سنو سنو!!
اسلام جیت گیا، مسلمان ہار گئے
(ناصرالدین مظاہری)
کاندھلہ ایک تاریخی قصبہ ہے، جو پہلے ضلع مظفر نگر کا حصہ تھا اور اب ضلع شاملی میں شامل ہے۔
رئیس التبلیغ حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلویؒ بھی اسی شہر سے تعلق رکھتے تھے۔ کاندھلہ اکابر علماء اور بزرگوں کی آماجگاہ رہا ہے۔
حضرت مولانا مفتی الٰہی بخشؒ، حضرت مولانا مظفر حسین کاندھلویؒ اور دیگر اہل علم نے اس خطے کو اپنے علم و عمل سے روشن کیا۔
انہی بزرگوں کے زمانے کا ایک مشہور واقعہ ہے کہ جامع مسجد کاندھلہ کے قریب ایک خالی زمین تھی۔ اس زمین کی ملکیت پر ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف ہوگیا اور معاملہ انگریز کی عدالت تک جا پہنچا۔
مقدمہ چونکہ حساس نوعیت کا تھا، اس لیے اندیشہ تھا کہ فیصلہ کسی ایک فریق کے حق میں ہونے کی صورت میں شہر کا ماحول خراب ہوسکتا ہے۔ چنانچہ انگریز جج نے دونوں فریقوں سے دریافت کیا کہ کیا کوئی ایسا شخص ہے جس کی گواہی پر دونوں کو اعتماد ہو اور جس کے بیان کو فیصلہ کن مان لیا جائے؟
ہندو فریق نے ایک بزرگ عالم، مولانا محمود بخشؒ، کا نام پیش کیا۔ مسلمانوں کو بھی ان کی دیانت، تقویٰ اور راست گوئی پر مکمل اعتماد تھا۔ مسلمانوں کو یقین تھا کہ چونکہ زمین جامع مسجد سے متصل ہے اور وہ مسجد کی توسیع چاہتے ہیں، اس لیے حضرت ضرور مسلمانوں کے حق میں گواہی دیں گے۔
جب یہ معاملہ حضرت مولانا محمود بخشؒ کے سامنے پیش کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں انگریز جج کا منحوس چہرہ ہی نہیں دیکھنا چاہتا۔( لقد حلفت أن لا أرى وجه إفرنجي)۔ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمین۔
بالآخر یہ طے ہوا کہ وہ انگریز جج کی طرف پشت کرکے گواہی دیے دیں ۔
حضرت مولانا عدالت میں تشریف لائے انگریز کی طرف پشت کرکے کھڑے ہوگئے ۔ (فحضر الشيخ وولى دبره) ماذا خسر العالم ۔۔۔
جج نے سوال کیا:
’’جامع مسجد کاندھلہ کے متصل جو زمین ہے، وہ کس کی ملکیت ہے؟‘‘
حضرت مولانا نے بلاخوف و تردد جواب دیا:
’’یہ زمین ہندوؤں کی ہے، مسلمانوں کا دعویٰ درست نہیں۔‘‘
یہ جواب سن کر مسلمانوں کی امیدیں ٹوٹ گئیں، مگر ایک سچے مسلمان کی زبان سے حق بات نکل چکی تھی۔ فیصلہ حقائق کے مطابق ہوا اور زمین کے اصل حق دار کو اس کا حق مل گیا۔
کہا جاتا ہے کہ انگریز جج نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا:
’’آج مسلمان ہار گئے، مگر اسلام جیت گیا۔‘‘
یہ ایک جملہ نہیں، بلکہ ہمارے لیے پوری تاریخ کا سبق ہے۔
اے اہلِ حق!
اے اہلِ کلمہ!
ریت پر کھڑی کی ہوئی عمارتیں زیادہ دیر قائم نہیں رہتیں، اور جھوٹ کی بنیاد پر دین کی عمارت بھی مضبوط نہیں ہوسکتی۔ اسلام صدق و امانت، عدل و انصاف اور حق و دیانت کا مذہب ہے۔ یہاں اپنے حق کے لیے بھی جھوٹ بولنے کی اجازت نہیں۔
حضرت مولانا محمود بخشؒ اگر چاہتے تو مسلمانوں کی خوشنودی کے لیے ایسی گواہی دے سکتے تھے جس سے زمین مسلمانوں کے نام ہوجاتی؛ مگر انہوں نے یہ جان لیا تھا کہ مسلمانوں کو زمین مل جائے اور اسلام کی سچائی مجروح ہوجائے تو یہ کوئی کامیابی نہیں۔
ان کی سچی گواہی سے ایک بڑا فتنہ ٹل گیا، حق دار کو اس کا حق ملا اور اسلام کی تعلیمات کا عملی نمونہ دنیا کے سامنے آیا۔اور مؤرخ اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندوی نے اس واقعہ کو اپنی لازوال و بے مثال کتاب ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمین میں ایک جملہ یہ بھی لکھا ہے کہ
"وخسر المسلمون القضية، ولكن كسبوا قلوبَ الهنادك، وأسلم منهم جماعة"
(مسلمان مقدمہ ہار گئے، لیکن ہندوؤں کے دل جیت لیے، اور ان میں سے کچھ لوگ اسلام میں داخل ہوگئے۔)
اسلام صرف عبادات کا نام نہیں، بلکہ کردار کا بھی نام ہے۔
اسلام صرف مسجد میں سجدہ کرنے کا نام نہیں، بلکہ عدالت میں سچ بولنے کا بھی نام ہے۔
اسلام صرف اپنے حق کا مطالبہ نہیں سکھاتا، بلکہ دوسرے کے حق کی حفاظت بھی سکھاتا ہے۔
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ کبھی کبھی اپنی وقتی شکست، دین کی دائمی فتح کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
آئیے! ہم بھی اپنے معاملات میں سچائی، امانت اور انصاف کو اختیار کریں۔
حق بولیے!
سچ بولیے!
چاہے حق اور سچ آپ کے اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔
(چار ربیع الاول چودہ سو اڑتالیس ہجری)

0 تبصرے