65a854e0fbfe1600199c5c82

یہ تھے حضرت مولانا محمد سعیدی رحمہ اللہ قسط (46)

 

یہ تھے حضرت مولانا محمد سعیدیؒ

(قسط 46)


(ناصرالدین مظاہری)


مدرسہ مظاہر علوم وقف سہارنپور میں ایک قدیم اصول ہے کہ پہلے کسی مدرس یا ملازم کا تقرر عارضی طور پر کیا جاتا ہے، پھر چھ ماہ کے بعد اگر اطمینان ہو جائے تو اسے استقلال (مستقل تقرر) دیا جاتا ہے۔

عارضی تقرر کو آپ یومیہ مزدوری کی طرح سمجھ لیجیے — یعنی اس مرحلے میں چھٹیوں کا کوئی استحقاق نہیں ہوتا، جمعہ کی تنخواہ بھی وضع کی جاتی ہے، صرف ایامِ کارکردگی کی اجرت ملتی ہے۔ استقلال کے بعد یہ سب کٹوتیاں ختم ہو جاتی ہیں۔


اس نظام کا فائدہ یہ ہے کہ اربابِ مدرسہ کو امیدوار کی جانچ اور پرکھ میں آسانی ہو جاتی ہے۔ اس دوران آدمی کی سرشت و فطرت، عادات و خصائل، ذہن کی وسعت یا تنگی، خدمت میں تندہی یا سستی، مزاج کی نرمی یا سختی—سب کچھ ظاہر ہو جاتا ہے، اسی طرح اس کی صلاحیتوں کا بھی اندازہ ہو جاتا ہے۔


لیکن کبھی ایسا بھی ہوتا کہ کوئی امیدوار چھ مہینے تک بڑا نیک، شریف اور فرمانبردار بن کر رہتا ہے، اور استقلال کے بعد آنکھیں دکھانا شروع کر دیتا ہے۔

حضرت ناظم صاحب فرمایا کرتے تھے کہ استقلال کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ امورِ مدرسہ کی خلاف ورزی یا احکاماتِ وقتیہ میں ٹال مٹول پر کوئی روک ٹوک نہ ہو۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ استقلال کے بعد انہیں خاص اختیارات حاصل ہو گئے ہیں — ایسا ہرگز نہیں۔ اگر کوئی مدرس یا ملازم نظامِ مدرسہ کے خلاف جائے یا ضوابط کی دھجیاں اڑائے تو پہلے اسے تنبیہ کی جاتی ہے، اور نہ ماننے کی صورت میں خدمات سے معذرت کر لی جاتی ہے۔


میری معلومات کے مطابق صرف ایک صاحب ایسے تھے جنہوں نے دورانِ ملازمت خوب تنقید کی، تبلیغی جماعت کی بلا وجہ مخالفت اور تمسخر کو اپنی "پیری و بزرگی" کا حصہ سمجھا، نظامِ مدرسہ کے خلاف طنز و تعریض کو اپنی دانائی قرار دیا، اور درسگاہوں، محفلوں، مجلسوں ہر جگہ مخالفت کا ماحول بنا رکھا۔

یہ صاحب ناظم صاحب ہی کی "تلاش" بھی تھے اور انہی کا "انتخاب" بھی۔

ایک دن ناظم صاحب نے مجھ سے تفصیل سے گفتگو کی اور فرمایا: "کیا کیا جائے؟"

میں نے عرض کیا: "رجسٹرِ ہدایات کے ذریعہ انھیں ان حرکتوں سے باز رہنے کا حکم دیجیے، اور اگر باز نہ آئیں تو خدمات سے معذرت کر لیجیے۔"

نام تو میں نہیں لکھوں گا، مگر وہ صاحب جان اور سمجھ ضرور جائیں گے، اور یہی میں چاہتا ہوں کہ وہ صحیح صورتِ حال سمجھ سکیں۔

ناظم صاحب نے فرمایا: "ان کی نسبت بہت مضبوط ہے، ان کی صلاحیت جید ہے، افہام و تفہیم کا انداز بھی خوبصورت ہے — کاش آپ ہی انھیں سمجھائیں۔"

میں نے کہا: "وہ تو مجھ پر بھی تبصرے اور تبرّے فرماتے ہیں، میں انھیں کیا سمجھاؤں گا؟ کل ہی انھوں نے مجھ سے 'منشی جی' کہہ کر خطاب کیا تھا۔ جواب میں میں نے انھیں ٹھیک ٹھاک سمجھا دیا اور کہہ دیا کہ میں بھی آپ کو "ملاجی" کہہ سکتا ہوں۔ میرے پاس بھی زبان ہے اور جیب میں قلم بھی، مگر نسبت کا لحاظ کر رہا ہوں۔ اس نسبت کا فائدہ نہ اٹھائیں۔ اگر میں بے لگام ہو گیا تو خاموش کرانا آپ کے لیے مشکل بلکہ ناممکن ہوگا، کیونکہ میرے پاس کہنے کے لیے بہت کچھ ہے، آپ کے پاس کچھ بھی نہیں۔"


قصہ مختصر، کئی سال کی عمدہ تدریس کے باوجود اپنی غیر مستقل مزاجی، تبصرہ و تبرّہ بازی اور مخالف ذہنیت کے سبب آخرکار انھیں گھر کا راستہ لینا پڑا۔

ناظم صاحب فرمایا کرتے تھے:

"اربابِ مدرسہ نے چھ مہینے کے بعد استقلال کا اصول تو بنا رکھا ہے، مگر بعض ایسے لوگ بھی پھنس جاتے ہیں جو برسوں بعد بھی سدھرنے کا نام نہیں لیتے۔"


شیخ سعدیؒ نے فرمایا:


توان شناخت به یک روز در شمائل مرد

که تا کجاش رسیدست پایگاهِ علوم

ولے ز باطنش ایمن مباش و غره مشو

که خبثِ نفس نگردد به سالہا معلوم


تم ایک دن میں کسی شخص کے ظاہر و لباس سے یہ پہچان سکتے ہو

کہ علم کے میدان میں وہ کہاں تک پہنچا ہوا ہے،

مگر اس کے باطن کے بارے میں بے خوف اور مغرور مت ہو،

کیونکہ نفس کی خباثت برسوں گزرنے کے بعد ہی ظاہر ہوتی ہے۔


واقعہ یہی ہے ، ظاہر سے علم کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، مگر باطن کی پاکیزگی یا خباثت صرف وقت اور تجربے سے ہی معلوم ہوتی ہے۔

اسی لیے حضرت ناظم صاحب جب تک پوری طرح مطمئن اور منشرح نہ ہو جاتے، کسی کو استقلال نہیں دیتے تھے ، چاہے کئی سال لگ جائیں، امیدوار خود ہی معذرت کر لے، سفارش کروائے یا کوئی بھی طریقہ اختیار کر لے، مگر تقرر صرف اطمینان کے بعد ہی کرتے تھے۔


(جاری ہے)

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے