65a854e0fbfe1600199c5c82

یہ تھے حضرت مولانا محمد سعیدی رحمہ اللہ قسط (42)



 یہ تھے حضرت مولانا محمد سعیدی رحمہ اللہ


(قسط 42)

ناصرالدین مظاہری


حضرت مولانا الطاف حسین رحمہ اللہ کے انتقالِ پرملال کے بعد ضرورت تھی کہ ان کی جگہ کو جلد از جلد پر کیا جائے، کیونکہ تعلیمات اور مالیات یہ دونوں شعبے ہیں جو کسی بھی ادارے کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔


یہ تو سچ و حق ہے کہ جو بھی جاتا ہے، اپنا خلاء چھوڑ جاتا ہے۔ اس کا صحیح اور واقعی جانشین شاذ ہی ملتا ہے۔ میں یہ بات تاریخی شواہد کے ساتھ پیش کر سکتا ہوں۔ مثلاً: حضرت مولانا عبدالمجید مہیسروی کے بعد حضرت مولانا عبدالوہاب، ان کے بعد حضرت مولانا علامہ محمد یامین، ان کے بعد حضرت مولانا سید وقار علی، اور ان کے بعد حضرت مولانا الطاف حسین — یہ سب حضرات اس عظیم الشان عہدے پر فائز رہے ہیں جس پر پوری تعلیم کا نظام منحصر ہے، یعنی دفترِ تعلیمات کے ذمہ دار۔


حضرت مولانا الطاف حسینؒ کے اچانک سانحۂ ارتحال کے بعد پھر دفترِ تعلیمات کے لیے فرد کے انتخاب کا مسئلہ سامنے آیا۔ اس وقت کئی لائق و فائق افراد مدرسہ میں موجود تھے، جن میں سے کسی کو بھی یہ عہدہ دیا جا سکتا تھا۔


ایک دن میں مغرب کے بعد دفتر پہنچا تو حضرت ناظم صاحب، حضرت مولانا محمد ریاض الحسن مظاہری ندوی سے گفتگو فرما رہے تھے۔ میں بھی حاضر ہو گیا اور بیٹھ گیا۔ معلوم نہیں کہ انتخاب کا مسئلہ پہلے سے زیرِ گفتگو تھا یا میرے پہنچنے کے بعد شروع ہوا۔ حضرت ناظم صاحب نے مجھ سے بھی اس عہدے کے بارے میں رائے پوچھی۔


میری عادت ہے کہ دل صاف رکھو، اور جب رائے مانگی جائے تو جو بات دل میں ہو، بلا جھجھک کہہ دو۔ چنانچہ میں نے عرض کیا کہ چونکہ مولانا احمد صاحب کافی سالوں سے مولانا الطاف حسینؒ کے ساتھ کام کرتے رہے ہیں، اس لیے اس عہدے کے لیے میری رائے انہی کے حق میں ہے۔ میں ابھی اپنی رائے پر مزید دلیل دینا چاہتا تھا کہ مولانا محمد ریاض الحسن صاحب نے فرمایا: “آپ نے اپنی رائے دے دی ہے۔”


حضرت ناظم صاحب نے شاید تاریخ میں پہلی مرتبہ ارادہ فرمایا کہ عملہ سے تحریری رائے لی جائے۔ اس کے لیے باقاعدہ دو چار نام تجویز کر کے پرچیاں ڈلوائی گئیں۔ ان چند ناموں میں ایک نام حضرت مولانا محمد ریاض الحسن صاحب کا بھی تھا، جنہیں بحیثیت امیدوار کھڑا کیا گیا۔ مگر جہاں تک میرا مشاہدہ ہے، انہوں نے کبھی عہدوں کی طلب یا خواہش نہیں رکھی، نہ ہی اپنے حق میں رائے عامہ ہموار کرنے کا مزاج۔ اگر وہ چاہتے تو اس سے بھی آگے بڑھ جاتے، لیکن وہ تعلیم و تدریس کے لیے ہی موزوں تھے۔ کتابی صلاحیت کا لوہا بڑے بڑوں نے مانا اور تسلیم کیا۔


خیر، انتخابی عمل مکمل ہوا اور مولانا احمد صاحب کے انتخاب کا اعلان ہوا۔ میں تو پہلے ہی ان کے لیے اپنا ووٹ دے چکا تھا، کیونکہ وہ ہمیشہ دفتری امور میں مصروف رہنے کی وجہ سے تجربہ کار تھے۔ یوں دفترِ تعلیمات کی باگ ڈور ایک تجربہ کار ، ہوشیار، فعال اور دیانت دار فرد کے ہاتھ میں آگئی۔


ابھی مولانا الطاف حسینؒ کی مسند نشینی کا مرحلہ مکمل ہوا ہی تھا کہ دوسرے لاک ڈاؤن میں حضرت مولانا محمد ارشاد خزانچی بھی داغِ مفارقت دے گئے۔ اب پھر ناظم صاحب کو ان کی جگہ ایک ایمان دار، امانت دار، تقی و خشی، نقی و حفی بندہ مطلوب تھا۔


حضرت نے مجھے بلایا اور رائے معلوم کی۔ میں نے عرض کیا کہ مفتی تسخیر صاحب کو مطبخ دے دیا گیا ہے، تو حافظ محمد ارشاد صاحب کو خزانچی بنا دیا جائے، کیونکہ وہ ہر سال رمضان المبارک میں یہ خدمت انجام دیتے چلے آ رہے ہیں یعنی مکمل تجربہ رکھتے ہیں۔


مگر ایک دن اچانک حضرت مولانا نعیم احمد صاحب کو بلایا گیا اور ان کے سامنے اس عہدے کی قبولیت کی پیش کش کی۔ مولانا بہت گھبرائے؛ ذمہ داریوں کا بوجھ اور حساسیت کی نوعیت ان پر واضح تھی۔ انہوں نے صاف معذرت کردی۔ مگر حضرت ناظم صاحب نے انہیں نہایت محبت و اصرار سے آمادہ کر لیا۔ مولانا نے خدمت سنبھال لی، لیکن چونکہ وہ ہمیشہ استاذ رہے ہیں اور تدریسی مزاج رکھتے ہیں، اس لیے تھوڑی مدت بعد اس عہدے سے پھر معذرت کی۔


مولانا نے فرمایا کہ “مجھے تو پڑھنے پڑھانے میں ہی رہنے دیجئے۔”

حضرت ناظم صاحب نے مسکرا کر فرمایا: “ٹھیک ہے، ہم آپ کو دورۂ حدیث کا ایک گھنٹہ دیتے ہیں۔”

چنانچہ تادمِ تحریر آپ نے پہلے ترمذی شریف جلدِ اول پڑھائی، اور اس سال ابوداؤد شریف پڑھا رہے ہیں — اور ساتھ ہی خزانچی کے باوقار عہدے کو بھی پورے وقار کے ساتھ نبھا رہے ہیں۔


اللہ تعالیٰ آپ کو صحت و سلامتی عطا فرمائے۔

مولانا نعیم احمد صاحب پہلے سے ہی امانت دار، سلیم الطبع، شریف النفس، خلیق اور ملنسار شخصیت ہیں۔ افسوس کہ میرے استاذ نہیں بن سکے، ورنہ مجھے ان کی شاگردی پر بھی فخر ہوتا۔ آپ نے فارسی کی مشہور کتابوں پندنامہ اور کریما کی شروحات لکھی ہیں، جو اہلِ علم میں بہت مقبول ہیں۔اوریوں گویا میں ان کی کتابوں سے استفادے کی وجہ سے ان کا شاگرد ہوں۔


لفظ “حفیّ” میں نے حضرت مولانا کے لیے کئی وجوہ سے استعمال کیا ہے، کیونکہ یہ تعبیر ان کی شخصیت پر نہایت موزوں بیٹھتی ہے — پوری زندگی پڑھانے والا اب ملازمت بھی شان کے ساتھ انجام دے رہا ہے۔


محبت اور رواداری میں آپ لاجواب ہیں۔ نرم دلی، نیک خوئی کمال کی ہے۔ نہ ٹوہ، نہ جاسوسی، نہ بدگمانی — بلکہ مالیات کی شفافیت اور واؤچرز کی مکمل تحقیق کو شرعی فریضہ سمجھ کر انجام دیتے ہیں۔ یہی موقع ہے جہاں آپ تعاملوا کالأجانب و تعاشروا کالإخوان کے مصداق بن جاتے ہیں۔


لفظ "حفی" کے چند معانی:


1. مہربان، محبت و عنایت کرنے والا

(إِنَّهُ كَانَ بِي حَفِيًّا) [سورۂ مریم]

— حضرت ابراہیمؑ اپنے والد سے فرماتے ہیں: “بے شک میرا رب میرے ساتھ نہایت مہربان ہے۔”


2. نرم دل، احسان کرنے والا، توجہ دینے والا

— کسی کے ساتھ خاص لطف و عنایت سے پیش آنا، یا اس کے حال دریافت کرنے میں دلچسپی لینا۔


3. تحقیق و تفتیش کرنے والا، غور و سوال کرنے والا

— بعض لغات میں “حفی” کا مطلب کسی بات کے بارے میں اہتمام اور سوال کے ساتھ معلوم کرنا بھی آیا ہے۔


ان تمام تشریحات کے مطابق حضرت مولانا نعیم احمد صاحب گویا “مصداقِ حفی” ہیں۔


جب سے مسند پر بیٹھے ہیں، کئی اصلاحات کیں۔ عملہ کو تنخواہ کے دن سکون و اطمینان پہنچانے کے لیے “لفافہ” کا نیا اور بابرکت عمل شروع کیا۔ ہر لفافے پر رقم وغیرہ کی تفصیل لکھی جاتی ہے۔ تنخواہ کی مطبوعہ درخواست کا سلسلہ ختم کر کے براہِ راست قبض الوصول سے تنخواہ دینا شروع کیا۔

یوں وقت بھی بچا، سہولت بھی ملی، اور گویا “یَسِّرُوا وَلا تُعَسِّرُوا” پر عملی قدم واقدام فرمایا۔


یہ معمولی سا انتظامی قدم دراصل ایک بڑی اصلاح تھی — شفافیت کے ساتھ عزتِ عملہ کو بھی بحال کیا۔

اللہ کرے کہ ہمارے تمام منتظمین بھی اسی طرح حفی و شفی ہوں، جن کے فیصلوں میں عدل اور دلوں میں نرمی ہو۔


(جاری ہے)

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے