65a854e0fbfe1600199c5c82

اولاد : آسانیاں ، پریشانیاں

 سنو سنو!!


اولاد : آسانیاں ، پریشانیاں


(ناصرالدین مظاہری)


اولاد سے محبت کا ایک عجیب انداز ہمارے معاشرے میں بہت عام ہوگیا ہے۔ باپ خود دھوپ میں جلتا ہے، گرمی سردی برداشت کرتا ہے، پیدل چلتا ہے، پرانے کپڑے پہنتا ہے، اپنی ضرورتیں اور خواہشیں دباتا ہے، مگر اولاد کے لیے کوشش کرتا ہے کہ اسے دنیا کی کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ بچے کو ہر سہولت میسر ہو، جیب میں پیسے ہوں، ہاتھ میں موبائل ہو، کمرے میں پنکھا یا اے سی ہو، بستر نرم ہو، گاڑی موجود ہو اور ذرا سی تکلیف سامنے آئے تو فوراً اس کا انتظام کردیا جائے۔


محبت اپنی جگہ بہت خوبصورت چیز ہے، لیکن محبت اگر تربیت سے خالی ہوجائے تو یہی محبت کبھی کبھی اولاد کی سب سے بڑی دشمن بن جاتی ہے۔


اولاد کو ناز و نعمت کا عادی مت بنائیے، محنت و مشقت کا عادی بنائیے۔ اسے ہر وقت آرام مت دیجیے، کبھی ذمہ داری بھی دیجیے۔ ہر ضرورت پر جیب مت کھولیے، کبھی اسے اپنی ضرورت اور خواہش کے درمیان فرق بھی سمجھائیے۔ زیادہ جیب خرچ دے کر یہ نہ سمجھیے کہ آپ بچے کو خوش کررہے ہیں؛ ہوسکتا ہے آپ آہستہ آہستہ اسے دولت کی بے قدری سکھا رہے ہوں۔


جس بچے کو ہر چیز بغیر محنت کے ملتی رہے، اس کے لیے محنت کی قیمت کم ہوجاتی ہے۔ جسے ہر خواہش پوری ہونے کی عادت پڑ جائے، اس کے لیے محرومی ناقابل برداشت ہوجاتی ہے۔ جسے ہر کام کے لیے سہولت ملتی رہے، وہ مشکل کام سے گھبرانے لگتا ہے۔ اس لئے بچے کو اتنا آرام نہ دیجیے کہ محنت اسے مصیبت معلوم ہونے لگے۔


یہاں میں گجرات کے معروف ہیرا تاجر ساوجی بھائی ڈھولکیا کی مثال بطور مثال پیش کرنا چاہوں گا۔ 


معمولی کسان گھرانے سے نکل کر محنت اور دیانت سے ایک بڑا کاروباری مقام بنانے والے ساوجی بھائی ڈھولکیا نے اپنے بیٹے درویہ کو دولت کی چھاؤں میں رکھنے کے بجائے زندگی کی دھوپ دکھانے کا فیصلہ کیا۔


 کروڑ پتی باپ کا بیٹا تھا، مگر باپ نے اسے یہ نہیں سکھایا کہ دولت تمہارا حق ہے؛ بلکہ یہ سکھانا چاہا کہ دولت کے پیچھے محنت پوشیدہ ہے۔ اسے گھر سے دور بھیجا گیا، شناخت چھپا کر عام نوجوان کی طرح ملازمت تلاش کرنے کو کہا گیا، جیب میں محدود رقم تھی اور ضروریات پوری کرنے کے لیے اسے خود کمانا تھا۔


یہ سزا نہیں تھی، تربیت تھی۔

مقصد یہ تھا کہ بیٹا جب کل کو کاروبار سنبھالے تو اسے صرف دفتر، منافع اور اعداد و شمار دکھائی نہ دیں؛ اسے وہ ہاتھ بھی دکھائی دیں جن سے کاروبار چلتا ہے، وہ مزدور بھی دکھائی دیں جو معمولی تنخواہ میں اپنے گھروں کا چولہا جلاتے ہیں اور وہ مشقت بھی محسوس ہو جس کے بغیر بڑے بڑے کاروبار کھڑے نہیں ہوتے۔


اولاد کو دولت کا وارث بنانا آسان ہے، دولت کی قدر کا وارث بنانا مشکل ہے۔ ہم اپنے بچوں کو بچپن ہی سے ہر تکلیف سے بچاتے ہیں۔

گرمی ہے، پنکھا چلادو۔ زیادہ گرمی ہے، اے سی چلا دو۔ باہر جانا ہے، گاڑی نکالو۔ کچھ خریدنا ہے، پیسے لے لو۔ کپڑے پرانے ہوگئے، نئے لے آؤ۔


موبائل چاہیے، دلادو۔ اور اگر بچہ ذرا سا تھک جائے تو ہم فوراً فکر مند ہوجاتے ہیں۔


پھر جب یہی بچہ بڑا ہوکر زندگی کی پہلی سختی سے دوچار ہوتا ہے تو ہمیں حیرت ہوتی ہے کہ اسے کیا ہوگیا ہے؟


ماسٹر محمد اکرام مرحوم نے اپنے بیٹے محمد عادل کو ہوزری کا کام سکھایا ، کپڑے کی کٹنگ سکھائی، عام محنت کش مزدوروں جیسا رویہ بیٹے کے ساتھ رکھا، شروع شروع میں قینچی چلانے کی وجہ سے ہاتھ زخمی ہوگیا ، خون رسنے لگا تو محمد عادل نے کپڑا لپیٹ لیا، ان کے والد نے کہا کپڑا ہٹا دو اور کام جاری رکھو۔پھر دوا دلوائی۔


تربیت کا مطلب یہ نہیں کہ اولاد کو محروم رکھا جائے، بلکہ یہ ہے کہ اسے نعمت ملے تو شکر اور نعمت نہ ملے تو صبر بھی آتا ہو۔اچھا لباس دیجیے، مگر پرانے لباس کی تحقیر نہ سکھائیے۔ اچھا کھانا دیجیے، مگر سادہ کھانے سے نفرت نہ ہونے دیجیے۔ آرام دیجیے، مگر مشقت سے فرار نہ سکھائیے۔ جیب خرچ دیجیے، مگر پیسے کی قدر بھی سکھائیے۔


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سادہ زندگی بھی ہمارے لیے ایک روشن نمونہ ہے چنانچہ ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ۔


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر ایک سادہ سا مسح یعنی ٹاٹ تھا، جسے دوہرا کرکے بچھایا جاتا تھا۔ ایک رات دل میں خیال آیا کہ اگر اسے دو تہوں کے بجائے چار تہہ کردیا جائے تو بستر کچھ زیادہ نرم اور آرام دہ ہوجائے گا۔ چنانچہ ایسا ہی کردیا۔


صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا:


"رات میرے لیے کیا بچھایا گیا تھا؟"


عرض کیا: یا رسول اللہ! وہی آپ کا بستر تھا، البتہ ہم نے اسے چار تہہ کردیا تھا تاکہ آپ کے لیے کچھ زیادہ آرام دہ ہوجائے۔


آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:


"اسے پہلی حالت پر لوٹا دو، اس کی نرمی نے مجھے آج رات کی نماز سے روک دیا۔"(ترمذی)


ہمارے بزرگوں کا تربیتی مزاج بھی یہی تھا۔


مظاہر علوم کے شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی رحمہ اللہ کے بارے میں یہ بات بیان کی جاتی ہے کہ وہ درس گاہوں اور قیام گاہوں میں پنکھوں کی زیادہ سہولت کے قائل نہیں تھے۔ ان کا خیال تھا کہ طلبہ اگر آرام و آسائش کے عادی ہوجائیں گے تو محنت کا مزاج کمزور ہوگا۔


اسی طرح بہت زیادہ شاندار اور نرم فرش و قالین بھی اگر نیند اور سستی کا سبب بننے لگیں تو طالب علم کے لیے نقصان دہ ہیں۔


طالب علم کو یہ احساس رہنا چاہیے کہ وہ مدرسے میں متعلم ہے، سیاح نہیں؛ طالب علم ہے، آرام طلب نہیں؛ علم کا مسافر ہے، آسائش کا مسافر نہیں۔ مدرسے کی چار دیواری کا وقت بہت قیمتی ہے۔ ایک ایک ساعت علم کے لیے، مطالعے کے لیے، سبق کی تیاری کے لیے، تکرار کے لیے اور شخصیت سازی کے لیے ہے۔


اگر طالب علم کو ہر طرف ایسی سہولتیں مل جائیں کہ کتاب کھولتے ہی نیند آنے لگے، معمولی مشقت سے طبیعت بوجھل ہونے لگے اور وقت کی پابندی دشوار محسوس ہونے لگے تو پھر ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم طالب علم کو تعلیم دے رہے ہیں یا آسائش؟


فوجی زندگی کا مزاج بھی ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ ہر وقت آرام طلبی انسان کو مشکل حالات کے لیے تیار نہیں کرتی۔


فوجی جوانوں کی نقل و حمل کے لیے ایسی گاڑیاں بھی استعمال ہوتی ہیں جو عام مسافر گاڑیوں کی طرح آرام و آسائش کے لیے نہیں بنائی جاتیں۔ سادہ نشستیں، محدود سہولتیں اور سخت ماحول یہ سب ایک مقصد رکھتے ہیں: جوان کو مشکل حالات کے لیے تیار کرنا۔


میدانِ جنگ میں اسے نرم صوفہ، آرام دہ سفر اور ہر وقت موافق موسم نہیں ملنا۔ وہ دھوپ میں بھی ہوگا، سردی میں بھی، دھول میں بھی، بارش میں بھی، دشوار گزار راستوں پر بھی اور مسلسل مشقت میں بھی۔ اس لیے تربیت کے زمانے میں اسے ہر ممکن آسائش کا خوگر بنانا اس کے مقصد کے خلاف ہے۔


شیخ سعدیؒ نے میدانِ عمل کے لیے ایسے ہی مزاج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کیا خوب کہا:


اسب لاغر میان بہ کار آید

روزِ میداں نہ گاوِ پرواری


یعنی میدانِ کارزار میں چست اور کام کا گھوڑا کام آتا ہے، موٹا تازہ اور عیش کا خوگر جانور نہیں۔


یہی انسان کی تربیت کا بھی ایک اصول ہے۔ میدانِ زندگی میں تیار آدمی کام آتا ہے، صرف آسائش میں پالا ہوا آدمی نہیں۔


ہم مدارس میں اپنے بچوں کو داخل کرتے ہیں تو ہمارا مقصد صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ وہ چند کتابیں پڑھ لیں اور چند امتحان پاس کرلیں۔


ہمیں ان کے اندر وقت کی قیمت، محنت کی عظمت، سادگی کی عادت، ذمہ داری کا احساس، نظم و ضبط، برداشت اور خود اعتمادی پیدا کرنی ہے۔


طالب علم کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ صبح کا وقت سونے کے لیے نہیں، پڑھنے کے لیے ہے۔کھانا ضرورت ہے، مشغلہ نہیں۔ موبائل سہولت ہوسکتا ہے، زندگی نہیں۔ آرام ضرورت کے بقدر اچھا ہے، لیکن آرام پسندی شخصیت کو کھوکھلا کردیتی ہے۔


اسے اپنے کپڑے خود سنبھالنے دیجیے، اپنے کمرے کی ترتیب و صفائی کا احساس دیجیے، وقت کی پابندی سکھائیے، معمولی کاموں میں دوسروں کا محتاج نہ بنائیے۔


جو طالب علم اپنے بستر کی چادر تک درست نہیں کرسکتا، وہ زندگی کی الجھی ہوئی ڈور کیسے سلجھا سکتا؟


اولاد کو محروم نہیں، مضبوط بنائیے ، تربیت محرومی کا نام نہیں، اعتدال کا نام ہے۔ بچے کو نعمت بھی چاہیے اور نعمت کی قدر بھی۔


اسے سہولت بھی چاہیے اور سہولت کے بغیر رہنے کا حوصلہ بھی۔ جیب خرچ بھی چاہیے اور حساب کتاب بھی۔ آرام بھی چاہیے اور محنت کا ذوق بھی۔ محبت بھی چاہیے اور ذمہ داری بھی۔ ورنہ آج کا نازک پودا کل زندگی کی پہلی تیز ہوا میں ٹوٹ سکتا ہے۔


اولاد کو اتنا مضبوط بنائیے کہ وہ سہولت ملنے پر شکر کرے اور سہولت نہ ملنے پر شکوہ نہ کرے۔

اتنا محنتی بنائیے کہ کام اسے بوجھ نہیں، زندگی کا حصہ محسوس ہو۔


اتنا باوقار بنائیے کہ جیب خالی ہو تو بھی شخصیت خالی نہ ہو۔

اور طلبہ کو بھی ایسا بنائیے کہ مدرسے سے نکلتے وقت ان کے ہاتھ میں صرف سند نہ ہو، زندگی کا سامنا کرنے کا حوصلہ اور بلند نصب العین بھی ہو۔


(سات ربیع الاول چودہ سو اڑتالیس ہجری)

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے