65a854e0fbfe1600199c5c82

یہ تھے حضرت مولانا محمد سعیدی رحمہ اللہ قسط (10)

 


یہ تھے حضرت مولانا محمد سعیدی رحمہ اللہ
(قسط نمبر 10)


✍️ ناصرالدین مظاہری


حدیث شریف ہے: «العین حق» یعنی نظرِ بد برحق ہے۔ اور اس سلسلے میں میں نے ناظم صاحب کو بھی ننھے بچوں کی طرح پایا۔ آپ کو نظر بہت جلدی لگ جاتی تھی۔ بلکہ میں تو ایسے واقعات کا شاہد ہوں کہ آپ دسترخوان پر بیٹھتے وقت بالکل ٹھیک ٹھاک ہوتے، لیکن کھانے کے دوران کسی کی نظر لگ جاتی اور ایسی لگتی کہ کھانا پینا ہی مشکل ہو جاتا۔ بہتر سمجھتا ہوں کہ یہ واقعہ ذرا تفصیل سے لکھ دوں۔ حالانکہ میں نے اپنے ایک مضمون میں یہ واقعہ کافی پہلے لکھ بھی دیا تھا، اس لیے وہیں سے نقل کرتا ہوں:


"حضرت مولانا محمد سعیدی پہلے ہی سے ان چیزوں میں بہت احتیاط کرتے ہیں۔ دسترخوان پر موجود افراد کو سب سے پہلے اجازت دیتے کہ جو چیز اپنی پلیٹ میں نکالنا چاہیں نکال لیں، اور خود سب سے آخر میں لیتے۔ تاکید بھی کرتے رہتے کہ مرغ وغیرہ کی ٹانگ یا جو بھی ایسی چیز ہو جس پر سب کی نظر جاتی ہے وہ بالکل مت لیجیے، کیونکہ ایسے ہی موقع پر نظر لگنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ دہلی میں ایک صاحب کے یہاں دعوت تھی۔ میزبان نے پرتکلف کھانا تیار کرایا۔ ویسے بھی پرانی دلی والے عام شہریوں کے مقابلے میں عمدہ کھانے کے عادی ہیں۔ میزبان نے سب سے پہلے حضرت ناظم صاحب کی پلیٹ میں پائے ڈال دیے۔ لوگ بہت تھے۔ اسی دسترخوان پر ناظم صاحب کی طبیعت بگڑ گئی اور کئی دن تک پریشانی رہی۔"


حضرت ناظم صاحب کی والدہ ماجدہ فرمایا کرتی تھیں کہ:

"محمد پر بچپن سے ہی کسی جنی کا سایہ ہے" (واللہ اعلم)۔


آپ کی طبیعت بڑی عجیب و غریب تھی۔ نظرِ بد سے بہت ڈرتے رہتے تھے۔ اگر آپ کے کپڑوں کی کسی نے تعریف کر دی تو وہ کپڑے اتار کر اسی کو دے دیتے۔ اگر چپلوں کی تعریف ہو جاتی تو چپل پیش کر دیتے۔ حتی کہ ایک طالب علم آیا اور آپ کے کمبل کو ہاتھ لگا کر تعریف کر بیٹھا تو آپ نے کمبل بھی اس کے حوالے کر دیا۔


واسکٹ یعنی صدری آپ کوئی بھی پہن لیتے، بہت جچتی۔ اسی لئے اگر کوئی تعریف کردیتا تو وہیں اتار کر اسے پہنا دیتے۔ صدری کے واقعات تو اتنے ہیں کہ پوری قسط ہوسکتی ہے۔


مجھے ایک صاحب نے ایک بلیک صدری ہدیہ کی۔ اس میں بڑا خوبصورت ڈیزائن بھی تھا۔ مجھے صدری کے ساتھ دیکھا تو کہا کہ کہاں بنوائی ہے، مجھے بھی یہی ڈیزائن لاکر دو۔ چنانچہ میں اس بندے سے ملا اور پیشگی رقم دینے لگا۔ اس نے پیسے لینے سے منع کردیا اور کہا کہ اگر کپڑا مل گیا تو بنادوں گا۔ کئی دن بعد کپڑا مل گیا تو مجھ سے ملا۔ میں لے جاکر ناپ دلوائی۔


جمعہ کا دن تھا، ناظم صاحب صدری پہن کر جمعہ پڑھنے دفتر آئے۔ نماز بعد مجلس ہوتی تھی۔ مجلس بعد وہی صدری میں نے کسی اور بندے کے جسم پر دیکھی اور ناظم صاحب پھر بغیر صدری کے، سردی میں صرف کرتے پاجامے میں۔ میں صدری والے صاحب سے صدری کا شان نزول پوچھا تو کہا کہ ابھی ابھی ناظم صاحب نے اتار کر مجھے عنایت فرمائی ہے۔ مجھے اس بندے پر غصہ تو بہت آیا مگر کرلیا کیا جا سکتا تھا۔ میں نے کہا کہ تم نے تعریف کردی ہوگی؟ کہنے لگا کہ جی۔ میں نے کہا: جی کے بچے! تعریف کی ضرورت ہی کیا تھی؟


ایک بیش قیمت کرسی نئی نئی بنوائی تھی، جس میں جھولنے کا سسٹم تھا؛ آگے پیچھے ہلنے والی۔ محلے ہی کا ایک غریب شخص وہیں موجود تھا۔ اس نے بڑے شد و مد کے ساتھ اس کرسی کی تعریف کی، تو ناظم صاحب نے وہ کرسی اسی کو دے دی، اور وہ شخص اٹھا بھی لے گیا۔ یہ بھی نہ سوچا کہ ہر چیز ہر شخص کو زیب نہیں دیتی۔ غالب کی ٹوپی مجھ جیسے پکے تھانوی پر کیسے جچے گی؟ حضرت قاری محمد طیب رحمہ اللہ کی شیروانی عبیداللہ دربان پر کس طرح فٹ آ سکے گی؟ بہت سی چیزیں شخصیت کو مد نظر رکھ کر بنائی جاتی ہیں، جو اس کے علاوہ پر مضحوکہ محسوس ہوتی ہیں۔


لاکھوں روپے آپ للہ فی اللہ مستحقین میں تقسیم کر دیا کرتے تھے۔ غزہ کی تباہی اور معصوم بچوں کی حالتِ زار پر خوب روتے تھے۔ ایک مرتبہ میں گھر گیا ہوا تھا، آپ نے مجھے فون کیا اور فرمایا:

"میرا ایک پلاٹ ہے، قیمت بیس بائیس لاکھ روپے ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ یہ فروخت کر کے غزہ کے مظلوموں تک پہنچا دوں۔ کوئی طریقہ تلاش کرو۔"

اب ظاہر ہے، طریقہ کیسے ملے جبکہ ہمارے حکمران ہی ظالموں کے ساتھ برسرِ پیکار ہوں!


طلبہ کی غلطیوں پر دفترِ اہتمام میں ان کا کھانا بند کر دیتے اور پھر کہتے:

"جب بھوک لگے تو کھانے کے وقت میرے پاس آ جایا کرو۔"

چنانچہ کتنے ہی طلبہ اسی لیے آپ کے دسترخوان پر موجود پائے جاتے۔ میں بھی سوچتا تھا کہ یہ قوم محبت و تعلق میں حضرت رحمہ اللہ سے ملنے آئی ہے، اور کھانے کا وقت آ گیا تو ساتھ ہی کھانا بھی کھا لیا۔ مگر اب پتہ چلا کہ یہ قوم تو خواہ مخواہ ہی حضرت رحمہ اللہ کے دسترخوان پر زاغ و زغن بنی پھرتی تھی۔


(جاری ہے)


✦ سات ربیع الاول ۱۴۴۷ھ ✦

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے