65a854e0fbfe1600199c5c82

یہ تھے حضرت مولانا محمد سعیدی رحمہ اللہ قسط (45)

 

یہ تھے حضرت مولانا محمد سعیدی رحمہ اللہ

(قسط 45)

✍️ ناصرالدین مظاہری


آپ نے وہ حدیث ضرور پڑھی ہوگی:

"ورجلٌ تصدّق بصدقةٍ فأخفاها، حتى لا تعلم شماله ما تنفق يمينه"

یعنی وہ شخص جو اس درجہ خفیہ طور پر صدقہ کرے کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہ ہو کہ داہنے ہاتھ نے کیا خرچ کیا۔

حدیث شریف میں سات لوگوں کو عرش کے سایہ میں ہونے کی بشارت دی گئی ہے ان میں ایک وہ شخص بھی ہے جو اوپر حدیث شریف میں بیان ہوا ۔


میں نے بہت سے لوگوں میں اس حدیث کا مصداق دیکھا، مگر حضرت ناظم صاحبؒ جیسا کوئی نہ دیکھا۔ وہ سخاوت کے سمندر تھے، مگر اس شان کے ساتھ کہ قطرہ بھی ظاہر نہ ہوتا۔ میں خوش ہوتا کہ حضرت میری معرفت سے صدقات کرتے ہیں، مگر کل جب ان کے خادم محمد مفید مظاہری سلمہ نے بتایا کہ حضرت میرے علاوہ ان کے ذریعہ سے بھی صدقہ و خیرات کرتے تھے، تو میں حیرت میں ڈوب گیا۔


رمضان المبارک میں تو یہ سلسلہ اور بھی بڑھ جاتا۔ بے دریغ خرچ کرتے، مگر کسی کو خبر نہ ہونے دیتے۔ آپ تعجب کریں گے کہ مدرسہ کے قریب جو پھل، سبزی یا دیگر چیزوں کی ریڑھیاں لگتی تھیں، وہ سب بھی حضرت کی سخاوت سے فیض پاتے تھے۔ کبھی کسی ایک، کبھی دو ریڑھی والوں کو بلا کر خاموشی سے کچھ دے دیتے۔


مظاہر علوم وقف سہارنپور میں سالانہ تعطیل بیس شعبان کو ہو جاتی ہے، مگر افتاء کے طلبہ کی چھٹی بیس رمضان کو ہوتی ہے۔ حضرت ان کے افطار کے لیے بھی فکرمند رہتے۔ محمد مفید مظاہری کو حکم دیتے کہ پچیس لفافے لاؤ، ہر ایک میں ہزار ہزار روپے رکھواتے، اور اس طرح تقسیم کرواتے کہ کسی کو معلوم نہ ہوتا کہ دینے والا کون ہے۔


ایک بار سردیوں میں آپ نے فٹ پاتھ پر ایک غریب کو کپکپاتے دیکھا۔ فوراً خادم کو پیسے دیے، لحاف منگوایا، اور اسے اوڑھا دیا۔

کتنے ہی طلبہ گواہ ہیں کہ اگر کوئی بغیر جرسی یا سوئٹر کے دفتر آتا، تو حضرت فوراً پوچھتے:

“بیٹا! تم نے سوئٹر کیوں نہیں پہنا؟”

اور اگر معلوم ہوتا کہ نہیں ہے، تو فوراً منگواتے اور عنایت کرتے۔


گزشتہ سال بھی حضرت نے سینکڑوں لحافوں کی رقم مجھے دی تھی، جو میں نے طلبہ میں تقسیم کیے۔ ایک ضرورت مند طالب علم کے لیے میں نے سفارش کی تو فرمایا:

“فوراً دے دو، دیر نہ کرو۔”


ان کی سخاوت سے بعض طلبہ اپنی ضرورتوں کے ساتھ چھوٹی موٹی چالاکیاں بھی کر جاتے۔ مثلاً سردی کے موسم میں صرف کرتا پہن کر دفتر پہنچتے، دانت بجا کر سردی لگنے کا اظہار کرتے، اور حضرت کا فیاض دل فوراً پگھل جاتا۔ ایسے “دانشمند” طلبہ سالماً و غانماً لوٹتے۔ مگر حضرتؒ کی فراخ دلی ایسی تھی کہ وہ جانتے بھی ہوں تو درگزر فرما دیتے۔


کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جن کے چولہے حضرت ناظم صاحبؒ کی عطا سے جلتے تھے۔ کئی ضرورت مندوں کو بڑی رقوم دیتے۔

مجھے بھی رمضان کی چھٹیوں میں چلتے وقت لفافہ دیتے تھے۔ ایک سال خود نہ دیا تو آخر رمضان میں مفتی محمد بدران سعیدی سے کہہ کر میرے اکاؤنٹ میں رقم بھجوائی۔


ایک دن چلتے وقت مجھے بلوایا، ایک لفافہ دیا جس پر لکھا تھا: "مدیرِ تحریر"

لفافہ موٹا اور وزنی تھا۔ حجرۂ مولانا محمد الیاس کاندھلوی میں پہنچ کر کھولا تو دیکھ کر حیران رہ گیا — اندر پورے دس ہزار پانچ سو روپے تھے!


ایک اور موقع پر فرمایا:

“تمہارا موبائل بہت پرانا ہو گیا ہے۔”

پھر ایک ڈبہ دیا، جس میں نیا اور خوبصورت موبائل رکھا تھا۔

قابل ذکر ہے کہ یہ موبائل میرے ہاتھوں میں پہلا موبائل تھا جو رنگین یعنی نیٹ سے چلتا تھا یہ نوکیا کمپنی کا تھا اور اس وقت ٹو جی کا جلوہ تھا پھر تھری جی،فورجی اور اب فائیو جی آگیا ہے۔


ایک دن مفتی محمد بدران سعیدی کو بلایا اور فرمایا:

“مفتی ناصر کے لیے ان کی پسند کا لیپ ٹاپ منگوا دو۔”


کیا بتاؤں — اگر میں صرف اپنے اوپر ہونے والی عنایات لکھنے لگوں تو یہ قسط ناکافی ہو جائے گی۔

کتنے ہی سوٹ، سوئٹر، ٹوپیاں، چپلیں اور دیگر تحفے مجھے دیتے رہے، کہ سب یاد رکھنا ممکن نہیں۔


میرے مرحوم بھائی کلام الدین کے بچوں کے لیے بھی فکر مند رہتے، خبر گیری کرتے اور نوازتے رہتے تھے۔


یہ تھے وہ حضرت سعیدیؒ — جن کے ہاتھ دینے کے تھے، لینے کے نہیں۔

اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، درجات بلند فرمائے، اور ہمیں بھی ان کے ایثار و سخاوت کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق دے۔


(جاری ہے…)

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے