65a854e0fbfe1600199c5c82

یہ تھے حضرت مولانا محمد سعیدی رحمہ اللہ قسط (5)


 یہ تھے حضرت مولانا محمد سعیدی رحمہ اللہ
(قسط نمبر پانچ)

(ناصرالدین مظاہری)


میرا حضرت سے جو تعلق تھا اور مجھ پر ان کی جو شفقتیں تھیں، بہت سے حاسدین اس شفقت پر جل بھن کر کباب ہو جاتے تھے۔ کار ہو یا ٹرین یا جہاز—ہر جگہ، الحمدللہ، مجھے حضرت کے ساتھ ان کے پورے دورِ نظامت میں رہنے کی سعادت حاصل رہی۔ اور اس طویل رفاقت میں ہمیشہ کچھ نہ کچھ سیکھنے کو ہی ملا۔


سچ کہوں تو مجھے اسباق آپ کے والدِ ماجد، حضرت الاستاذ مولانا اطہر حسینؒ نے پڑھائے تھے، لیکن ان اسباق کو عملی زندگی میں برتنا حضرت ناظم صاحب کی معیت میں سیکھا۔


لوگ یہ سمجھتے ہوں گے—اور حالاتِ حاضرہ کی روشنی میں ان کا یہ سمجھنا بجا بھی ہے—کہ حضرت کے ساتھ رہنے کی وجہ سے ناصر کا کوئی ذاتی فائدہ ہوتا ہوگا۔ کچھ کا کہنا ہوگا کہ ناصر چاپلوسی کرتا ہے، اور کچھ کہیں گے کہ ناصر کے مفادات وابستہ ہوں گے۔


آج میں آپ کو دو ایک واقعات اپنی ذات سے متعلق بتانے جا رہا ہوں، جن سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ میرا حضرت سے تعلق نہ چاپلوسی تھا، نہ ہی کوئی مفاد وابستہ تھا۔ بس یہ حضرت کا ظرفِ بلند تھا کہ وہ مجھے اپنے ساتھ رکھتے تھے، اور اس میں میرے کسی کمال کا دخل نہیں تھا۔ مجھ جیسے کئی افراد ان کے قرب میں تھے۔


بہرحال، قصہ مختصر، آتے ہیں اصل بات پر:


مظاہرعلوم میں لکھنؤ یا اس سے زیادہ فاصلے والے ملازمین کو ۶ ذی الحجہ کی صبح سے عیدالاضحیٰ کی رخصت ملتی ہے، جبکہ قریبی حضرات کو ۸ ذی الحجہ کی صبح سے۔ عربی تاریخ کے مطابق مدرسے کا پورا نظام چلتا ہے، اور کسی کو یقین سے علم نہیں ہوتا کہ مہینہ ۲۹ دن کا ہوگا یا ۳۰ دن کا۔ ایسے میں ٹرین کی شدید بھیڑ کے سبب کافی پہلے ٹکٹ بک کرانا پڑتا ہے۔


ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ میرے ٹکٹ کے مطابق چاند نہ نکلا، اور مجھے ۵ ذی الحجہ کی رخصت لینا پڑی۔ عید کے بعد بھی دو دن کی رخصت لی۔ جب مدرسے واپس پہنچا تو کاتبُ الحضور مرحوم، حافظ محمد الیاس قریشیؒ نے کہا:


"آپ نے تعطیل سے پہلے اور بعد میں رخصت لے کر بڑا نقصان کیا ہے۔"


میں نے حیرانی سے پوچھا: "کیوں، کیا ہوا؟"


فرمایا: "ضابطہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص تعطیل سے پہلے اور بعد میں رخصت لے، تو پوری تعطیل بھی رخصت میں شمار ہو جاتی ہے۔ اس لیے اس ماہ آپ کی چودہ دن کی تنخواہ کٹے گی۔"


یہ سن کر دل بیٹھ گیا۔ میں نے حضرت ناظم صاحب کے نام ایک درخواست لکھی، جس میں نہایت لجاجت سے عرض کیا کہ مجھے اس ضابطے کا علم نہ تھا، لہٰذا لاعلمی کی بنا پر اس بار رعایت دی جائے۔


حضرت نے فرمایا: "قانون، قانون ہوتا ہے۔ میں شوریٰ میں پیش کر دوں گا، اگر وہاں سے کوئی رعایت مل گئی تو بہتر، ورنہ نہیں۔"


چنانچہ شوریٰ میں میری درخواست پہنچی، مگر وہاں بھی یہی فیصلہ ہوا: "قانون سب کے لیے برابر ہے۔"


نتیجتاً میری تنخواہ کٹی، اور خوب کٹی—اس وقت لگ بھگ بارہ ہزار روپے کا نقصان ہوا۔


ایک اور موقع پر دو منٹ کی تاخیر سے مدرسہ پہنچا۔ غیر حاضری لگ چکی تھی۔ میں نے تاخیر معاف کرنے کی درخواست دی۔ جواب ملا:


"قانون سب کے لیے برابر ہے۔ آج آپ کو رعایت دی جائے گی تو کل کوئی اور مثال پیش کرے گا۔ یوں قانون مذاق بن جائے گا۔"


واقعات اور بھی ہیں، مگر فی الحال یہی دو مثالیں کافی ہیں جن سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ حضرت ناظم صاحبؒ کے یہاں کسی کے لیے بھی کسی قسم کی رعایت نہیں تھی۔ ان کے یہاں رابطہ الگ تھا، ضابطہ الگ۔


وہ رابطے کی بھینٹ ضابطے کو نہیں چڑھاتے تھے۔ وقتی طور پر دل کو کچھ سختی محسوس ہوتی، مگر بعد میں دل خود ہی گواہی دیتا کہ اتنے بڑے نظام کو چلانا آسان نہیں۔ اگر ہر ایرے غیرے نتھو خیرے کے لیے ضابطہ شکنی ہونے لگے، تو ضابطوں کی اہمیت باقی نہ رہے۔


--- جاری ---

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے