65a854e0fbfe1600199c5c82

بعض ہنر خدا داد ہوتے ہیں!



 سنو! سنو!!


بعض ہنر خدا داد ہوتے ہیں!


(ناصرالدین مظاہری)


اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو مختلف صلاحیتوں اور استعدادوں کے ساتھ پیدا فرمایا ہے۔ بعض علوم و فنون ایسے ہیں جنہیں حاصل کرنے کے لیے آدمی برسوں محنت کرتا ہے، کتابیں پڑھتا ہے، استادوں کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کرتا ہے، مشق کرتا ہے، تب کہیں جاکر اس فن میں کچھ دسترس حاصل ہوتی ہے۔

لیکن بعض اوقات اللہ تعالیٰ کسی بندے کو کوئی ایسی خداداد صلاحیت عطا فرما دیتے ہیں کہ اسے اس کے لیے خاص محنت و مشقت نہیں کرنی پڑتی۔ وہ جس کام کو دوسروں کے لیے مشکل، پیچیدہ اور طویل مشق کا محتاج سمجھتا ہے، اسے نہایت آسانی سے کرلیتا ہے اور عجیب بات یہ ہے کہ جس شخص کو یہ نعمت عطا ہوتی ہے، خود اسے بھی اکثر اندازہ نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کتنی بڑی دولت سے نواز رکھا ہے۔


کسی کو علمُ الفِراسۃ میں ایسی طبعی بصیرت مل جاتی ہے کہ ظاہری علامات سے لوگوں کے مزاج و اوصاف بھانپ لیتا ہے، کسی کو علمُ القِیافۃ میں ایسی غیر معمولی قدرت حاصل ہوتی ہے کہ آثار و علامات سے شناخت اور مشابہت کا اندازہ کرلیتا ہے، اور کسی کو ریاضی میں ایسی فطری ذہانت عطا ہوتی ہے کہ پیچیدہ حساب و مسائل اسے کھیل معلوم ہوتے ہیں۔بہتوں کو فن عروض میں ایسا کمال و جمال عطا ہوتا ہے کہ آدمی تعجب کئے بغیر نہیں رہتا۔


یہ سب اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ صلاحیتیں ہیں۔


یہاں میں اپنے والدین کی دو ایسی خوبیوں کو بطور مثال پیش کرنا چاہتا ہوں جنہیں آج بھی یاد کرتا ہوں تو اللہ تعالیٰ کی قدرت پر حیرت ہوتی ہے۔


میرے والدین پڑھے لکھے تو نہیں تھے، مگر الحمدللہ دیندار تھے، پابندِ صوم و صلوٰۃ تھے، تلاوتِ قرآن کا ذوق رکھتے تھے، حلال کھاتے اور حلال کھلاتے تھے۔ کسان اور مزارع تھے، زمین اور موسم سے ان کا گہرا تعلق تھا۔


میرے والد صاحب کو ہواؤں کا علم تھا۔ وہ بتادیتے تھے کہ کس موقع پر کون سی ہوا چل رہی ہے اور کون سی ہوا چلنے والی ہے۔ بادلوں کو دیکھ کر بتادیتے کہ یہ بارش والے بادل ہیں یا نہیں، بارش کم ہوگی یا زیادہ ہوگی۔ موسم کو محسوس کرکے اندازہ لگا لیتے کہ آندھی آنے والی ہے یا نہیں اور تعجب کی بات یہ تھی کہ وہ یہ بھی بتادیتے تھے کہ کون سی ہوا اور کون سی بارش فصل کی پیداوار میں اضافے کا سبب بنے گی، کون سی معمول کی ہوگی اور کون سی ہوا فصل کے لیے نقصان دہ ہوسکتی ہے۔


یہ سب کچھ انہوں نے کسی کتاب سے نہیں پڑھا تھا۔ یہ ان کا مشاہدہ، تجربہ اور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ فطری بصیرت تھی۔


وہ قدموں کے نشان دیکھ کر بتادیتے تھے کہ یہ نشان گھر کے کس فرد کے ہیں۔


نیل گائے کے قدموں کے نشانات دیکھ کر بتادیتے کہ یہ تازہ ہیں یا پرانے اور اس وقت یہ جانور کھیت میں کس رخ پر بیٹھا ہوگا اور اس سے بھی عجیب بات یہ تھی کہ مختلف جانوروں کے قدموں کے نشانات دیکھ کر بتادیتے کہ یہ کس جانور کے قدموں کے نشان ہیں۔

زمین پر پڑے ہوئے خاموش قدموں کے نشان پڑھ لینا بھی کوئی معمولی بات نہیں ہے!


والدہ ماجدہ کی قوتِ شامہ کمال کی تھی۔


محلے میں کسی کے یہاں کچھ پک رہا ہو تو وہ بتادیا کرتی تھیں کہ فلاں گھر میں یہ چیز پک رہی ہے!

ہماری بھابھیاں تعجب سے انگلیاں دانتوں تلے دبا لیتیں کہ یہ ماجرا کیا ہے؟


دور دور تک نہ بو، نہ خوشبو، نہ کوئی ایسا ذریعہ جس سے معلوم ہوسکے کہ فلاں گھر میں کیا پک رہا ہے، مگر والدہ ماجدہ بتادیتیں!

اور صرف قوتِ شامہ ہی نہیں، ان کی سماعت بھی غضب کی تھی۔

کہا کرتی تھیں:


’’جس طرح ہر انسان کی آواز الگ ہوتی ہے، میں اپنے گھر کے برتنوں کی آواز بھی دیوار کی اوٹ سے بتادوں گی۔‘‘


ہمیں بچپن میں یہ سب کچھ معمولی لگتا تھا، مگر آج سوچتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ معمولی نہیں، اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ غیر معمولی صلاحیتیں تھیں۔


اب ایک واقعہ جو آج تک مجھے یاد ہے۔


ایک مرتبہ میرے بڑے بھائی ضیاء الدین کھیتوں میں کام کے لئے گئے تھے میں گھر میں خالی بلکہ تھالی تھا ۔ میں نے اپنے بیلوں کو پانی پلادیا۔ تھوڑی دیر بعد جانوروں کے اصل رکھوالے، میرے منجھلے بھائی ضیاء الدین، کھیت سے گھر پہنچے۔

آتے ہی بولے:


’’بیلوں کو پانی ہی پلادیتے ؟‘‘


میں نے سینہ پھلا کر جواب دیا کہ کہ پلادیا ہے۔

کہنے لگے:


’’مجھے تو پیاسے دکھائی دے رہے ہیں!‘‘


پھر انہوں نے بالٹی اٹھائی، پانی بھرا اور بیلوں کو پلایا۔


کم بختوں نے دو دو بالٹی پانی ان کے ہاتھ سے پی کر مجھے جھوٹا ہی ثابت کردیا! اب میں کیا کرتا؟

اپنی صفائی دوں یا بیلوں کی چغلی کروں؟ بھائی صاحب کا تجربہ جیت گیا اور میری گواہی ہار گئی!


تب مجھے اندازہ ہوا کہ جانوروں کو دیکھ کر ان کی پیاس کا اندازہ لگانا بھی ایک فن ہے، اور ہر فن کتاب پڑھ کر نہیں آتا اور ہاں یہ جانور بھی اپنے رکھوالے سے ہی کھانے پینے میں لذت محسوس کرتے ہیں۔


اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو ایک جیسا نہیں بنایا۔ کسی کو حافظہ غیر معمولی عطا فرمایا، کسی کو آواز، کسی کو قوتِ مشاہدہ، کسی کو قوتِ شامہ، کسی کو قوتِ سماعت، کسی کو اعداد سے کھیلنے کا ہنر، کسی کو لوگوں کے مزاج سمجھنے کی صلاحیت اور کسی کو موسم کی کروٹ پہچاننے کا سلیقہ۔

بعض لوگوں کے لیے یہ سب کچھ اتنا معمولی ہوتا ہے کہ انہیں احساس ہی نہیں ہوتا کہ وہ اپنے اندر ایک ایسی دولت لیے پھرتے ہیں جو دوسروں کو برسوں کی محنت کے بعد بھی نصیب نہیں ہوتی۔

ایک کسان بادل دیکھ کر وہ بات سمجھ لیتا ہے جسے کوئی کتاب پڑھ کر بھی نہ سمجھ سکے۔

ایک شکاری قدموں کے نشان دیکھ کر وہ بات جان لیتا ہے جو دوسرا شخص آنکھیں کھول کر بھی نہ جان سکے۔

ایک ماں اپنے بچوں کی آواز ہزاروں آوازوں میں پہچان لیتی ہے۔

اور کوئی شخص صرف کسی کی تحریر دیکھ کر اس کے لکھنے کے انداز میں چھپی ہوئی کچھ عادتوں کو محسوس کرلیتا ہے۔


 ایک زمانے میں مجھے پڑھنے کی دھن اس قدر تھی کہ روز و شب اسی میں گزرتے تھے اور میں کسی بھی پسندیدہ مصنف کا ایک پیرا یا ایک صفحہ پڑھ کر بتادیا کرتا تھا کہ مصنف کون ہے۔


بہرحال صلاحیتیں عجیب چیز ہیں!

کبھی یہ علم کی صورت میں ملتی ہیں، کبھی مشاہدے کی صورت میں، کبھی تجربے کی صورت میں اور کبھی ایسی فطری استعداد کی صورت میں جس کے حصول کے لیے انسان نے کوئی باقاعدہ کوشش ہی نہیں کی۔


 میرے حضرت مولانا اطہر حسین کسی اجنبی کے انداز گفت و شنید، نشست و برخاست اور چال ڈھال سے اس کے کاروبار اور مشغولی کا اظہار کردیتے تھے۔

 ایسی نعمتوں کے مل جانے پر انسان کو فخر نہیں، شکر کرنا چاہیے۔شکر نعمت و دولت میں زیادتی کا سبب ہوتا ہے اور فخر کمی کا باعث بنتا ہے۔


ہر ہنر سیکھا نہیں جاتا کچھ ہنر اللہ تعالیٰ عطا فرمادیتے ہیں اسی لئے بعض علوم اکتسابی کہلاتے ہیں اور بعض علوم وہبی کہے جاتے ہیں۔


(اٹھائیس صفر المظفر چودہ سو اڑتالیس ہجری)

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے