سنو سنو!!
سفر وسیلۂ ظفر
(ناصرالدین مظاہری)
یہ تعبیر ہم نے بارہا سنی اور بارہا پڑھی، مگر اس کا صحیح مطلب اور حقیقی مفہوم آج سمجھ میں آیا۔
ہوا یوں کہ مولانا محمد شہزاد کیرانوی صاحب نے ایک کتابچے کی پی ڈی ایف مجھے بھیجی، جو شیخ ابو القاسم سلیمان بن احمد طبرانیؒ کی عربی زبان میں تالیفِ لطیف ہے، جس کا نام "مکارم الاخلاق" ہے۔ یہ کتابچہ کسی موقع پر حضرت مولانا عبد الحلیم چشتیؒ نے حضرت مولانا ڈاکٹر حبیب اللہ مختار کراچیؒ کو عطا فرمایا اور اس کے ترجمے کی بھی ہدایت کی۔
حضرت مولانا ڈاکٹر حبیب اللہ مختارؒ نے اس کا ترجمہ کیا، مگر کیسے کیا؟ کب کیا؟ اور کن حالات میں کیا؟ یہ سب پڑھ کر ہمیں اپنے نفس کے احتساب کی توفیق ملتی ہے۔ حضرت ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں:
"پچھلے دنوں دارالتصنیف میں بیٹھا کام کر رہا تھا کہ حضرت مولانا عبد الحلیم چشتی زید مجدہ تشریف لے آئے۔ کچھ ماہ پہلے موصوف نے امام طبرانیؒ کے کتابچے مکارم الاخلاق کے ترجمے کا ذکر کیا تھا۔ کتابچہ ان کے ساتھ تھا، بندے کو دیا۔ چونکہ ان دنوں مصروفیت تھی، اس لیے اسے کسی سفر پر موقوف کر دیا۔
جمادی الثانیہ میں سرگودھا اور پشاور کا سفر پیش آیا۔ ریل میں اس کا ترجمہ شروع کر دیا۔ خدا کے فضل و کرم سے راستے ہی میں ترجمہ مکمل ہو گیا، اور پشاور سے واپسی پر ریل ہی میں اس پر نظرِ ثانی کی اور پیش لفظ بھی لکھ دیا۔"
یہ کتابچہ تو خیر پچاسی (85) صفحات پر مشتمل ہے، مگر اصل بات کتابچے کی نہیں، اس طرزِ عمل کی ہے۔ ہمارے بزرگوں نے اپنے وقت کو کس قدر قیمتی بنایا کہ وہ سونے سے
بھی زیادہ قیمتی بن گیا۔
شیخ الاسلام حضرت مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ ہمیشہ سفر میں تصنیفی و تالیفی کام کرتے رہتے ہیں حتی کہ ان کی بعض اہم کتابیں ہوائی سفر کے دوران ہی لکھی اور مکمل ہوکر شائع ہوئی ہیں۔
ہم سفر کو بوجھ سمجھتے ہیں، اور دورانِ سفر وقت کو محض ضائع کرتے ہیں: باتوں میں، سونے میں، آرام میں، یا پھر—معذرت کے ساتھ—حضرت موبائل میں گم رہتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ انہوں نے کم وقت میں زیادہ کام کر لیا، اور ہم جیتے جی مر جاتے ہیں؛ کتاب تو دور، ایک کتابچہ بھی نہیں لکھ پاتے۔
حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے مواعظ اٹھا کر دیکھ لیجیے؛ آپ نے دورانِ سفر، حتیٰ کہ ٹرین میں بھی وعظ فرمایا، اور وہ وعظ آج بھی مطبوعہ شکل میں موجود ہیں۔ ہمیں تو باتوں سے ہی فرصت نہیں ملتی۔
میں نے خود سہارنپور ریلوے اسٹیشن پر فرش پر کپڑا بچھائے ایک عالمِ دین کو دور سے دیکھا، جو کتاب پر جھکے ہوئے تھے، شاید کچھ لکھ بھی رہے تھے۔ قریب گیا تو معلوم ہوا کہ یہ بزرگ تو میرے کرم فرما، فقیہ الاسلام حضرت مفتی مظفر حسینؒ کے خلیفہ، اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے میرِ کارواں، اور مدرسہ باندہ کے شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی عبید اللہ اسعدی مدظلہ ہیں۔
اسی طرح مفتی محمد زید مظاہری ندوی مدظلہ، استاذِ حدیث دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ، ہمیشہ سفر میں علمی مشغولیت اختیار کیے رہتے ہیں۔
( بارہ رجب المرجب چودہ سو سینتالیس)

0 تبصرے