یہ تھے حضرت مولانا محمد سعیدیؒ
(قسط 56)
(ناصرالدین مظاہری)
حضرت مولانا مفتی عبدالقیوم رائپوریؒ
حضرت ناظم صاحب کو حضرت مفتی عبدالقیوم رائے پوری رحمہ اللہ سے بھی غیر معمولی محبت تھی۔ مفتی صاحب کی تعلیم مظاہر علوم میں ہی مکمل ہوئی، ایک مدت تک مظاہر علوم میں تدریس کے فرائض انجام دیے، اور تاحیات مظاہر علوم وقف سہارنپور کی شوریٰ کے رکن رہے۔
طبیعت کی پاکیزگی، شرافتِ نفسی، ورع و تقویٰ، فقہ و فتویٰ، درس و تدریس، سادگی و مروّت — ہر پہلو میں مفتی صاحب لاجواب تھے۔ جب تک مظاہر علوم میں پڑھایا، طلبہ و اساتذہ سب کے دلوں کے محبوب رہے۔ بعد میں جب خانقاہ رائے پور کو آپ کی ضرورت پیش آئی تو سب کی رائے و مشورے سے وہاں تشریف لے گئے۔
حضرت مولانا محمد سعیدیؒ سے ان کا تعلق نہایت محبت و شفقت پر مبنی تھا۔ جب بھی مظاہر علوم تشریف لاتے تو ناظم صاحب ان کے پیچھے تکیہ وغیرہ رکھواتے، مگر مفتی صاحب دھیرے دھیرے یا تو تکیہ ہٹا دیتے یا خود تکیہ سے ہٹ جاتے۔ کسی قسم کا تکلف پسند نہ فرماتے تھے۔
آخرِ عمر میں کئی سال سکتہ کی بیماری لاحق رہی۔ صرف دل، دماغ اور آنکھیں ماشاءاللہ کام کرتی رہیں۔ اگرچہ قوتِ گویائی سلب ہوچکی تھی، مگر زبان ذکرِ رحمان سے تر رہتی تھی۔
---
حضرت مولانا حکیم سید مکرم حسینؒ
حضرت مولانا حکیم سید مکرم حسینؒ مظاہر علوم کے فاضل اور خانقاہ رائے پور کے تربیت یافتہ بزرگ تھے۔ آپ نباض بھی تھے اور روحانی و جسمانی علاج دونوں میں مہارت رکھتے تھے۔ آپ فقیہ الاسلام حضرت مولانا مفتی مظفر حسینؒ کے معاصر اور ان کے خواجہ تاش بھی تھے۔ اصلاحِ ملت اور تعمیرِ امت میں آپ کی صبح و شام مصروف گزرتی تھی۔
حضرت مولانا محمد سعیدیؒ وقتاً فوقتاً آپ کے پاس تشریف لے جایا کرتے تھے، اور آپ اپنی دعاؤں اور شفقتوں سے ناظم صاحب کو نہال و مالامال رکھتے تھے۔
یہ تو چند ہستیوں کے تذکرے بطورِ نمونہ از خروارے نوکِ قلم پر آگئے، ورنہ ایسی شخصیات اور بھی ہیں جن کا احاطہ مقصود نہیں۔
باحیات شخصیات میں نلہیڑہ کے حضرت صوفی معین الدین مدظلہ، الہ آباد کے حضرت مولانا قمرالزماں مدظلہ، پانڈولی کے حضرت مولانا حسین احمد مدظلہ، اجراڑہ کے حضرت مولانا حکیم محمد عبداللہ مغیثی مدظلہ وغیرہم کی دعائیں اور شفقتیں مستقل مضمون کا تقاضا کرتی ہیں۔
مگر جوں جوں ہم اس تحریر کو سمیٹنے کی کوشش کرتے ہیں، نئی نئی باتیں یاد آتی چلی جاتی ہیں۔
؎
لَذِیذ بُود حکایَت، دَراز تَر گُفتم
مظاہر علوم، حضرت مفتی سعید احمد اجراڑوی سے خاندانی نسبت، فقیہ الاسلام حضرت مفتی مظفر حسینؒ، اور شیخ الادب حضرت مولانا اطہر حسینؒ کے خانوادے کا چشم و چراغ ہونے کی وجہ سے عوام و خواص میں آپ کو بے حد قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔
مگر آپ نے کبھی نہیں سنا ہوگا کہ ناظم صاحب نے اپنی کسی نسبت کا اظہار کیا ہو، یا اس سے فائدہ اٹھایا ہو، یا فخر کیا ہو، یا ان عالی نسبتوں پر ڈینگ ماری ہو، یا "پدرم سلطان بود" کا نعرہ بلند کیا ہو، یا اپنے خاندانی قصے و واقعات سنائے ہوں۔
درحقیقت ناظم صاحب کا مزاج "ہنر بنما، گرداری نہ جوہر" کے مصداق تھا۔ ان کے نزدیک نسبتوں اور خاندانی شرافتوں کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔ وہ ہمیشہ چاہتے تھے کہ انسان محنت کرے، اور اس کا نام اس کے کام سے لیا جائے۔
(جاری ہے)

0 تبصرے