پھر اگر ہم خود ہی ایسے پروگراموں کے ذریعے ماحول کو مزید پیچیدہ اور معاشرے کو مزید پراگندہ کریں تو یہ کس درجے کی دانش مندی ہوگی؟
مدرسۃ البنات میں پروگرام ضرور ہوں، مگر ایسے پروگرام جو حیا بڑھائیں، نگاہیں جھکائیں، علم میں اضافہ کریں، کردار سنواریں، دینی ذوق پیدا کریں اور بچیوں کے وقار کو محفوظ رکھیں۔
تقریر ہو، مگر علم و حکمت کے ساتھ۔ نعت ہو، مگر شرعی آداب کے ساتھ۔ قراءت ہو، مگر خشوع کے ساتھ۔ مکالمہ ہو، مگر حیا اور وقار کے ساتھ۔ تقسیمِ انعامات ہو، مگر نمائش سے پاک۔
اور ثقافت کے نام پر ایسا کچھ نہ ہو جو مدرسے کی دینی شناخت، بچیوں کی حیا اور معاشرے کی پاکیزگی کو مجروح کردے۔
مدرسۃ البنات میں بچیوں کو اسٹیج کا ستارہ نہیں، حیا کا پیکر بنائیے؛ نمائش کا ذریعہ نہیں، نسلوں کی معمار بنائیے؛ تالیاں سمیٹنے والی نہیں، کردار سنوارنے والی بنائیے۔ یہ بچیاں آج کی طالبات ہیں، مگر کل کسی گھر کی ماں، کسی مدرسے کی معلمہ اور کسی نسل کی مربیہ ہوں گی۔
ان کی تربیت میں ذرا سی بے احتیاطی بھی آنے والی نسلوں پر اثر ڈال سکتی ہے۔
نوٹ: جن مدارس میں یہ خرافات نہیں ہوتی ہیں وہ مستثنیٰ ہیں۔
(تیرہ اگست دو ہزار چھبیس عیسوی)

0 تبصرے