65a854e0fbfe1600199c5c82

اسٹپنی



 سنو سنو!!


اسٹیپنی


(ناصرالدین مظاہری)


1904 میں برطانیہ کے شہر لانیلی کی اسٹیپنی اسٹریٹ پر رہنے والے دو بھائیوں نے گاڑی کے لیے ایک ایسا فالتو پہیہ تیار کیا جسے پنکچر ہونے والے پہیے کے ساتھ بغیر کسی خاص اوزار کے لگایا جاسکتا تھا۔ ایجاد چلی، مشہور ہوئی، گاڑیوں کے ساتھ دنیا کے مختلف ملکوں تک پہنچی اور اس کے ساتھ اس کا نام بھی چل پڑا Stepney۔


یوں اسٹیپنی ایک سڑک کے نام سے نکلا، ایک ایجاد کا نام بنا اور پھر ہماری روزمرہ زبان کا حصہ ہوگیا۔


ہائی وے پر کار فراٹے بھرتی جارہی تھی کہ اچانک گاڑی کا پچھلا پہیہ پنچر ہوگیا۔ گاڑی کنارے کھڑی کی گئی، خراب پہیہ اتارا گیا، ڈگی سے دوسرا صحیح سالم پہیہ نکالا گیا، لگایا گیا اور کار پھر پہلے کی طرح رواں دواں ہوگئی۔


اس اضافی پہیے کو اسٹیپنی کہا جاتا ہے۔ اس دن مجھے اسٹیپنی کی قیمت اور اہمیت کا شدت کے ساتھ احساس ہوا اور پھر جوں جوں سوچتا گیا، ذہن و دماغ کے دریچے کھلتے چلے گئے۔


ایک ہاتھ کی جگہ دو ہاتھ، دو کان، دو پاؤں، دو آنکھیں، دو گردے، غرض انسانی جسم میں بہت سے اعضا اللہ تعالیٰ نے دو دو عطا فرمائے ہیں۔ یہ محض اضافی چیزیں نہیں، بلکہ قدرت کا ایک حسین انتظام ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی دنیا میں بظاہر اضافی نظر آنے والی چیز بھی کسی وقت غیر معمولی ضرورت پوری کرسکتی ہے۔


کچھ سال پہلے کسی اخبار میں پڑھا تھا کہ ٹانگ میں ایک رگ ہوتی ہے جسے گریٹ سیفینس وین کہا جاتا ہے۔ معمول کے دوران خون میں اس کا اپنا کردار ہے، لیکن ضرورت پڑنے پر اس رگ کا ایک حصہ نکال کر دل کی بائی پاس سرجری میں خون کے لیے متبادل راستہ بنانے کے کام لایا جاسکتا ہے۔ یعنی جسم کے اندر بھی قدرت نے ایسا انتظام رکھا ہے جسے ضرورت کے وقت کسی دوسرے اہم کام کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔


کمپیوٹر میں بیک اَپ رکھا جاتا ہے۔ اصل فائل ضائع ہوجائے، خراب ہوجائے یا کسی وجہ سے دستیاب نہ رہے تو بیک اَپ کام آجاتا ہے۔ موبائل میں بیک اَپ، کاروبار میں متبادل انتظام، ادارے میں متبادل ذمہ دار، ہر جگہ انسان نے یہ اصول اپنا رکھا ہے کہ اصل راستہ بند ہوجائے تو متبادل راستہ موجود ہونا چاہیے۔

حرمین شریفین جائیں تو بڑے بڑے ہوٹلوں میں ہنگامی حالات کے لیے متبادل راستے اور زینے نظر آتے ہیں۔ کسی عہدے کے ساتھ نائب رکھا جاتا ہے، کسی ذمہ داری کے ساتھ متبادل آدمی تیار کیا جاتا ہے۔ یہ سب اپنی اپنی جگہ زندگی کی اسٹیپنی ہیں۔


بیٹا اپنے والد کے لیے اسٹیپنی بنے، شاگرد اپنے استاد کے لیے اسٹیپنی بنے، بھائی اپنے بھائی کے لیے، دوست اپنے دوست کے لیے، ایک کارکن اپنے ادارے کے لیے۔

زندگی میں ہر شخص کو کسی نہ کسی کی اسٹیپنی بننا چاہیے۔

کیونکہ سفر صرف اپنے بل پر نہیں چلتا۔ کبھی ہم کسی کے لیے پہیہ بنتے ہیں اور کبھی ہمیں کسی کی اسٹیپنی کی ضرورت پڑتی ہے۔


یہی اصول مال کے معاملے میں بھی ہے۔ اسلام نے انسان کو نہ یہ سکھایا کہ اپنا سارا مال روک کر بیٹھ جائے اور نہ یہ کہ آج سب کچھ خرچ کرکے کل کی ضرورت سے بے نیاز ہوجائے۔ اعتدال مطلوب ہے۔ کچھ اللہ کی راہ میں، کچھ اہل و عیال پر، کچھ ضروریات زندگی میں اور کچھ آنے والے غیر متوقع حالات کے لیے محفوظ رہے۔


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو اپنے مال کے بارے میں نصیحت فرمائی۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے اپنے مال کے بڑے حصے کو صدقہ کرنے کی اجازت چاہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تہائی کی اجازت دی اور فرمایا:

وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ، إِنَّكَ أَنْ تَذَرَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذَرَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ۔


’’ایک تہائی بھی بہت ہے، تم اپنے وارثوں کو خوش حال چھوڑو، یہ اس سے بہتر ہے کہ انہیں محتاج چھوڑو کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔‘‘ (بخاری،مسلم)


یعنی اسلام نے صدقہ بھی سکھایا اور تدبیر بھی، سخاوت بھی سکھائی اور ذمہ داری بھی۔

مال کا کچھ حصہ آئندہ کی ضرورت کے لیے رکھ لینا ہمیشہ بخل یا دنیا پرستی نہیں ہوتا۔ کبھی یہی پس انداز کیا ہوا مال بیماری، سفر، تعلیم، شادی، گھر کی ضرورت یا کسی اچانک حادثے کے وقت زندگی کی اسٹیپنی بن جاتا ہے۔


آج جیب بھری ہے تو ضروری نہیں کل بھی بھری رہے گی۔ آج صحت ہے تو ضروری نہیں کل علاج کی ضرورت نہ پڑے۔ آج کاروبار چل رہا ہے تو ضروری نہیں کل بھی اسی رفتار سے چلتا رہے۔اس لیے کچھ مال ضرورت کے لیے رکھ لینا ایک تدبیر ہے، بشرطیکہ مال مقصد نہ بن جائے اور حقوق و فرائض پامال نہ ہوں۔ یہ اصول صرف مال کے لیے نہیں، رشتوں کے لیے بھی ہے۔

بیٹا اپنے والد کی اسٹیپنی بنے، شاگرد اپنے استاد کی، بھائی اپنے بھائی کی، دوست اپنے دوست کی، کارکن اپنے ادارے کی۔ انسان ایسا بنے کہ کسی کی مشکل میں اس کا وجود محض ’’متبادل‘‘ نہیں بلکہ ’’اعتماد‘‘ بن جائے۔

کیونکہ گاڑی کی اسٹیپنی خریدی جاسکتی ہے، زندگی کی اسٹیپنی کمائی جاتی ہے۔ محبت سے، وفاداری سے، خدمت سے، تربیت سے، وقت دینے سے، تعلق نبھانے سے۔اور زندگی کی سب سے بڑی کامیابی شاید یہی ہے کہ ہماری موجودگی کسی کے لیے سہارا ہو اور ہماری غیر موجودگی میں بھی ہمارا بنایا ہوا سہارا باقی رہے۔

کہنے کو اسٹیپنی ایک اضافی پہیہ ہے، مگر کبھی کبھی یہی اضافی پہیہ پورے سفر کو بچا لیتا ہے۔

اس لیے کسی کے لیے پہیہ بن جائیے،اور اپنی زندگی میں ایک اسٹیپنی ضرور رکھیے۔


(بارہ ربیع الثانی چودہ سو اڑتالیس ہجری)

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے