65a854e0fbfe1600199c5c82

مفتی لے لو۔۔۔۔۔مفتی لے لو۔۔۔۔۔



 سنو سنو!!


مفتی لے لو۔۔۔۔۔مفتی لے لو۔۔۔۔۔


(ناصرالدین مظاہری)


جس نے گلستان سعدی نہیں پڑھی، تو کیا پڑھا! سچ کہوں تو یہ کتاب فاضلین کو تخصص میں پڑھانی چاہیے کہ عقل و شعور کی بہت سی بند گرہیں اس وقت کھلتی ہیں جب آدمی چالیس کے لپیٹے میں پہنچتا ہے۔


میں اپنی بات کی شروعات شیخ سعدی کے ایک خوبصورت شعر سے کرنا چاہتا ہوں۔ فرماتے ہیں:


خاکِ مشرق شنیده‌ام که کنند

به چهل سال کاسۂ چینی

صد به روزے کنند در مَردَشت

لاجَرَم قیمتش همی‌ بینی


مشرق میں ایک عمدہ چینی کا پیالہ تیار کرنے میں چالیس سال تک لگ جاتے ہیں، جبکہ مردشت میں ایک ہی دن میں سو پیالے بنا لیے جاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جو چیز بڑی محنت، وقت اور نفاست سے تیار ہو، اس کی قدر و قیمت بھی زیادہ ہوگی۔


شیخ سعدیؒ یہاں دراصل کسی کام کے معیار اور اس کی قدر کا فرق سمجھا رہے ہیں کہ صرف کثرتِ پیداوار یا جلدی کام کرلینا کمال نہیں؛ نفاست، پختگی اور محنت بھی چیز کی قدر و قیمت بڑھاتی ہے۔


ہیرے جواہرات کی قدر کسی بے قدرے سے معلوم کرنے کی حماقت مت کیجیے، ورنہ عین ممکن ہے کہ کہہ دے:


’’یہ تو معمولی پتھر ہے!‘‘


اور آپ غصے میں اپنا ہی گریباں پھاڑنے پر مجبور ہوجائیں۔


علم و معرفت کی باتیں ہر شخص سے مت پوچھیے۔ ماہر ترین فقیہ اور محدث ہونا بھی اس بات کی ضمانت نہیں کہ آدمی لازماً معرفتِ ربانی، علمِ حقانی، خشیتِ الٰہی اور دینی بصیرت سے بھی بہرہ ور ہو۔


علم کی اپنی ایک دنیا ہے اور معرفت کی اپنی ایک منزل و مقام ہے، اور فقہ و فتاویٰ کا معاملہ تو اس سے بھی زیادہ نازک ہے۔


آج بھانت بھانت کے آن لائن اور آف لائن دارالافتاؤں کی بھرمار ہے۔ جگہ جگہ ’’دارالافتاء‘‘، ’’شریعت سینٹر‘‘، ’’آن لائن فتویٰ‘‘ اور ’’موبائل دارالافتاء‘‘ کے عنوانات نظر آتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے افتاء کوئی مختصر نصاب یا فضیلت مآب چیز اور مالِ تجارت کا ذریعہ بن گیا ہو۔


حالاں کہ فتویٰ نویسی محض چند کتابیں پڑھ لینے، چند مسائل یاد کرلینے یا ایک سرٹیفکیٹ حاصل کرلینے کا نام نہیں ہے۔


فقیہ الاسلام حضرت مولانا مفتی مظفر حسین صاحب، ناظم مظاہر علوم وقف سہارنپور، نے مفتی محمود عالم رام پوری صاحب سے فرمایا تھا کہ میں نے اپنے والد ماجد حضرت مفتی سعید احمد اجراڑوی صدر مدرس و صدر مفتی مظاہر علوم سہارنپور، سے سولہ سال تک فتویٰ نویسی کی مشق کی تھی۔


یہاں سولہ سال کی کڑی مشق کے بعد بھی آدمی اپنے آپ کو فتویٰ نویسی کے میدان میں مکمل بے خوف نہیں سمجھتا، اور یہاں صورتِ حال یہ ہے کہ درسِ نظامی کے بعض طلبہ عربی پنجم و ششم میں داخلے کے لیے پریشان پھرتے ہیں، مگر بعض آن لائن فتاویٰ مراکز انہیں بھی ’’تدریب الافتاء‘‘ کے عنوان سے داخلہ دے کر چند ماہ یا سال میں مفتی کی سند عطا فرمادیتے ہیں۔


سہارنپور کے بعض قصبات میں قدم قدم پر دارالافتاء اور مدرسہ کے خوشنما بورڈ آویزاں نظر آتے ہیں۔


فتویٰ کوئی مول بھاؤ کی ڈگری نہیں کہ جس نے فیس جمع کرائی، کورس کیا اور سند لے کر بازار میں آگیا۔ فتویٰ دراصل دین کے نام پر اللہ تعالیٰ کے حکم کی ترجمانی ہے۔ اس لیے اس کے لیے محض معلومات نہیں، علمی رسوخ، فقہی بصیرت، تربیت، تجربہ، تقویٰ، احتیاط اور جواب دہی کا احساس بھی ضروری ہے۔


ورنہ خطرہ یہ ہے کہ کم علمی کو علم، جلد بازی کو اجتہاد، رائے کو فتویٰ اور سند کو اہلیت سمجھ لیا جائے۔ حالات پہلے سے کیا کم خراب تھے کہ اب ’’گھر کے بھیدی‘‘ بھی میدان میں آگئے!


یہی اصول فتویٰ کے میدان میں اور بھی زیادہ اہم ہوجاتا ہے؛ کیونکہ یہاں غلطی صرف ایک علمی کمزوری نہیں رہتی، بلکہ دین کے نام پر دوسروں کی زندگیوں کو متاثر کرسکتی ہے۔


بعض نوخیز مفتیان اپنی کم علمی اور بے احتیاطی سے دین کے احکام کے بارے میں ایسی ایسی باتیں پھیلا دیتے ہیں جن سے عوام کے ذہن میں شریعت ہی کی تصویر مسخ ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔


سوچیں! ہر شخص روزگار کے لیے افتاء کا کورس کرنے لگے، ہر ادارہ مفتی پیدا کرنے لگے، اور ہر نوخیز فاضل چند مسائل پڑھ کر عوام کے دینی سوالات کے آن لائن یا آف لائن برجستہ جوابات دینے لگے تو پھر شریعت کے فہم کا کیا حال ہوگا؟


دارالعلوم اور مظاہر علوم جیسے قدیم علمی مراکز میں افتاء کی تربیت کا میدان ہمیشہ محدود، ذمہ دارانہ اور کڑی نگرانی میں رہا ہے، جبکہ آج چھوٹے چھوٹے اداروں سے بیک وقت بڑی تعداد میں نوخیز مفتیان و مفتیات کو ’’تیار‘‘ کرکے میدان میں اتار دیا جاتا ہے۔


یہ تعداد خوش آئند تب ہوتی جب اس کے ساتھ علم کی گہرائی، تربیت کی پختگی، فتویٰ نویسی کا طویل تجربہ، تقویٰ اور احساسِ ذمہ داری بھی اسی رفتار سے بڑھتا۔

ورنہ مفتیوں کی کثرت سے شریعت مضبوط نہیں ہوتی؛ کبھی کبھی نااہل مفتیوں کی کثرت شریعت کے فہم کو مزید الجھا دیتی ہے۔


ہر سوال کا جواب دینا علمی کمال نہیں ہے۔ ہمارے اربابِ افتاء دیوبند و سہارنپور میں بھی پیچیدہ مسائل کے جواب میں عجلت سے کام نہیں لیا جاتا؛ تحقیق و مراجعت اور مکمل اطمینان کے بعد جواب دینے کو ترجیح دی جاتی ہے، جبکہ بعض نوخیز مفتیان و مفتیات معمولی مطالعے کے بعد خود کو ہر سوال کا جواب دینے کا اہل سمجھنے لگتے ہیں۔


فتویٰ دینے سے پہلے اپنے علم کو دیکھیے، اپنی تربیت کو دیکھیے، اپنے تجربے کو دیکھیے اور سب سے بڑھ کر اپنی جواب دہی کو دیکھیے۔

کیونکہ قلم سے نکلا ہوا ایک غلط فتویٰ صرف ایک کاغذ پر لکھی ہوئی غلطی نہیں ہوتا؛ کبھی وہ کسی انسان کی عبادت، معاشرت، نکاح، طلاق، حلال و حرام اور پوری زندگی پر اثر انداز ہوجاتا ہے۔


اس لیے مفتی بننے کے عمل کو آسان نہ بنائیے، مشکل بنائیے۔


دارالعلوم مظاہر علوم میں ہر ایرے غیرے فارغ بچے کا افتاء میں داخلہ نہیں ہوتا۔ وہاں سخت اصول ہیں، اعلیٰ شرائط ہیں، صلاحیت اور علمی پس منظر بھی پیش نظر ہوتا ہے، اساتذہ کی رپورٹیں اور کردار بھی دیکھا جاتا ہے، دورۂ حدیث کے نمبرات کا ایک خاص تناسب بھی شرطِ اولین ہوتا ہے، پھر تقابل در تقابل کا عمل ہوتا ہے۔ اتنی کوہ کنی کے بعد کہیں انتخاب و سلیکشن کا مرحلہ آتا ہے۔


خدا را! شریعت کو مذاق نہ بنائیں۔ کونٹٹی پر توجہ دینے کے بجائے کوالٹی پر توجہ دیجیے۔


افتاء سے فراغت کے بعد بھی فوری سند نہ دیجیے۔ ان کی تشریحات، تخریجات، تحقیقات اور ترجیحات، ہر چیز پر گہری نظر رکھیے۔ عوام کے درمیان ان کی چلت پھرت، مشغولیات اور علمی مصروفیات کا دو چار سالہ عملی مشاہدہ اور نگرانی کا مرحلہ بھی مقرر کیجیے۔

جب مکمل یقین ہوجائے کہ اس شخص میں فتویٰ نویسی کی اہلیت، صلاحیت، پختگی اور احساسِ ذمہ داری موجود ہے، تب سند جاری کیجیے؛ اور اس کے ساتھ یہ شرط بھی رکھیے کہ وہ اپنے کسی مستند استاذ یا نگران مفتی سے فتویٰ کی مراجعت کراکے ہی اسے جاری کرے۔


فتویٰ کی دنیا میں جلدی سے زیادہ پختگی مطلوب ہے، تعداد سے زیادہ معیار مطلوب ہے، سند سے زیادہ اہلیت مطلوب ہے اور معلومات سے زیادہ فقہی بصیرت مطلوب ہے۔

کیونکہ فتویٰ صرف ایک جواب نہیں؛ دین کے نام پر ایک ذمہ داری ہے۔


( پانچ ربیع الاول چودہ سو اڑتالیس ہجری )

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے