65a854e0fbfe1600199c5c82

یہ تھے حضرت مولانا محمد سعیدی رحمہ اللہ قسط (41)



 یہ تھے حضرت مولانا محمد سعیدی رحمہ اللہ

 (قسط نمبر 41)

(ناصرالدین مظاہری)


حضرت مولانا الطاف حسین نے دو دور اہتمام دیکھے ہیں حضرت مولانا مفتی مظفرحسین کا اور حضرت مولانا محمد سعیدی کا، حضرت مفتی صاحب کے نہایت ہی معتمد تھے بلکہ یہ کہہ لیجیے کہ حضرت مفتی مظفرحسین کو حضرت علامہ محمد یامین سہارنپوری پر اور حضرت ناظم صاحب کو مولانا الطاف حسین پر جو اعتماد تھا اس کی بہت کم نظیر ملے گی۔

یہ دونوں حضرات نہایت اصولی تھے ، امور مدرسہ میں ان کی دلچسپیاں قابل قدر تھیں ۔ایک بار حضرت ناظم صاحب حج بیت اللہ کے لئے گئے تو مولانا الطاف حسین کو امور نظامت کی ذمہ داری سونپ گئے یعنی طلبہ کی ضروریات ، ملازمین کے واؤچر وغیرہ پر دستخط مولانا ہی کرتے تھے اور دستخط سے پہلے خرچہ کا پرچہ نہایت غور و فکر کے ساتھ پڑھتے دیکھتے اور تسلی ہونے پر دستخط کرتے تھے۔

بعض مواقع اہتمام و انتظام کے سامنے آیسے بھی آجاتے ہیں کہ اصول میں کچھ لچک کرنی پڑجاتی ہے لیکن بارہا ایسا ہوا کہ فاضلین و فارغین نے ناظم صاحب سے درخواست منظور کرالی مگر جب مولانا الطاف حسین کے پاس پہنچی تو مولانا نے مدرسہ کے ضابطہ کا حوالہ دے کر منع کردیا۔ فاضل درخواست دہندہ نے پھر دفتر اہتمام میں استغاثہ دائر کیا تو ناظم صاحب نے مولانا کو بلوایا اور فرمایا کہ کوئی بات نہیں ہے بے چارے کا کام بن جائے گا کردو۔ مگر آپ کو حیرت ہوگی کہ مولانا بولے:

"واہ بھئی واہ میں کیسے دیدوں جب ضابطہ ہی دینے کا نہیں ہے"

اس طرح کی نوک جھونک اکثر ہوتی رہتی تھی اور مولانا کا ضابطہ جیت جاتا تھا،ان کے یہاں مصلحت کا کوئی چکر ہی نہیں تھا۔

ایک دن ناظم صاحب نے مجھے بلایا اور فرمایا کہ مولانا سے کہو کہ تعلیمات کے وہ امور جو ان ہی کے نمٹانے کے ہیں وہ دفتر تعلیمات میں ہی نمٹالیا کریں دفتر اہتمام میں لانے کی ضرورت نہیں ہے۔

میں نے مولانا کو پیغام اہتمام اہتمام سے پہنچایا لیکن مولانا برجستہ بولے:

بریں عقل و دانش بباید گریست

میں نے کہا کہ یہ شعر بے محل ہے بولے بے محل نہیں ہے ، بسااوقات چھوٹی اور غیر اہم باتیں بعد میں بڑی اور اہمیت کی حامل ہوجاتی ہیں اور چھوٹی غلطیاں بڑی غلطیوں کا پیش خیمہ ثابت ہوجاتی ہیں۔

اگر مولانا الطاف حسین یا مولانا محمد ارشاد مظاہری دفتر میں ہوتے تو ناظم صاحب کو بالکل بے فکری رہتی تھی۔

میں ایک دن مولانا کے پاس حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ ناظم صاحب تو حج کے لئے گئے ہیں ان کی غیر موجودگی کا فایدہ اٹھاتے ہوئے ہم لوگوں کی تنخواہیں ڈبل کردیجیے۔ ہنسے اور کہنے لگے واہ واہ اور ناظم صاحب آنے کے بعد مجھے ہی ڈبل کردیں گے۔

مولانا ارشاد مظاہری مالیات میں خزانچی تھے اور بہترین دیانت دار انسان تھے ہمیشہ پیدل جاتے آتے تھے گھر سے بھی خوش حال تھے مالیات کے باب میں ان کی امانت داری مثالی تھی، آپ زندگی کا اکثر حصہ مالیات میں ہی رہے اور پہلے حضرت مفتی مظفرحسین کے پھر حضرت مولانا محمد سعیدی کے معتمد رہے۔

(جاری ہے)

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے