یہ تھے حضرت مولانا محمد سعیدی رحمہ اللہ
(قسط 43)
(ناصرالدین مظاہری)
حضرت مولانا محمد سعیدی رحمہ اللہ کی دوراندیشی، بالغ نظری اور فراست ایمانی ماشااللہ کمال کی تھی۔ وہ ایک بے تکلف شخصیت کے مالک تھے۔ ایک دن ایک صاحب اپنے ایک دوست کے ساتھ آپ کی خدمت میں آئے، ناظم صاحب سے بات چیت کرتے رہے، دوران گفتگو حضرت نے ان کے دوست کا حدودِ اربعہ، سوچ اور مزاج جان لیا۔ پھر وہ صاحب چلے گئے۔
بعد میں جب ناظم صاحب سے ملاقات ہوئی تو ناظم صاحب نے فرمایا:
"آپ اپنے جس دوست کو ساتھ لائے تھے، وہ آپ کا دوست نہیں ہے، مفاد پرست، طوطا چشم اور منافق آدمی ہے۔"
وہ صاحب کہنے لگے: "نہیں حضرت، میری تو بہت پہلے سے دوستی ہے۔"
ناظم صاحب نے فرمایا:
"ہوا کرے دھوکہ پہلی بار ہی ملتا ہے اور مؤمن ایک سوراخ سے دوبار ڈسا نہیں جاتا۔ جب بھی وہ دھوکہ دے، مجھے ضرور بتانا۔"
خیر، کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ اس دوست نے تگڑا دھوکہ دیا، مالی معاملے میں اچھا خاصا نقصان پہنچایا۔ وہ صاحب سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ایسا ہوسکتا ہے، کیونکہ وہ پہلے تو باقاعدہ اس کی وفاداری کے گن گاتے اور وکالت کرتے تھے۔
مدرسہ کے ایک معتبر، مستند اور قدیم استاد سے صاف صاف فرمایا کہ:
"زیادہ گاڑھی دوستی زیادہ تکلیف دیتی ہے۔"
پھر یہی ہوا کہ دوستی دشمنی میں بدل گئی۔ کتنے ہی ایسے واقعات ہیں جن کو نام بنام پیش کیا جا سکتا ہے، مگر مجھے یہ سچ بول کر دشمن پیدا کرنے کا شوق نہیں۔
ایک طالب علم درخواست لے کر آیا۔ ناظم صاحب نے درخواست پڑھی اور دستخط کردیے اور فرمایا:
"میں جانتا ہوں کہ تم جھوٹ بول رہے ہو، یہ بھی جانتا ہوں کہ تم مانوگے نہیں۔ اس لیے فی الحال صرف جھوٹ بولنے کا گناہ ہے، ورنہ نہ ماننے کا بھی گناہ ہوگا۔ اور مجھے اچھا نہیں لگتا کہ مؤمن گناہ کرے۔"
میرے پاس ایک اچھی سی مٹھائی کا ڈبہ آیا۔ میں نے سوچا کہ ناظم صاحب کو کھلاؤں، چنانچہ ڈبہ ان کے سامنے رکھ دیا۔ تھوڑی بہت شیرینی کھائی اور فرمایا:
"تمہیں بھی بالکل مٹھائی کا شوق نہیں، مجھے بھی نہیں۔ یہ مٹھائی رکھ کر کیا کروگے؟ دفتر میں تقسیم کرادو جہاں تک پہنچے۔"
میں نے ایک ملازم کے ہاتھ تقسیم کے لیے بھیج دی۔ ملازم کے جاتے ہی مجھ سے ہنس کر فرمایا:
"فلاں صاحب اس مٹھائی کو نہیں کھائیں گے۔"
میں نے کہا: "کھا بھی سکتے ہیں۔"
ملازم واپس آیا، میں نے نام لے کر پوچھا کہ انہوں نے مٹھائی کھائی یا نہیں؟ ملازم نے بتایا کہ نہیں، بلکہ صاف کہہ دیا کہ نہیں کھاؤں گا۔ اتنا سنتے ہی ناظم صاحب ہنسنے لگے اور فرمایا:
"وہم اور شک دونوں انسان کو رفتہ رفتہ بد عقیدہ بنا دیتے ہیں۔"
یعنی جب انسان پر غیر مستند خیالات (وہم) اور دائمی شک طاری رہیں تو وہ آہستہ آہستہ درست عقائد سے دور ہو کر غلط عقائد کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔
وہم ایک نرم و نازک زہر ہے جو پہلے پہل دل کی زمین میں بویا جاتا ہے اور آہستہ آہستہ ایمان کے پودوں کی جڑیں کھوکھلی کر دیتا ہے۔
شک وہ اندھیری ہوا ہے جو ہر روشن چراغ کی لو بجھا دینے کی طاقت رکھتی ہے۔
وہم انسان کو اپنی حقیقت سے غافل کر دیتا ہے، اور ہر سچ کو جھوٹ کی نظر سے دیکھنے پر مجبور کرتا ہے۔
شک انسان کے قلب میں شبہات کے بادل گھٹا دیتا ہے، اور ہر نیک عمل کو بے وقعت و بے کار محسوس کراتا ہے۔
یہ دونوں زہر انسان کی روح کی لطافت کو نقصان پہنچاتے ہیں، عقیدہ کو داغدار کرتے ہیں اور دل کو بے سکونی کے سمندر میں دھکیل دیتے ہیں۔
ایسا شخص سفر میں نکل جانے کے باوجود سوچتا رہتا ہے کہ گھر کو مقفل کیا تھا یا نہیں۔
کسی آدمی کو وظیفہ پڑھتا دیکھ کر یہ سمجھتا ہے کہ یہ میرے اوپر سحر کر رہا ہے۔
کسی کو کسی بھی عبادت میں مبتلا دیکھ کر تصور کرتا ہے کہ چلہ کشی کر رہا ہے۔
ہر ملنے والے کو وہمی بنانے کی کوشش کرتا ہے، بغیر ثبوت، بغیر گواہ اور بغیر دلائل کے کہتا ہے: "فلاں جادوگر ہے، فلاں کے پاس مؤکلات اور اجنہ ہیں۔"
حالانکہ یہ سب سراسر بکواس، جھوٹ اور افترا ہوتا ہے۔
ایک صاحب سے فرمایا:
"اپنا وہم نکالو، تم پر کسی نے سحر نہیں کیا ہے بلکہ تم خود وہم میں مبتلا ہو۔"
وہم بہت کم کسی سے دور ہوتا ہے، البتہ وہمی کی برکت سے کچھ نئے وہمی پیدا ہو سکتے ہیں۔
ایک صاحب آپ کے پاس حاضر ہوئے ، پہلے چہرہ دیکھا پھر آنکھیں دیکھیں پھر کہنے لگے آپ پر تو کرا رکھا ہے۔ ناظم صاحب غضب ناک ہوگئے فرمایا ایک تو میں نے تمہیں اپنے علاج یا تشخیص کے لئے بلایا نہیں دوسرے میری اجازت اور مرضی کے بغیر شروع ہوگئے مجھے الحمدللہ وہم نہیں ہے ، میرا عقیدہ بھی ماشآء اللہ درست ہے بس یہ بدعقیدگی اور بدظنی یہاں پھیلانے کی کوشش نہ کریں۔ ہاں البتہ سحر بھی نظر بد کی ظرح ایک حقیقت ہے اور بغیر اللہ کی مرضی کے سحر بھی ہونہیں سکتا پھر یہ آیت کریمہ تلاوت کی:
وَمَا هُم بِضَآرِّينَ بِهِۦ مِنۡ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذۡنِ ٱللَّهِۚ وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمۡ وَلَا يَنفَعُهُمۡۚ وَلَقَدۡ عَلِمُواْ لَمَنِ ٱشۡتَرَىٰهُ مَا لَهُۥ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ مِنۡ خَلَٰقٖۚ وَلَبِئۡسَ مَا شَرَوۡاْ بِهِۦٓ أَنفُسَهُمۡۚ لَوۡ كَانُواْ يَعۡلَمُونَ۔
(جاری ہے)

0 تبصرے