65a854e0fbfe1600199c5c82

یہ تھے حضرت مولانا محمد سعیدی رحمہ اللہ قسط (59)

 


یہ تھے حضرت مولانا محمد سعیدیؒ


(قسط 59)

(ناصرالدین مظاہری)


انسان کے قدم تبھی درست رہتے ہیں جب دماغ ضد نہ کرے اور دل دوسروں کے علم سے فائدہ اٹھانے کا ظرف رکھتا ہو۔

مشورہ وہ دروازہ ہے جو عقلِ واحد کو عقلِ جمع میں بدل دیتا ہے، اور یہی دروازہ انبیا علیہم السلام کا دروازہ ہے۔


وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ، فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ.

"اور معاملات میں ان سے مشورہ کیجیے، پھر جب عزم کر لیں تو اللہ پر بھروسہ کیجیے۔"


یہ حکم اس ذاتِ مقدس کو دیا گیا جو وحی سے راہ پاتی تھی،

مگر امت کو سکھانا مقصود تھا کہ کامل عقل بھی تنہا کافی نہیں۔


اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑے بڑے مواقع پر صحابہؓ سے مشورہ فرمایا:


غزوۂ بدر میں حضرت حُباب بن المنذرؓ کی رائے قبول فرمائی۔


قیدیوں کے معاملے میں حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ دونوں سے مشورہ کیا۔


غزوۂ خندق میں حضرت سلمان فارسیؓ کی رائے پر عمل کیا۔


صلح حدیبیہ کے موقع پر حضرت اُمّ سلمہؓ سے مشورہ لیا۔


ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ طرزِ عمل بتاتا ہے کہ مشورہ صرف مردانِ جنگ ہی سے نہیں، بلکہ اہلِ دل اور اہلِ عقل دونوں سے لیا جاتا ہے۔


مشورہ لینے والا بھی مخلص ہو، اور دینے والا بھی مخلص ہو تو سراپا خیر ہے؛

اور اگر دونوں طرف اخلاص کا فقدان ہو تو مشورہ سراپا شر بن جاتا ہے۔


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:


 إِذَا اسْتُنْصِحَ أَحَدُكُمْ فَلْيَنْصَحْ۔

"جب تم میں سے کسی سے مشورہ طلب کیا جائے تو وہ خیرخواہی کے ساتھ مشورہ دے۔" (ابوداؤد)


اور فرمایا:


الدِّينُ النَّصِيحَةُ

"دین خیرخواہی کا نام ہے۔" (مسلم)


یعنی مشورہ دینا کوئی رسمی بات نہیں، بلکہ ایک امانت ہے۔

اگر آپ جانتے ہیں کہ کوئی شخص نقصان کی راہ پر جا رہا ہے، اور آپ خاموش رہیں،

تو یہ خیرخواہی نہیں بلکہ خیانت ہے۔


مشورہ لینے والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ سننے والا ہو،

اور مشورہ دینے والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ مشورہ دے کر الگ ہو جائے؛

کیونکہ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ کا مرحلہ اس کا نہیں، دوسرے کا ہے۔

اسے اختیار ہے کہ وہ مانے یا نہ مانے، یا جب چاہے مانے۔

آپ کا کام صرف خیرخواہی ہے، اصرار نہیں۔


ناظم صاحب کو خوب علم تھا کہ کون کس نیت اور غرض سے مشورہ دے رہا ہے،

اور جس سے مشورہ لیا جا رہا ہے وہ کس زاویے سے رائے پیش کر رہا ہے۔

چنانچہ مسندِ نظامت پر فائز ہونے کے بعد مدرسہ کے ایک بڑے استاذ نے خواہش ظاہر کی

کہ آپ تحتانی شوریٰ تشکیل دیں، مگر ناظم صاحب نے صاف انکار فرمایا اور کہا:

“فوقانی شوریٰ کے بعد کسی تحتانی شوریٰ کی ضرورت نہیں۔ فوقانی شوریٰ ہی خالص شرعی شوریٰ ہے،

اور فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ یعنی نفاذ و تنفیذ کا مکمل اختیار منتظم کو ہی حاصل ہے۔”


نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت یہ تھی کہ آپ ہر رائے کو سنتے، تولتے، بہتر کو اپناتے،

پھر اللہ پر توکل کرتے، جیسا کہ قرآن میں فرمایا گیا:


فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ (آل عمران)


مشورہ فیصلہ نہیں ہوتا، بلکہ فیصلے کا راستہ دکھاتا ہے۔


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:


 شَاوِرُوا الْعَاقِلَ النَّاصِحَ، وَلاَ تَشَاوِرُوا الْفَاجِرَ،

فَإِنَّهُ يُزَيِّنُ لَكَ مَعْصِيَتَهُ وَيَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِثْلَهُ

“عاقل اور خیرخواہ شخص سے مشورہ کرو، فاجر سے مشورہ نہ کرو،

وہ تمہارے سامنے گناہ کو خوشنما بنا دے گا اور چاہے گا کہ تم بھی ویسے ہی بن جاؤ۔” (کنزالعمال)


مشورہ بگوشِ ہوش سنئے، مگر ہر ایک کے کان میں مت کہیے،

کیونکہ غلط شخص کو راز دینا مشورہ نہیں، دامِ فریب ہے۔


بات مشورے کی چل ہی رہی ہے تو عرض ہے:

بدر میں مشورہ جنگی حکمت کا تھا،

خندق میں تدبیر کا،

حدیبیہ میں صبر و ضبط کا،

اور اُمّ سلمہؓ سے مشورہ دلوں کے انتشار کو تھامنے کا۔


یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ مشورہ صرف فیصلوں کے لیے نہیں،

بلکہ دلوں کی اصلاح کے لیے بھی ہوتا ہے۔


امورِ مدرسہ میں حضرت نے راقم الحروف سے جو بھی رائے لی،

الحمدللہ دیانت و امانت کے ساتھ دی۔

صرف ایک رائے پر بعد میں افسوس ہوا،

وگرنہ باقی تمام مشوروں میں توفیقِ خیر رہی۔


ایک وقت آیا کہ مدرسہ میں کچھ حضرات ناظم صاحب کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے،

اصاغر کے ساتھ بعض اکابر بھی شریک ہو گئے۔

مدرسہ میں زبردست ہیجان اور خلجان تھا —

یہ سمجھنا دشوار ہو گیا کہ کون موافق ہے، کون مخالف،

اور کچھ ایسے بھی تھے جو لگائی بجھائی کرنے والے "منافق" تھے۔


الحمدللہ احقر کھل کر مدرسہ کے ساتھ رہا۔

ایک رات ناظم صاحب نے تنہائی میں گھر پر بلایا۔

حالات پر مفصل گفتگو ہوئی۔

آخر میں فرمایا:

“اگر میرے استعفیٰ سے مدرسہ کے حالات معمول پر آ سکتے ہوں تو میں استعفیٰ دے دوں؟”


میں جذبانی ہو گیا اور عرض کیا:


محالٌ أن يَمُوتَ أهلُ الفَنِّ ويَحُلَّ مَحلَّهُم مَن لا فَنَّ له۔


“یہ ناممکن ہے کہ اہلِ فن مر جائیں اور ان کی جگہ وہ آئیں جنہیں فن نہیں آتا۔”


اور کہا:

أهلُ الكمال لا يُعوَّضون ، اہلِ کمال کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا۔


حضرت مفتی مظفر حسین رحمہ اللہ نے جب حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ کو

مدینہ منورہ خط لکھا اور مدرسہ کے کشیدہ حالات، کشاکشی اور فتنہ انگیزی کا ذکر کیا،

تو حضرت شیخ نے جواب میں ایک شعر لکھا تھا:


تجھ کو کرنے ہیں ہزاروں دشت طے

مضطرب تو پہلی ہی منزل میں ہے


ہر دور میں حالات آئے ہیں لیکن حالات سے بد دل اور کبیدہ ہوکر میدان چھوڑ دینا مخالفین کو جری کردے گا، پھر جو لوگ آپ کے مخالف ہیں وہ آپ کے تمام موافقین کے بھی مخالف ہیں ، حاسدین و معاندین زوال نعمت اور محرومئ جاہ و مرتبہ پر ہی خوش ہوں گے اور ہم لوگ ان شاءاللہ مدرسہ کو اور آپ کو منجدھار میں چھوڑ کر ساحل پر تماشائی نہیں بن سکتے۔آپ ہرگز ہرگز حوصلہ نہ ہاریں تاریخ پر نظر رکھیں۔


(جاری ہے)

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے