یہ تھے مولانا محمد سعیدی رحمہ اللہ
(قسط نمبر تین)
(ناصرالدین مظاہری)
احمد بن طولون مصر کا ایک بااثر اور ممتاز حکمران تھا۔ وہ علم و دین سے محبت رکھنے والا شخص تھا، چنانچہ قاضی بکارؒ جیسے جلیل القدر عالم کے درسِ حدیث میں باقاعدگی سے شریک ہوتا۔ دونوں کے تعلقات طویل عرصے تک خوشگوار اور اعتماد پر مبنی رہے۔ احمد بن طولون، قاضی صاحب کی تنخواہ کے علاوہ ہر سال ایک ہزار دینار بطورِ ہدیہ اُن کی خدمت میں پیش کیا کرتا۔ یہ عطیہ اٹھارہ برس تک بغیر ناغہ جاری رہا۔
لیکن وقت کے ایک معمولی سیاسی موڑ پر دونوں کے درمیان اختلاف پیدا ہو گیا۔ اگر یہ معاملہ آج کے دور میں پیش آتا تو شاید پورے عدالتی نظام کو لپیٹ دیا جاتا، لیکن وہ زمانہ ایسا تھا جب حکمران ہو یا رعایا، سب پر خدا خوفی اور دینداری غالب تھی، اور ہر فیصلہ خدا کی رضا کو پیش نظر رکھ کر کیا جاتا تھا۔
اختلاف کے بعد احمد بن طولون نے قاضی صاحب کو قید میں ڈال دیا اور ساتھ ہی یہ پیغام بھیجا:
"اٹھارہ برسوں کے دوران جتنے دینار بطورِ ہدیہ دیے گئے، سب واپس کیے جائیں!"
یہ مطالبہ بظاہر حیرت انگیز اور اچانک تھا۔ ایک شاگرد نے اٹھارہ برس تک ہدیہ دیا ہو، اور اب وہی رقم واپس مانگی جا رہی ہو — یعنی اٹھارہ ہزار دینار! ہر کوئی یہی گمان کرتا کہ اب قاضی بکارؒ کے لیے عاجز آنا ناگزیر ہے، لیکن قاضی صاحب نے نہایت سکون اور وقار سے گھر کے اندر تشریف لے جا کر وہ تھیلیاں نکالیں جن میں سے ہر ایک میں ہزار ہزار دینار موجود تھے۔
جب یہ تھیلیاں ابنِ طولون کے دربار میں پیش کی گئیں، تو اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی۔ وہ یہ دیکھ کر دنگ رہ گیا کہ دینار تو بعینہٖ وہی ہیں، نہ اُن کی مہریں ٹوٹی ہیں، نہ تھیلیاں کھولی گئی ہیں! گویا قاضی صاحب نے انہیں ہاتھ بھی نہ لگایا تھا۔
تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ قاضی بکارؒ نے انہیں اس نیت سے کبھی استعمال نہیں کیا کہ:
"آج اگر تعلقات اچھے ہیں تو کیا بعید کہ کل کوئی اختلاف پیدا ہو جائے؛ ایسی صورت میں بہتر ہے کہ مال بعینہٖ لوٹا دیا جائے۔"
(النجوم الزاہرہ فی اخبار ملوک مصر و قاہرہ)
قاضی صاحب کے کردار کی بلندی، ان کی دور اندیشی، حکمت، اور زہد و استغناء کی یہ بے مثال جھلک دیکھ کر ابنِ طولون شرم سے پانی پانی ہو گیا۔ اُسے احساس ہوا کہ اس مردِ حق کا مقام دنیاوی ساز و سامان سے کہیں بلند تر ہے۔ وہ ندامت کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوب گیا اور قاضی بکارؒ کی عظمت کا قائل ہو گیا۔
یہ واقعہ محض تاریخ کا ایک باب نہیں، بلکہ اہلِ عدل و علم کے لیے کردار کی عظمت اور دیانت داری کا ایک زندہ درس ہے
مظاہر علوم ایک عظیم و قدیم تعلیمی ادارہ ہے، یہاں مالیات کے باب میں جو حزم و احتیاط دیکھی اس کی نظیر کہیں اور نہیں دیکھی۔ اس سلسلہ میں ایک مستقل قسط اگلی بار۔ فی الحال بتانا یہ مقصود ہے کہ ممبئی پورے بھارت کا جھومر ہے۔ یہاں کے مخیرین نے پورے بھارت کے مدارس اور تنظیموں کو سہارا دیا ہوا ہے۔ تجارت، اقتصاد اور دولت کی بہتات — سبحان اللہ۔
ایک صاحب خیر ایک خطیر رقم مظاہر علوم کو دیتے ہیں۔ ایک دن حضرت مولانا محمد سعیدیؒ کو ان صاحب خیر کا خط ملا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ:
"ہم جو اتنا تعاون کرتے ہیں، ہمیں بتائیں کہ ہماری زکوٰۃ کیسے خرچ کی جاتی ہے، کہاں کہاں خرچ ہوتی ہے، ہمیں اطمینان دلائیں۔"
حضرت ناظم صاحب نے مجھے بلایا، خط دکھایا اور رائے طلب کی۔ میں نے عرض کیا کہ ٹھیک ہے جواب لکھ دوں گا۔ فرمایا: "نہیں، آپ اس کا جواب نہ لکھو، میں خود لکھوں گا۔" میں نے وجہ پوچھی تو فرمایا:
"آپ بہت ہی ادب، تہذیب اور سنجیدگی کے ساتھ جواب دو گے، ہر جگہ ادب اور ادب کی رعایت نہیں چلتی۔ بہت سی جگہیں ہوتی ہیں جہاں بے جا ادب نقصان کا باعث ہوتا ہے، جیسے گھمنڈی کے سامنے تواضع دین کا نقصان ہے، جاہل کے سامنے دلائل اور نصوص سے نصوص کی توہین ہوتی ہے۔"
بہرحال حضرت ناظم صاحب نے بہت مختصر خط لکھا، جس کا خلاصہ یہ تھا:
"آپ زکوٰۃ دیتے ہیں، ادارہ کو دیتے ہیں۔ اگر آپ کو دارالعلوم اور مظاہرعلوم جیسے عظیم روحانی، الہامی اور عرفانی مراکز پر بھی شک ہے کہ یہاں کیسے رقم صرف ہوتی ہوگی، تو جناب! آپ ادارہ کی تمام پرانی رسیدیں لیتے آئیں اور یہاں سے اپنی مجموعی رقم واپس لے جائیں۔"
میں نے یہ خط پڑھا تو دنگ رہ گیا۔
کیا استغنا تھا، کیا قناعت تھی، کیسا دل گردہ تھا!
عجیب ہمت اور مستقل مزاجی تھی، صاف گوئی کی صفت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی، لومۃ لائم کی پرواہ ہی نہیں تھی۔ حسد کرلو، غیبت کرلو، اول فول بک لو — سورس اور فورس ان کے پائے ثبات میں لغزش پیدا نہیں کرتی تھیں۔
تھوڑے ہی دن بعد صاحب خیر کا جوابی خط آیا — احساسِ ندامت پر مشتمل الفاظ لکھے۔ دونوں ہی لوگ مخلص تھے۔ صاحب خیر کی خیرات کم نہیں ہوئی۔ ادارہ بظاہر ناظم چلاتا ہے، مگر درحقیقت اللہ تعالیٰ ہی چلاتا ہے۔ یہ سب تکوینی نظام کا حصہ ہیں۔ ایک جگہ سے در بند ہو جائے تو چار جگہوں سے شروع ہوجاتا ہے۔
استغنا کی بنیاد: ایک حدیث قدسی
حضرت ناظم صاحب نے استغنا اور بے نیازی، یادِ مرگ پر مشتمل ایک حدیثِ قدسی باقاعدہ ڈیزائن کرا کے اپنے بالکل سامنے ڈیسک پر رکھی ہوئی تھی، جس کا متن یہ ہے:
> يَا مُحَمَّدُ! عِشْ مَا شِئْتَ فَإِنَّكَ مَيِّتٌ
وَأَحْبِبْ مَنْ شِئْتَ فَإِنَّكَ مُفَارِقُهُ
وَاعْمَلْ مَا شِئْتَ فَإِنَّكَ مَجْزِيٌّ بِهِ
وَاعْلَمْ أَنَّ شَرَفَ الْمُؤْمِنِ قِيَامُهُ بِاللَّيْلِ، وَعِزَّهُ اسْتِغْنَاؤُهُ عَنِ النَّاسِ."
’’اے محمد! جتنا چاہو زندہ رہو، آخر تمہیں موت آئے گی۔
جسے چاہو محبت کرو، مگر (ایک دن) تمہیں اُس سے جدا ہونا ہے۔
جو چاہو عمل کرو، (یاد رکھو) تمہیں اُس کا بدلہ دیا جائے گا۔
اور جان لو کہ مؤمن کی عزت و شرافت رات کے وقت اُس کا قیام (نماز تہجد) ہے، اور اُس کی عزت لوگوں سے بےنیازی میں ہے۔‘‘
(طبرانی، مشکوٰۃ)
(جاری ہے...)
(اکیس محرم الحرام ۱۴۴۷ھ)

0 تبصرے