تسخیر کائنات سے شکست نفس تک؛ خواہشات کا لاحاصل سفر
تحریر: مفتی عبید انور شاہ قیصر
جب سے یہ دنیا وجود میں آئی، تب سے یہ بغیر رکے، بغیر تھمے، ایک بندھے بندھائے اصول کے تحت اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے. وہی طلوع و غروبِ شمس کا نظام ہے، وہی گردشِ لیل و نہار ہے. کبھی خزاں ہے، کبھی بہار ہے، کبھی سردی کا زور ہے، کبھی گرمی کا جوش ہے، کبھی طوفان کی تیزی ہے اور کبھی ابر و باراں کی بلاخیزی ہے. موسم اسی طرح ادلتے بدلتے ہیں اور اپنی مخصوص ترتیب کے مطابق الٹتے پلٹتے رہتے ہیں.
بادل اسی طرح پرواز کرتے ہیں، ستارے اسی طرح چمکتے ہیں، آگ روشنی دیتی ہے، جھلساتی ہے، جلاتی ہے، پانی بہتا ہے، دوڑتا ہے، اچھلتا کودتا سفر کرتا ہے، ہوا سائیں سائیں کرتی ہے، پھول خوشبو لٹاتے ہیں، پرندے چہچہاتے ہیں. دانا مٹی میں سماتا ہے، اس سے کلیاں پھوٹتی ہیں، جڑیں بنتی ہیں، پودا نکلتا ہے، درخت بنتا ہے، گھاس اگتی ہے، ہریالی پھیلتی ہے، پھر پتے زرد پڑ جاتے ہیں، گھاس خشک ہو جاتی ہے، درخت بے لباس ہو جاتے ہیں، زمین خشک ہوتی ہے، بنجر بن جاتی ہے، مینہ برستا ہے اور پھر وہی سلسلہ جاری رہتا ہے. اس کائنات کی ہر شیء اپنے دائرے میں اسی طرح مصروفِ عمل ہے جس طرح وہ پہلے دن تھی. افراد و جزئیات پر نظر ڈالیں تو بھی یہی چیز نظر آتی ہے. پرندے اسی طرح گھونسلہ بناتے ہیں، دانے کی تلاش میں پرواز کرتے ہیں اور دانا ملنے پر واپس آ جاتے ہیں. درندے غاروں میں، پہاڑوں میں، جنگلوں کے تاریک گوشوں میں رہتے ہیں، بھوک ستاتی ہے تو شکار کے لیے نکلتے ہیں اور پیٹ بھر جائے تو پھر اپنے ٹھکانے کی طرف لوٹ جاتے ہیں. تمام پرندے اور درندے صدیوں پہلے کی طرح آج بھی اسی جبلت اور ضرورت کے تحت زندگی گزار رہے ہیں.
نظامِ کائنات کا یہ غیر متزلزل تسلسل فطرت کی پابندی کو ظاہر کرتا ہے، کائنات کا ہر ذرہ، ہر پرندہ، ہر درندہ اپنے دائرے میں خاموشی سے اپنے فرض پر کاربند ہے، لیکن اس دنیا میں انسان نامی ایک مخلوق ہے جس نے غاروں سے سفر شروع کیا، ٹھیک سے چلنا سیکھا تو دوڑنے کا شوق پیدا ہوا، دوڑنا سیکھ گیا تو تیرنے کی ضد کر بیٹھا، یہ مرحلہ سر ہوا تو سمندر کی گہرائی میں اترنے کی ٹھانی، پاتال کی خبر لایا تو اب چاند پر کمند ڈالنے کی فکر میں پڑ گیا، ستاروں کو قید کرنے کی ترکیب سوچنے لگا اور سیاروں پر گھر بسانے کے خواب دیکھنے لگا. روٹی (غذا)، کپڑا اور مکان (سر چھپانے کی جگہ) ہر جاندار کی ضرورت ہے. انسان کے سوا جتنے جاندار ہیں وہ اپنی یہ بنیادی ضروریات اپنے بنیادی اور یکساں طریقے پر پوری کرتے ہیں، اس میں کوئی تبدیلی اور جدت نہیں آئی. لیکن انسان نے اپنی ہر ضرورت کو ضرورت سے بڑھا کر پسند، شوق، دلچسپی، تفریح، لذت، آرام کے خانوں میں تقسیم کیا اور پھر عجب جادوگری دکھائی. ماکولات و مشروبات میں بے شمار ذائقے، ان گنت پکوان، لاتعداد ڈش اور لامحدود اقسام ایجاد کیے. سبزیوں اور پھلوں میں نئے نئے تجربات کیے. بیسیوں قسم کے آم، سیب، انگور، ٹماٹر، مرچ، پیاز، وغیرہ تیار کیے. لباس کی باری آئی تو ایک الگ ہی کائنات بنا ڈالی. رنگ برنگے، بھاری ہلکے، نرم موٹے، چمکیلے بھڑکیلے، بے شمار ڈیزائن، بے پناہ اسٹائل، عمر، جنس اور ہر موقع کے لیے الگ الگ ہزاروں لاکھوں قسمیں بنا ڈالیں. مکان کا نمبر آیا تو جھونپڑی سے لے کر محل تک، کچے گھر سے لے کر بلند و بالا عمارتوں تک، چھوٹے سے حجرے سے لے کر عظیم الشان قلعوں تک، سادہ رہائش گاہ سے لے کر فنِ تعمیر کی شاہکار بلڈنگوں تک، انسان کے اختراع و ایجاد کی داستان پھیلی ہوئی ہے.
ضرورت سے یا مجبوری سے نقلِ مکانی ہر جاندار کرتا ہے. اس فعل میں بھی انسان نے اپنی انفرادیت کا ثبوت دیا. پرندہ پرواز کرنے تک محدود رہا، آبی مخلوق تیرنے پر اکتفا کیے رہی، چوپائے پیروں پر بھروسا کیے رہے، مگر جب انسان نے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کی ضرورت محسوس کی، تو پہلے قدموں پر بھروسا کیا، پھر جانوروں کو سواری بنایا، پہیہ ایجاد کیا، گاڑیاں بنائیں، کشتیوں کو تشکیل دیا، سمندروں کا سینہ چاک کیا، ریل دوڑائی، سڑکیں بچھائیں، اور پھر ایسی مشینیں بنا ڈالیں جو چند گھنٹوں میں اسے دنیا کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک پہنچا دیتی ہیں. وہ اس پر بھی مطمئن نہ ہوا، تو اس نے ہواؤں میں پرواز کی، اور آج وہ زمین کو سر کرنے اور آسمان میں اڑنے سے بھی مطمئن نہیں بلکہ اب آسمان کی وسعتوں سے آگے نکلنے کے منصوبے بنا رہا ہے. پھر انسان نے صرف جسمانی سفر ہی نہیں کیا، اپنے جذبات و خیالات کو بھی سفر کرانے کا انتظام کیا. زبان بنائی، الفاظ کو معنی دیے، آوازوں کو حروف میں ڈھالا، حروف کو کتابوں میں محفوظ کیا، کروڑوں اربوں کتابیں لکھ ڈالیں اور کتابوں کو کتب خانوں میں جمع کیا، پھر پیغام رسانی کے ایسے ذرائع ایجاد کیے کہ ایک انسان کی آواز ہزاروں میل دور بیٹھے لوگوں تک پہنچنے لگی.
لیکن انسان کی یہ داستان صرف اختراع و ایجاد کی داستان نہیں ہے، بلکہ یہ نہ ختم ہونے والی خواہش کی داستان ہے. جو چیز کبھی ضرورت تھی، وہ سہولت بنی؛ سہولت پسند بنی؛ پسند شوق بنی؛ شوق عادت بنا؛ اور عادت رفتہ رفتہ ضرورت کا روپ دھارنے لگی. انسان نے اپنی زندگی آسان بنانے کے لیے جو چیزیں ایجاد کیں، ان میں سے بہت سی چیزیں ایسی بھی ہیں جن کے بغیر اب اسے زندگی دشوار محسوس ہوتی ہے. ایک پرندے کے لیے گھونسلہ رہائش ہے، ایک درندے کے لیے غار پناہ گاہ ہے، ایک جانور کے لیے غذا پیٹ بھرنے کا ذریعہ ہے. لیکن انسان کے لیے مکان صرف سر چھپانے کی جگہ نہیں رہا، لباس صرف بدن ڈھانپنے کا وسیلہ نہیں رہا، اور غذا صرف بھوک مٹانے کا نام نہیں رہی. ان بنیادی ضرورتوں کے گرد اس نے ذوق، تہذیب، آرائش، امتیاز، شناخت، مقابلہ اور نمائش کی پوری پوری دنیائیں آباد کر دی ہیں.
انسان نے وقت بچانے کے لیے مشینیں بنائیں، فاصلے کم کرنے کے لیے ذرائع ایجاد کیے، محنت گھٹانے کے لیے آلات تیار کیے، مگر عجیب بات ہے کہ سہولتوں کے بڑھنے کے ساتھ اس کی مصروفیات بھی بڑھتی گئیں. جس وقت کو بچانے کے لیے اس نے اتنی جدوجہد کی، وہی وقت اب اس کے ہاتھ سے پہلے سے زیادہ تیزی کے ساتھ پھسلنے لگا ہے. انسان کی یہ داستان ابھی ختم نہیں ہوئی. انسان آج بھی ایجاد کر رہا ہے، آج بھی اپنی ضرورتوں کی نئی صورتیں تلاش کر رہا ہے، آج بھی اپنی زندگی کو زیادہ آرام دہ، زیادہ تیز، زیادہ وسیع اور زیادہ رنگین بنانے میں مصروف ہے. ایک ضرورت پوری ہوتی ہے تو دوسری جنم لیتی ہے، ایک خواہش پوری ہوتی ہے تو اس کے پیچھے کئی نئی خواہشیں کھڑی ہو جاتی ہیں. یوں انسان کی زندگی صرف ضروریات پوری کرنے کا نام نہیں رہی، بلکہ ضروریات پیدا کرنے، انہیں وسعت دینے اور پھر ان کی تکمیل کے لیے مسلسل دوڑتے رہنے کا نام بن گئی ہے.
غور کریں کہ اگر انسان کے پاس عقل نہ ہوتی تو اس کی لامحدود خواہشات اور ہل من مزید کی یہ تڑپ کبھی تنوع، جدت اور نئے پن کے مظاہر میں سامنے نہ آ پاتی. یہ عقل ہی ہے جس نے اسے یہ سب کرنے لائق بنایا. عقل ہی کے ذریعے اس نے زمین کی حدیں توڑیں، سمندروں کی گہرائیوں میں اترا، آسمانوں کو مسخر کرنے کی کوشش کی، زندگی کو آرام دہ بنانے کے لیے بے شمار سہولتیں پیدا کیں، مگر انسان کی داستان کا سب سے عجیب پہلو یہ ہے کہ اس کے باوجود اس کی طلب ختم نہ ہوئی. ایک منزل ملتی ہے تو دوسری سامنے آ کھڑی ہوتی ہے، ایک خواہش پوری ہوتی ہے تو کئی نئی خواہشیں جنم لے لیتی ہیں. کائنات اپنے مقررہ دائرے میں چل رہی ہے، پرندہ اپنی ضرورت کے مطابق اڑ رہا ہے، درندہ اپنی جبلت کے مطابق شکار کر رہا ہے، موسم اپنی ترتیب سے بدل رہے ہیں؛ مگر انسان ہے کہ اپنی بنائی ہوئی دنیا میں بھی ایک ایسی منزل کی تلاش میں سرگرداں ہے جس کا کوئی آخری سرا دکھائی نہیں دیتا. عقل سے اس نے کائنات کو مسخر اور دنیا کو فتح کرنے کے لیے بہت کچھ سیکھ لیا، مگر تمام تر عقل کے باوجود اپنی خواہشوں کو فتح کرنا نہ سیکھ سکا اور شکست نفس میں مبتلا ہو گیا. اس لیے یہ کہنا بجا ہوگا کہ عقل انسان کا سب سے بڑا سرمایہ بھی ہے اور اس کے لیے سب سے بڑی آزمائش بھی. عقل ہی اس کے کمال کا سبب ہے اور یہی اس کے زوال کی وجہ بھی. عقل ہی اس کی معراج ہے اور عقل ہی اس کے لیے باعثِ عذاب بھی. عقل ہی اس کے فضل و کمال اور اس کی نجات کا راز ہے اور یہی اس کے ابتلا و امتحان کا مدار بھی! خواہشات کے اَسپِ سرکش کو عقل کی لگام سے قابو میں رکھا جائے تو تسخیرِ کائنات کے ساتھ تسخیرِ نفس کا سفر بحسن و خوبی طے ہو سکتا ہے.

0 تبصرے