65a854e0fbfe1600199c5c82

تعلیم بھی فتنہ (دیوبندیوں اور بریلویوں سے فریاد)



 سنو سنو!!


تعلیم بھی فتنہ


(دیوبندیوں اور بریلویوں سے فریاد)


(ناصرالدین مظاہری)


حق گوئی اور حق نگری، حق نویسی یہ عادتیں اگرچہ نقصان کا ذریعہ ہوتی ہیں، مگر مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ اگر یہ عادت ترک کردی جائے تو دینِ اسلام اور شریعت بازیچۂ اطفال بن کر رہ جائے گی۔ اگر میں کہوں کہ اس عادت کی وجہ سے میں نے اپنے چند قریبی دوستوں سے ہاتھ دھولیا ہے تو غلط نہیں ہے، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ میرے دل کو جو ناقابلِ بیان سکون حق گوئی کی وجہ سے ملا ہے، وہ لفظوں میں لکھنا مشکل ہے۔


سرفراز بزمی صاحب کا اقبال خدا کرے آخرت میں بھی بلند ہو۔ انھوں نے ایک شعر کہا کہ:


اللہ سے کرے دور تو تعلیم بھی فتنہ

املاک بھی اولاد بھی جاگیر بھی فتنہ


اور علامہ اقبال نے تو ایک شعر میں اپنا سینہ چیر کر دل کھول کر قومِ رسولِ ہاشمی کے سامنے رکھ دیا، فرمایا:


جس علم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نا زن

کہتے ہیں اسی علم کو اربابِ نظر موت


اس وقت دینی تعلیمی اداروں میں مختلف النوع پروگرام ہورہے ہیں۔ کہیں تقریری مقابلے ہوتے ہیں، کہیں تحریری مسابقے، کہیں علمی مذاکرے، کہیں سیرت و تاریخ کے پروگرام، اور کہیں ثقافتی سرگرمیوں کے نام پر ڈرامے، خاکے، تمثیلیں اور اسٹیج شوز۔


بچیوں سے مختلف کردار ادا کرائے جاتے ہیں، مکالمے کہلوائے جاتے ہیں، کبھی کسی مرد یا عورت کا کردار دیا جاتا ہے، کبھی فرضی میاں بیوی بنائے جاتے ہیں، کبھی ماں بیٹی کا منظر پیش کیا جاتا ہے، کبھی کسی تاریخی یا معاشرتی واقعے کی اداکاری کرائی جاتی ہے، اور کبھی ایسی سرگرمیاں بھی ہوتی ہیں جن میں لباس، حرکات، آواز، اندازِ گفتگو اور اسٹیج کی نمائش، سب کچھ شامل ہوجاتا ہے۔


سوال یہ ہے کہ کیا ثقافت، تعلیم اور تربیت کے نام پر شریعت کی حدود سے باہر نکلنے کی اجازت دی جاسکتی ہے؟


دینی اداروں میں بچیوں کی صلاحیتیں نکھارنے کے لیے شرعی اور اخلاقی حدود کہاں تک ہیں؟


مسئلہ کسی ایک مکتبِ فکر، یا کسی ایک مدرسے، کسی ایک جماعت یا کسی ایک فکری دھارے کا نہیں ہے۔


حیا حیا ہے، پردہ پردہ ہے، غیر محرم غیر محرم ہے، فتنہ فتنہ ہے اور حرام حرام ہے۔ اسلام تو یہاں تک کہتا ہے کہ بیٹی بیٹی ہے، کسی بھی مذہب کی ہو، عورت عورت کے چاہے غیر مذہب کی ہی کیوں نہ ہو۔ یعنی ان کا احترام بھی ضروری ہے، قصداً انھیں دیکھنا بھی حرام ہے۔


دارالافتاء دارالعلوم دیوبند سے ایک سوال کیا گیا کہ اسکول کے سالانہ پروگرام میں لڑکے اور لڑکیاں ڈرامے میں میاں بیوی یا ماں اور بچوں کے کردار ادا کرتے ہیں اور غیر محرم ناظرین بھی انھیں دیکھتے ہیں، کیا یہ جائز ہے؟


جواب دیا گیا کہ:


"جائز نہیں، ان جیسے ڈراموں میں بے شمار مفاسد ہیں۔"


(فتویٰ نمبر: 1831=1437ھ)


اب آئیے بریلوی مکتبِ فکر کی طرف، وہاں بھی اس سلسلہ میں کوئی لچک یا کوئی رعایت نہیں ہے۔ چنانچہ حضرت مولانا احمد رضا خان رحمہ اللہ کے فتاویٰ رضویہ میں رقص دیکھنے کے متعلق سخت ممانعت ملتی ہے اور مسلمان عورت کی بے پردگی کو خاص طور پر سنگین قرار دیا گیا ہے، اور یہ اصول بھی منقول ہے:


"اور جو فعل حرام ہے، اس میں شریک ہونا، اس کا تماشا دیکھنا بھی حرام ہے۔"


(فتاویٰ رضویہ، جلد 24، صفحہ 91)


فتاویٰ امجدیہ، حصہ 4، صفحہ 44 میں منقول ہے:


"عورتوں کا اس طرح گانا کہ نامحرم کو آواز پہنچے ... حرام ہے اور اس کا قصداً سننا بھی حرام ہے اور ایسی مجلس میں شرکت کا بھی یہی حکم ہے۔"


عورت کی آواز بھی عورت ہے۔ بلا ضرورتِ شدیدہ کے عورت کسی نامحرم سے بات کرنے سے احتیاط کرے، اور اگر ضروری ہو تو قرآنِ کریم نے اصول بنایا اور بتایا کہ:


فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ


یعنی گفتگو میں ایسا انداز اختیار نہ کیا جائے جس میں دل کے مریض کے لیے طمع کا راستہ پیدا ہو۔


کتنے جوانوں، نوجوانوں حتیٰ کہ بوڑھوں کو بھی ایسے پروگراموں کے موقع پر آہیں بھرتے دیکھا جاسکتا ہے۔ وہ نگاہیں جو ایک منٹ کہیں ٹک نہیں سکتی ہیں، وہ نگاہیں جھپکنا بھول جاتی ہیں۔ وہ توجہ جو دینی پروگراموں میں مقرر کبھی حاصل نہیں کر پاتا، ان خرافاتی پروگراموں میں سناٹوں کی حکمرانی ہوتی ہے۔ وہ بچیاں جو گھروں میں بار بار اٹھنے بیٹھنے میں کراہتی ہیں، اسٹیج پر وہ تھرکتی نظر آتی ہیں۔ سوچیں، کیا ہر آواز، ہر انداز، ہر لہجہ اور ہر منظر کو "تعلیمی سرگرمی" کہہ کر پیش کیا جاسکتا ہے؟


اب ان بچیوں کے لباس پر دھیان دیجیے، لباس بھی شریعت کا حکم ہے۔


ان کے جسم کی ساخت نمایاں تو نہیں؟ زینت کا اظہار تو نہیں؟


غیر محرموں کے سامنے نمائش تو نہیں؟


صرف یہی نہیں کہ لوگ ان پروگراموں کے مناظر میں کھو جاتے ہیں، ان کے موبائل کے کیمرے آن ہوجاتے ہیں۔ بعض تو ویڈیو کال کے ذریعہ دور بیٹھے متعلقین کو بھی گناہوں میں ملوث کرتے ہیں، کچھ لوگ ویڈیو بناکر وائرل اور اپلوڈ کرکے گناہ کو متعدی بنادیتے ہیں۔


فتاویٰ رضویہ میں ناچ دیکھنے کی صریح ممانعت موجود ہے، بلکہ مسلمان عورت کی بے پردگی کی قباحت کو بھی نمایاں کیا گیا ہے۔ یہاں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ مزاروں پر جو اوباش و بدمعاش، ننگے سر، ننگے دھڑ، چالباز، مکار، عیار لڑکیاں اور خواتین کرتب کرتی، قلابازیاں کرتی نظر آتی ہیں، ان کا یہ عمل بھی خالص حرام ہے اور ان کو دیکھنا بھی حرام ہے۔


لہٰذا اگر کوئی چیز شرعی اعتبار سے ممنوع ہے تو اسے "ثقافت" کا نام دینے سے اس کا حکم تبدیل نہیں ہوجاتا۔


اسلام نے عورت کو علم سے نہیں روکا۔ خیر کی بات کہنے سے نہیں روکا، تعلیم دینے سے بھی نہیں روکا۔


عورت کی صلاحیتوں کو ختم کرنے کا حکم نہیں دیا، البتہ حیا، عفت، پردہ، وقار اور فتنہ سے بچنے کے اصول بھی دیے ہیں۔ ان اصولوں کی پاسداری ہماری کامیابی کی ضمانت ہے۔


(چودہ اگست سن دو ہزار چھبیس عیسوی)

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے