65a854e0fbfe1600199c5c82

مکہ مکرمہ کیا ہے؟

 


سنو سنو!!


مکہ مکرمہ کیا ہے؟


(ناصرالدین مظاہری)


مکہ مکرمہ کیا ہے؟

دعائے خلیل ہے،

مرکزِ انوار ہے،

منبعِ برکات ہے،

سرچشمۂ حیات ہے،

نافِ زمین ہے،

عکسِ بیت المعمور ہے،

نقشِ عرفان ہے۔

ہاں ہاں!

یہی وہ شہر ہے جسے اللہ رب العزت نے مکہ فرمایا:

وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنكُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ۔

یہی وہ مقدس سرزمین ہے جو آہ و زاری، گریہ و گڑگڑاہٹ کا مرکز ہے، جس کا ذکر ربِ کائنات نے یوں فرمایا:

إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ۔

مکہ مکرمہ بستیوں کی ماں ہے،

تمام آبادیاں اسی کی اولاد ہیں؛

اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اسے اُمُّ القُریٰ فرمایا: لِتُنذِرَ أُمَّ الْقُرَىٰ وَمَنْ حَوْلَهَا۔

کیا یہ ہمارے لیے اعجاز اور اعزاز کی بات نہیں کہ خود خالقِ کائنات نے اس شہر کی قسم کھائی:لَا أُقْسِمُ بِهَٰذَا الْبَلَدِ۔

اور جب اللہ ہی اسے البلد الامین قرار دے دے تو اس کے تقدس اور عظمت میں بھلا کیا شبہ باقی رہ جاتا ہے؟

وَهَٰذَا الْبَلَدِ الْأَمِينِ۔


یہی ہے البیت العتیق، وَلْيَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ۔اور حضرت ابن عباسؓ، مجاہدؒ اور دیگر مفسرین کے نزدیک لَرَادُّكَ إِلَىٰ مَعَادٍ سے بھی مکہ مکرمہ ہی مراد ہے۔

حرمِ محترم کی آغوش عجیب ہے؛

کبھی پھیل جاتی ہے، کبھی سمٹ جاتی ہے۔ بالکل ماں کی گود کی طرح،

جو اپنے شیر خوار کو بھی چھپا لیتی ہےاور دوڑتے بھاگتے بچے کو بھی سنبھال لیتی ہے۔

کیا آپ نے کبھی دیکھا کہ حرم مکی تنگ پڑ گیا ہو؟

کیا کبھی ایسا ہوا کہ وہاں جگہ ہی نہ ملی ہو؟

یہی تو مرکزِ انوار کا معجزہ ہے،

یہی خانۂ خدا کی بے مثال خصوصیت ہے۔

کتنے زمانے آئے،

کیسے کیسے حالات آئے،

ظالم آئے، جابر آئے، شاطر اور آمر آئے سب نے مکہ کو مٹانا چاہا اور خود مٹ گئے۔

ابرہہ کا انجام ابابیلوں نے لکھا،

جو مکہ سے ٹکرایا،

اللہ اس کا دشمن بن گیا؛

اور جس کا دشمن اللہ ہو

وہ نہ یہاں بچ سکتا ہے

نہ وہاں۔


سنو سنو!


تم زرخیز زمینوں میں رہتے ہو،

باغات اور نہروں کے درمیان بستے ہو،

لیکن جو انواع و اقسام کے پھل

ایک ساتھ مکہ مکرمہ میں ملتے ہیں

وہ کہیں اور میسر نہیں۔

کبھی سوچا ایسا کیوں؟

نہ کھیت،

نہ نہریں،

نہ باغات،

نہ پیداوار

پھر بھی رزق کی فراوانی کیوں؟

اس کی وجہ ایک ہی ہے:

دعائے خلیل!

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسی شہر کے لیے دعا کی تھی:

رَبِّ اجْعَلْ هَٰذَا بَلَدًا آمِنًا وَارْزُقْ أَهْلَهُ مِنَ الثَّمَرَاتِ مَنْ آمَنَ مِنْهُمْ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ۔

(البقرۃ)

اے میرے رب!

اس شہر کو امن والا بنا دے

اور اس کے رہنے والوں کو پھلوں کا رزق عطا فرما۔

غور کیجیے!

حضرت ابراہیم علیہ السلام

کاروبار مانگ سکتے تھے،

دولت طلب کر سکتے تھے،

لیکن مانگا تو امن مانگا،

اور پھل مانگے کیونکہ پھل، خوشحالی، فارغ البالی اور وسعتِ رزق کی علامت ہیں۔

آج آپ سوق العزیزیہ جائیں،

سوق الحجاز کی سیر کریں،

جبل عمر مارکیٹ دیکھیں،

یا مکہ مال پہنچیں،

سوق اللیل سے ابراج البیت تک،

سوق السلام سے کعکیہ تک جہاں جائیں گے دعائے خلیل کا زندہ مشاہدہ کریں گے۔


(اکیس رجب المرجب چودہ سو سینتالیس ہجری)

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے