سنو سنو!!
صاحب زادگی کا نشہ
(ناصرالدین مظاہری)
شیخ سعدیؒ صرف شاعر نہیں تھے، وہ انسانی نفسیات کے نباض، معاشرتی زندگی کے گہرے مشاہد، تربیت و تہذیب کے استاد اور انسانی عظمت کے حقیقی معیار سے واقف ایک دانا حکیم تھے۔ ان کی گلستان اور بوستان میں جگہ جگہ ایسے موتی بکھرے ہوئے ہیں جو انسان کو اس کے حسب و نسب، خاندان، دولت، منصب اور ظاہری وجاہت سے نکال کر اس کے علم، ہنر، کردار، صلاحیت اور عمل کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔
سعدیؒ کا پیغام بہت صاف ہے کہ
دوسروں کے کمال پر فخر کرنے کے بجائے اپنے اندر کمال پیدا کیجیے ۔
اپنے بزرگوں کے نام پر اترانے کے بجائے اپنے نام کو معتبر بنائیےب۔
نسب پر ناز کرنے کے بجائے ہنر پیدا کیجیے ۔
شیخ سعدیؒ اپنی کتاب گلستاں کے آخری باب میں فرماتے ہیں:
جوهر اگر در خلاب افتد همچنان نفیس است
و غبار اگر به فلک رسد همان خسیس
اگر اصلی گوہر گندگی اور کیچڑ میں بھی جا گرے تو اس کی قیمت کم نہیں ہوتی، اور اگر معمولی غبار آسمان تک بھی پہنچ جائے تو وہ اپنی حقیقت میں غبار ہی رہتا ہے۔
انسان کا اصل مقام اس کے ماحول، لباس، منصب، خاندان اور ظاہری چمک دمک سے نہیں، اس کے اندر موجود جوہر سے متعین ہوتا ہے۔
کوئی شخص معمولی گھر میں پیدا ہوکر غیر معمولی بن سکتا ہے، اور کوئی شخص غیر معمولی گھرانے میں پیدا ہوکر اپنی نااہلی کے سبب معمولی سے بھی معمولی ہوسکتا ہے۔
شیخ سعدی تربیت کی طرف بھی متوجہ کرتے ہیں:
استعداد بے تربیت دریغ است
و تربیت نامستعد ضایع
یعنی صلاحیت ہو مگر تربیت نہ ہو تو یہ صلاحیت ضائع ہوجاتی ہے، اور جس میں بنیادی استعداد ہی نہ ہو، اس کی تربیت میں محض محنت صرف کرنا بھی بے فائدہ ہوسکتا ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ صلاحیت پہچانی بھی جائے، نکھاری بھی جائے اور استعمال بھی کی جائے۔
نسب عالی ہو مگر اپنا ہنر نہ ہو!
سعدی کی مثال اس سے بھی زیادہ لطیف ہے:
خاکستر نسبے عالی دارد
که آتش جوهر علویست
ولیکن چون به نفس خود هنرے ندارد با خاک برابر است۔
راکھ کا نسب تو بہت بلند ہے، اس لیے کہ وہ آگ سے نکلی ہے؛ لیکن جب خود اس میں آگ کی حرارت باقی نہ رہی تو خاک کے برابر ہوگئی۔
کیا ہمارے معاشرے کے لیے اس سے بڑی تنبیہ ہوسکتی ہے؟
باپ عالم ہے، بیٹا جاہل!
دادا بزرگ ہیں، پوتا بے عمل!
خاندان معروف ہے، فرد بے صلاحیت! ادارہ بڑا ہے، آدمی چھوٹا!
نسب بلند ہے، کردار پست! وزارتوں کے قلم دان جاہلوں کے سپرد ہیں۔
ایسے شخص کو سعدی کی یہ راکھ یاد رکھنی چاہیے۔
آگ سے نسبت کافی نہیں، خود بھی حرارت پیدا کیجیے ۔
پھر سعدی ایک نہایت خوب صورت مثال دیتے ہیں:
و قیمت شکر نه از نے است
که آن خود خاصیت وے است
شکر کی قیمت اس لیے نہیں کہ وہ گنے سے نکلی ہے؛ شکر کی قدر اس کی اپنی مٹھاس کی وجہ سے ہے۔
گویا انسان کی قدر بھی صرف اس کے خاندان سے نہیں، اس کی اپنی شیرینی، اپنے اخلاق، اپنے علم اور اپنے عمل سے ہے۔
پھر سعدی دو مصرعوں میں پورا فلسفہ سمیٹ دیتے ہیں:
چو کنعان را طبیعت بے ہنر بود
پیمبرزادگی قدرش نیفزود
کنعان اگرچہ حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا تھا، مگر جب اس کی طبیعت بے ہنری اور بے ایمانی کی طرف مائل تھی تو پیمبر زادگی بھی اس کے کام نہ آئی۔
یہاں سعدی نسب کی نفی نہیں کررہے، بلکہ نسب پر بے جا اعتماد کی نفی کررہے ہیں، شیخ سعدی یہی تو کہنا چاہتے ہیں کہ اگر باپ کا علم بیٹے کو یاد نہ ہو تو ایسا بیٹا باپ کی میراث کا وارث کیونکر ہوسکتا ہے۔ قوم کو اپنا مزاج ایسا بنانا چاہیے کہ اہلیت اور صلاحیت کو مدنظر رکھے محض بیٹا ہونے کو ترجیح نہ دے کیونکہ وراثتیں صرف گھر تک چلتی ہیں گھر کے باہر قومی و ملی اداروں اور ملکی و قومی جائیدادوں میں نہیں چل سکتی ہیں۔آج ہم جس کو اندھ بھکتی کہتے ہیں یہ ہردور میں رہی ہے ، بعض قوموں نے بعض بادشاہوں کے مرنے پر اس کے آٹھ سالہ بچے کو ہی بادشاہ بنالیا،سوچیں یہ بچہ جس کی عمر کھیلنے ، کودنے، پڑھنے کی تھی اس کو جاہلوں نے جہالت کی مسند پر براجمان کردیا۔
نیک خاندان نعمت ہے، بزرگوں سے نسبت سعادت ہے، صالح گھرانے میں پیدا ہونا اللہ تعالیٰ کا فضل ہے؛ لیکن یہ سب اس وقت تک فائدہ مند ہیں جب انسان خود بھی اس نسبت کا حق ادا کرے۔
حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے کا نسب اسے طوفان سے نہ بچا سکا، کیونکہ نجات کا تعلق محض خون کے رشتے سے نہیں بلکہ ایمان و اطاعت سے ہے۔
حضرت سعدی آگے فرماتے ہیں:
هنر بنما اگر داری نه گوهر
گل از خار است و ابراهیم از آزر
اگر ہنر ہے تو اسے ظاہر کر، محض گوہرِ نسب پر فخر مت کر۔
دیکھیے، شیخ سعدی نے کیا عمدہ مثال دی ہے!
گل خار سے پیدا ہوتا ہے اور ابراہیم آزر سے۔
کانٹے کی جھاڑی میں پھول کھل سکتا ہے اور ایک مشرک باپ کے گھر میں حضرت ابراہیم علیہ السلام جیسا خلیل اللہ پیدا ہوسکتا ہے۔
اس لیے اپنی اصل پہچان اپنے عمل سے بنائیے۔
باپ کی عظمت آپ کے لیے احترام کا سبب ہوسکتی ہے، لیکن آپ کی عظمت کا ثبوت نہیں۔
آپ کے والد عالم تھے تو یہ ان کا کمال تھا؛ آپ بھی عالم بنیے تب آپ کے اندر کمال ہوگا۔ آپ کے دادا بزرگ تھے تو یہ ان کی سعادت تھی؛ آپ بھی نیک بنیے تاکہ آپ کے بعد والے آپ کی مثال دیں۔ آپ کے خاندان نے شہرت کمائی تو وہ ان کی محنت تھی؛ آپ بھی کچھ کمائیے۔دوسروں کے چراغوں کی روشنی میں اپنا چہرہ روشن کرنے کے بجائے اپنا چراغ جلائیے۔ ہنر ایسی دولت ہے جو کبھی غریب نہیں ہوتی۔
شیخ سعدی ایک حکیم کی زبان سے اپنے بیٹوں کو نصیحت کرواتے ہیں:
جانان پدر، هنر آموزید
اے پیارے بیٹو! ہنر سیکھو کیونکہ:
ملک و دولت دنیا اعتماد را نشاید
دنیا کی حکومت اور دولت پر بھروسا نہیں کیا جاسکتا۔
سونا چاندی سفر میں خطرے سے محفوظ نہیں؛ چور ایک ہی مرتبہ میں لے جاسکتا ہے، یا مالک تھوڑا تھوڑا کرکے اسے خرچ کرسکتا ہے۔
اما هنر چشمهٔ زاینده است
و دولت پاینده
ہنر ایک جاری رہنے والا چشمہ ہے اور پائیدار دولت ہے۔
پھر سعدی وہ جملہ کہتے ہیں جسے سونے کے حروف سے لکھ دینا چاہیے:
هنر در نفس خود دولت است
ہنر بذاتِ خود دولت ہے۔
اگر ایک ہنرمند شخص دنیاوی دولت سے محروم بھی ہوجائے تو زیادہ غم کی بات نہیں، کیونکہ اس کا ہنر خود اس کی دولت ہے۔ جہاں جائے گا قدر پائے گا، عزت پائے گا، اور صدر نشین ہوگا؛ جبکہ بے ہنر آدمی دوسروں کے ٹکڑوں کا محتاج اور مشکلات کا شکار ہوگا۔
یہاں حضرت سعدی ہمیں یہ بھی بتاتے ہیں کہ دولت کا اصل محافظ دولت نہیں، ہنر ہے۔ دولت ختم ہوسکتی ہے، ہنر دوبارہ دولت پیدا کرسکتا ہے۔ منصب چھن سکتا ہے، ہنر دوبارہ منصب پیدا کرسکتا ہے۔مکان چھن سکتا ہے، ہنر دوبارہ مکان بناسکتا ہے۔ لیکن جس شخص کا ہنر ہی چھن گیا، اس کے پاس دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے کے سوا کیا رہ جائے گا؟
شیخ سعدی نے اپنی کتاب میں ایک واقعہ " وزیر کا بیٹا اور گاؤں کا دانشمند" لکھا ہے، اس حکایت میں ایک ایسا منظر پیش کرتے ہیں جو آج بھی ہمارے معاشرے کے منہ پر زوردار طمانچہ ہے۔
وہ فرماتے ہیں:
روستازادگان دانشمند
به وزیرے پادشا رفتند
پسران وزیر ناقص عقل
به گدایی به روستا رفتند
دیہات کے دانشمند نوجوان اپنی قابلیت کے سبب بادشاہ کے وزیر بن گئے، جبکہ وزیر کے نالائق بیٹے اپنی خاندانی نسبت کے باوجود گاؤں میں بھیک مانگنے کی نوبت تک پہنچ گئے۔
یعنی خاندان دروازہ کھول سکتا ہے، اندر داخل ہونا آپ کے اپنے کمال پر منحصر ہے۔ باپ وزیر ہے، تو آپ کو وزیر کی کرسی وراثت میں نہیں ملتی؛ آپ میں وزیر کی صلاحیت بھی ہونی چاہیے۔ باپ استاد ہے، تو بیٹا خود بخود استاد نہیں بن جاتا۔
باپ عالم ہے، تو بیٹا خود بخود عالم نہیں ہوجاتا۔ باپ صاحبِ قلم ہے، تو بیٹا صرف قلم پکڑ لینے سے صاحبِ قلم نہیں بن جاتا۔ نسب تعارف دے سکتا ہے، کمال مقام دیتا ہے۔
شیخ سعدی باب اول در سیرت پادشاہان میں ایک بادشاہ اور اس کے بچوں کا واقعہ لکھتے ہیں ان بچوں میں ایک بچہ ٹھگنا یعنی پست قد تھا باقی بھائی لمبے اور خوبصورت تھے،مگر ٹھگنا تعلیم ، لیاقت ، تجربہ، حوصلہ، جرات، فنون جنگ پر چیز سے واقف تھا مگر بڑے بھائی بالکل ٹھپ تھے انھیں صرف اپنی نسبت اور اپنے قد و قامت پر ناز تھا۔ پست قامت بچے نے کہا کہ
کوتاه خردمند به که نادان بلند
نه هر چه به قامت مهتر به قیمت بهتر
سمجھ دار چھوٹا آدمی نادان لمبے آدمی سے بہتر ہے؛ ہر وہ شخص جو قد میں بڑا ہو، ضروری نہیں کہ قدر و قیمت میں بھی بڑا ہو۔
یہاں سعدی ظاہری جسمانی ساخت کے مقابل عقل و قابلیت کو معیار بناتے ہیں۔
اور پھر کہتے ہیں:
تا مرد سخن نگفته باشد
عیب و هنرش نهفته باشد
جب تک انسان بولتا نہیں، اس کا عیب اور ہنر دونوں چھپے رہتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ کسی انسان کو صرف اس کی ظاہری صورت، خاندان، لباس یا عہدے سے نہ پرکھیے۔
ممکن ہے جسے آپ معمولی سمجھ رہے ہیں، اس کے اندر ایک غیر معمولی صلاحیت چھپی ہوئی ہو۔
سعدی اسی حکایت میں فرماتے ہیں:
اسب لاغرمیان به کار آید
روز میدان، نه گاو پرواری
میدانِ جنگ میں دبلا پتلا گھوڑا کام آتا ہے، موٹا تازہ بیل نہیں۔
یعنی کام کے وقت کام آنے والی صلاحیت اصل چیز ہے۔
شیخ سعدی اسی سلسلے میں ایک اور زبردست اصول بیان کرتے ہیں:
مشک آن است که ببوید نه آنکه عطار بگوید
مشک وہ ہے جس سے خوشبو آئے، وہ نہیں جس کے بارے میں عطار خود اعلان کرتا پھرے کہ یہ مشک ہے۔
دانا چو طبلهٔ عطار است
خاموش و هنرنما
و نادان خود طبل غازی
بلندآواز و میانتہی
دانا عطار کی مشک کی طرح خاموش مگر خوشبودار ہوتا ہے، جبکہ نادان جنگ کے نقارے کی طرح بلند آواز اور اندر سے خالی ہوتا ہے۔
یہاں شیخ سعدی نے خود نمائی اور حقیقی کمال کا فرق سمجھا دیا۔
جس میں کمال ہوتا ہے، اسے ہر وقت اپنے کمال کا اعلان نہیں کرنا پڑتا۔ خوشبو اپنے وجود کا اعلان خود کرتی ہے۔ علم کی روشنی خود دکھائی دیتی ہے۔ صلاحیت کا اثر خود ظاہر ہوتا ہے۔ کردار کی خوشبو خود پھیلتی ہے۔
آج ہمارے معاشرے میں ایک عجیب بیماری پیدا ہوگئی ہے۔
کسی کا باپ بڑا عالم ہے تو وہ اپنے آپ کو بڑا سمجھتا ہے۔
کسی کا دادا صاحبِ نسبت ہے تو پوتا اپنی نالائقی بھی نسبت کے پردے میں چھپانا چاہتا ہے۔
کسی کا خاندان معروف ہے تو فرد اپنی ذاتی کمزوریوں کو خاندان کے نام سے ڈھانپ لیتا ہے۔
کسی کے پاس عہدہ ہے تو وہ عہدے کو اپنی قابلیت سمجھ لیتا ہے۔
کسی کے پاس مال ہے تو وہ مال کو اپنا کمال سمجھ لیتا ہے۔
لیکن حضرت سعدی کہتے ہیں:
اپنی مٹھاس پیدا کرو، صرف گنے سے نسبت پر فخر نہ کرو۔
اپنی حرارت پیدا کرو، صرف آگ سے نسبت کافی نہیں۔
اپنی خوشبو پیدا کرو، صرف عطار کے گھر میں پیدا ہونا کافی نہیں۔
اپنا ہنر دکھاؤ، صرف گوہرِ نسب ساتھ ہونا کافی نہیں۔
نسب نعمت ہے، نجات نہیں
یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ ان تفصیلات سے یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ شیخ سعدی نسب اور خاندان کی توہین کرتے ہیں ہرگز نہیں وہ تو چیخ چیخ کر اعلان کرتے ہیں کہ :
نیک خاندان اللہ کی نعمت ہے۔
صالح والدین خدا کی نعمت ہیں۔
بزرگوں کی نسبت باعثِ برکت ہوسکتی ہے۔
اچھے گھرانے میں پرورش ایک عظیم سرمایہ ہوسکتی ہے۔
لیکن یہ سب سرمایہ تب ہی مفید ہے جب انسان اسے اپنے عمل سے سچ ثابت کرے۔
حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی بہت تھے، لیکن آج دنیا کی زبان پر حضرت یوسف علیہ السلام کا نام اپنی پاکیزگی، صبر، عفت، علم اور کردار کی وجہ سے زندہ ہے۔
حضرت نوح علیہ السلام نبی تھے، لیکن ان کا وہ بیٹا جس نے ایمان قبول نہ کیا، نبی کا بیٹا ہونا بھی اسے نجات نہ دلا سکا۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام ایک مشرک باپ کے گھر پیدا ہوئے، مگر اپنے ایمان و توحید اور بے مثال استقامت کی وجہ سے خلیل اللہ بن گئے۔
اسی لیے مضمون نویس یہ اعلان کرتا ہے کہ
نسب راستہ دکھا سکتا ہے، منزل تک آپ کو خود پہنچنا ہوگا۔
اگر آج شیخ سعدی ہمارے درمیان ہوتے اور ہم ان سے پوچھتے:
حضور! آدمی کو کیا کرنا چاہیے کہ لوگ اسے اس کے خاندان سے نہیں، اس کے اپنے نام سے پہچانیں؟
تو شاید شیخ سعدی اپنی پوری کتاب سامنے رکھنے کے بجائے صرف ایک شعر سنا دیتے:
هنر بنمائی اگر داری نه گوهر
اگر ہنر ہے تو اسے ظاہر کرو، صرف نسب کے گوہر نہ دکھاتے پھرو۔
دوسروں کے باپ دادا کا تعارف مت بنو، اپنے کردار کا تعارف بنو۔
اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کو تلاش کرو۔انہیں علم سے نکھارو۔ تربیت سے سنوارو۔ محنت سے مضبوط کرو۔ عمل سے ثابت کرو۔اور پھر خاموشی سے لوگوں کے کام آؤ۔
کیونکہ دنیا یہ نہیں پوچھتی کہ:
تم کس کے بیٹے ہوبلکہ دنیا یہ دیکھتی ہے:
تم خود کیا ہو؟
اور تاریخ یہ نہیں لکھتی کہ فلاں شخص کا باپ کتنا بڑا تھا؛ تاریخ یہ لکھتی ہے کہ وہ شخص خود کتنا بڑا تھا۔
اسی لیے شیخ سعدی کا سبق آج بھی تازہ ہے:
صاحب زادگی پر فخر نہ کرو، صاحبِ ہنر بنو۔ نسب کو سہارا نہ بناؤ، کردار کو سہارا بناؤ۔ بزرگوں کے نام سے روشنی نہ مانگو، خود چراغ بنو۔
اپنی اس تحریر کا آغاز تو حضرت شیخ سعدی شیرازی سے کیا تھا لیکن اس کا اختتام بلکہ مسک ختام حضرت مولانا شیخ محمد زکریا کاندھلوی کے ایک زبردست اقتباس پر کرنا چاہتا ہوں۔
شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلوی مہاجر مدنی اپنے حالات زندگی میں اپنا اور اپنے والد حضرت مولانا محمد یحی کاندھلوی کا تذکرہ کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ:
"میرے والد صاحب کی نگاہ میں بڑی اہم چیز صاحب زادگی کا مسئلہ بھی تھا ان کا بار بار سینکڑوں دفعہ کا سنا ہوا مقولہ کہ صاحب زادگی کا سور بہت دیر میں نکلتا ہے۔ اس ناکارہ کے متعلق اگر کبھی ان کو کسی فعل سے شبہ بھی ہوجاتا تو پھر خیر نہیں ہوتی تھی۔"
(آپ بیتی جلد اول تنقید بر سوانح یوسفی)
مسک ختام:
شیخ سعدی نے ہمیں بتایا کہ صاحب زادگی سے زیادہ صاحبِ ہنر بنو، اور حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ نے اپنے والد حضرت مولانا محمد یحییٰ کاندھلویؒ کی تربیت کا یہ واقعہ سنا کر گویا اسی حقیقت پر مہرِ تصدیق ثبت کردی کہ بزرگوں کی عظمت انسان کے لیے باعثِ فخر ضرور ہوسکتی ہے، مگر اس کی اپنی محنت، اہلیت اور کردار کا بدل نہیں ہوسکتی۔
باپ کا نام وراثت میں مل سکتا ہے، باپ کا کمال نہیں۔
خاندان کا تعارف مل سکتا ہے، خاندان کی صلاحیت نہیں۔
نسب کی نسبت مل سکتی ہے، نسب کی عزت اپنے عمل سے کمانی پڑتی ہے۔
اس لیے صاحب زادگی پر ناز کرنے کے بجائے صاحبِ ہنر بنیے، بزرگوں کے چراغوں کی روشنی میں بیٹھنے کے بجائے اپنا چراغ جلائیے، کیونکہ آنے والی نسلیں آپ کے باپ دادا کا نہیں، آپ کے اپنے کردار کا تعارف پوچھیں گی۔ اور شاید یہی شیخ سعدیؒ کے اس پورے فلسفے کا خلاصہ ہے:
نسب سے پہچان مل سکتی ہے،
مگر پہچان کو پائیدار ہنر اور کردار ہی بناتے ہیں۔
(نو ربیع الاول چودہ سو اڑتالیس ہجری)

0 تبصرے