65a854e0fbfe1600199c5c82

ائمۂ کرام سے صاف صاف باتیں



 سنو سنو!!


ائمۂ کرام سے صاف صاف باتیں


(ناصرالدین مظاہری)


پوری مسجد میں محراب سے زیادہ تنگ اور مختصر شاید ہی کوئی جگہ ہو، لیکن مقام و مرتبہ کے اعتبار سے یہی مختصر سی جگہ دلوں پر حکمرانی کرتی ہے۔ یہاں کھڑا ہونے والا شخص اپنی قوم کا قوام ہوتا ہے۔ یہاں سے جو ادا اور صدا نکلتی ہے، لوگ اس کی اقتدا کرتے ہیں۔ سچ پوچھیں تو محراب مسجد کے دل کی مانند ہے؛ جسم میں دل کا جو مقام ہے، مسجد میں محراب کا بھی تقریباً وہی مقام ہے۔


امام جب تکبیر کہتا ہے تو مقتدی اس کی اقتدا کرتے ہیں، وہ رکوع کرتا ہے تو سب رکوع کرتے ہیں، سجدہ کرتا ہے تو سب سجدہ کرتے ہیں اور سلام پھیرتا ہے تو پوری جماعت کی نماز مکمل ہوتی ہے۔ گویا امام صرف نماز نہیں پڑھاتا، بلکہ ایک پوری جماعت کو اللہ کے سامنے کھڑا کرنے کی ذمہ داری ادا کرتا ہے۔ اسی لیے امامت معمولی منصب نہیں، عظیم فضیلت کے ساتھ عظیم امانت بھی ہے۔


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ۔

"لوگوں کی امامت وہ شخص کرے جو ان میں اللہ کی کتاب کا زیادہ ماہر ہو۔" (مسلم)


جہاں امانت ہو، وہاں جواب دہی بھی ہوتی ہے۔ اس لیے امام کو ہر قدم پر اپنے منصب کی نزاکت کا احساس ہونا چاہیے۔


نماز کو بوجھ نہ بنائیں


امام کے پیچھے بچے بھی ہوتے ہیں، بوڑھے بھی، بیمار بھی، کمزور بھی اور مصروف لوگ بھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ لِلنَّاسِ فَلْيُخَفِّفْ، فَإِنَّ فِيهِمُ الضَّعِيفَ وَالسَّقِيمَ وَالْكَبِيرَ۔

"جب تم میں سے کوئی لوگوں کو نماز پڑھائے تو نماز ہلکی کرے، کیونکہ ان میں کمزور، بیمار اور بوڑھے ہوتے ہیں۔"

(بخاری، مسلم)


یہ نبوی تعلیم امام کو بتاتی ہے کہ تنہائی کی عبادت اور جماعت کی امامت کے تقاضے ایک جیسے نہیں۔ امام محراب میں اپنی ذاتی خواہش یا ذوقِ عبادت کے ساتھ نہیں بلکہ پوری جماعت کی رعایت کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔


مقتدیوں کی مشقت کا خیال رکھیں


ایک مرتبہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے عشاء کی نماز طویل کردی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

أَفَتَّانٌ أَنْتَ يَا مُعَاذُ؟

"اے معاذ! کیا تم لوگوں کو فتنے میں ڈالنے والے ہو؟"

(بخاری، مسلم)


امام کی قراءت خوب صورت اور نماز خشوع والی ہونی چاہیے، لیکن ایسا نہیں کہ اپنی نیکی اور ذوق کو مقتدیوں کی مشقت کا سبب بنا دے۔


صف میں کھڑا شخص صرف ایک نمازی نہیں ہوتا؛ کسی کا کاروبار ہے، کسی کی ملازمت، کسی کی بیماری، کسی کا بوڑھا جسم، کسی کا چھوٹا بچہ گھر میں منتظر ہے، کسی کو سفر پر نکلنا ہے اور کسی نے بڑی مشکل سے جماعت پائی ہے۔ اس لیے امام صفوں کو ہی نہ دیکھے، صفوں میں کھڑے انسانوں کو بھی محسوس کرے۔


امامت کو تکبر نہ بنائیں


محراب کسی انسان کو بڑا نہیں بناتی۔ اصل بڑائی اللہ کی بندگی میں ہے۔ امام اگر یہ سمجھنے لگے کہ "میں امام ہوں، اس لیے سب سے بڑا ہوں"، یا "مقتدی میری بات ہر حال میں مانیں"، تو اسے یاد رکھنا چاہیے امامت خدمت ہے، بادشاہت نہیں۔


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:


مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْتَرْعِيهِ اللَّهُ رَعِيَّةً فَلَمْ يَحُطْهَا بِنَصِيحَةٍ إِلَّا لَمْ يَجِدْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ۔

"جس بندے کو اللہ کسی رعیت کا ذمہ دار بنائے اور وہ خیر خواہی کے ساتھ ان کی نگہبانی نہ کرے، وہ جنت کی خوشبو نہ پائے گا۔"

(بخاری، مسلم)


نماز کی صحت و اطمینان کا خیال 


امام کے لیے ضروری ہے کہ قراءت، رکوع، سجدہ اور دوسرے ارکان میں اطمینان اور اعتدال کا خیال رکھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز میں جلدی کرتے دیکھا تو اسے نماز دوبارہ پڑھنے کا حکم دیا اور فرمایا:

ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا۔

"پھر رکوع کرو یہاں تک کہ رکوع میں اطمینان حاصل ہوجائے، پھر سر اٹھاؤ یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہوجاؤ، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ سجدے میں اطمینان حاصل ہوجائے۔"

(بخاری، مسلم)


امام کی ذمہ داری تو مزید بڑھ جاتی ہے، کیونکہ پوری جماعت اس کی اقتدا میں نماز ادا کرتی ہے۔

مقتدیوں سے خوش اخلاقی سے پیش آئیں۔


امام صرف محراب کا ذمہ دار نہیں، وہ جماعت کا رہنما بھی ہے۔ لوگ اپنے دینی اور گھریلو مسائل لے کر اس کے پاس آتے ہیں۔ کبھی نماز کا مسئلہ، کبھی نکاح کا، کبھی جنازے کا، کبھی کسی گھریلو پریشانی کا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مَا كَانَ الرِّفْقُ فِي شَيْءٍ إِلَّا زَانَهُ۔

"نرمی جس چیز میں ہوتی ہے اسے خوب صورت بنا دیتی ہے۔"

(مسلم)


اس لیے امام کا اخلاق بھی دعوت ہے۔ اس کی نرمی لوگوں کو مسجد سے جوڑ سکتی ہے اور اس کی سختی مسجد سے دور بھی کرسکتی ہے۔


مسجد کو اکھاڑہ نہ بنائیں


مسجد اللہ کا گھر ہے۔ امام، مؤذن، کمیٹی اور نمازی سب اس کے خادم ہیں۔ ذاتی اختلافات، گروہی کشمکش اور باہمی رنجشوں کو منبر و محراب تک پہنچانا مسجد کے تقدس کے خلاف ہے۔


منبر کو اپنے نفس کا ترجمان نہیں، دین کا ترجمان بنائیے۔ ذاتی تشہیر، گروہی مفاد اور دنیاوی کشمکش کے لیے مسجد کو استعمال کرنے سے اس کی حرمت مجروح ہوتی ہے۔


آخری بات


ائمۂ کرام! ذرا کبھی تنہائی میں اپنے آپ سے پوچھئے:

کیا میری امامت مجھے اللہ کے قریب کررہی ہے؟

کیا میں مقتدیوں کا خیر خواہ ہوں؟

کیا میری قراءت درست ہے؟

کیا میں نماز کے مسائل سے واقف ہوں؟

کیا میں کمزوروں کا خیال رکھتا ہوں؟

کیا میرے اخلاق لوگوں کو مسجد سے جوڑتے ہیں یا میری سختی انہیں مسجد سے دور کررہی ہے؟

یاد رکھیے! لوگ آپ کی آواز پر رکوع کرتے ہیں، آپ کی آواز پر سجدہ کرتے ہیں اور آپ کی اقتدا میں نماز مکمل کرتے ہیں۔ کتنی بڑی ذمہ داری ہے!

امام بننا شاید آسان ہے، امام رہنا بھی شاید آسان ہو، لیکن امامت کا حق ادا کرنا آسان نہیں۔


محراب انسان کو ممتاز ضرور کرتی ہے، مگر قیامت کے دن یہی امتیاز سوال بھی بن سکتا ہے۔ اس لیے امام کو اپنی امامت پر فخر سے زیادہ خوف ہونا چاہیے۔ یہ نہ سوچے کہ "میں سب سے آگے کھڑا ہوتا ہوں"، بلکہ یہ سوچے کہ "مجھے سب سے آگے کھڑا کرکے اللہ نے مجھ پر کتنی بڑی ذمہ داری ڈال دی ہے!"


محراب کو اپنی بڑائی کا مقام نہ بنائیں، اپنی عبودیت کا مقام بنائیں۔ منبر کو اپنی شہرت کا ذریعہ نہ بنائیں، حق کی دعوت کا ذریعہ بنائیں۔ مقتدیوں کو اپنے ماتحت نہ سمجھیں، انہیں اپنے بھائی اور اللہ کے بندے سمجھیں۔

امامت عزت ضرور ہے، مگر اس سے پہلے امانت ہے۔

محراب مقام ضرور ہے، مگر اس سے پہلے امتحان ہے۔

مقتدی پیروکار ضرور ہیں، مگر ان کے حقوق بھی ہیں۔


(بارہ ربیع الاول چودہ سو اڑتالیس ہجری)

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے