65a854e0fbfe1600199c5c82

اے صفۂ نبوی!

 سنو سنو !!


اے صفۂ نبوی!


ناصرالدین مظاہری 


میں حاضر ہوں…میرے قدم لرزاں ہیں، میری آنکھیں نم ہیں اور دل ایک انجانی سی ہیبت اور اپنائیت میں گھرا ہوا ہے۔

یہ وہی جگہ ہے نا جہاں فقر نے سر اٹھایا، جہاں بھوک نے شکر سیکھا اور جہاں بے گھروں کو نبیِ رحمت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی قربت نصیب ہوئی؟


اے صفۂ نبوی!


تو کوئی عام سا سادہ سا چبوترہ نہیں،

تو تو ان سعادت مند روحوں کا گھر ہے

جن کے پاس دنیا نہ تھی مگر جن کے سینوں میں ایمان کی ایسی دولت تھی

کہ آج بھی دلوں کو مالا مال کر دیتی ہے۔ یہیں وہ سوئے جن کے بستر زمین تھی، تکیہ صبر تھا اور کمبل توکل۔ میں تیری خاک کو دیکھتا ہوں تو آنکھوں کے سامنے ابوہریرہؓ کی بھوک آ جاتی ہے، بلالؓ کا صبر یاد آتا ہے، اور وہ صف باندھے ہوئے نفوس جو دن کو علم کے طالب اور رات کو عبادت کے مسافر تھے۔


اے صفۂ نبوی!


یہی تو وہ مدرسہ تھا

جہاں استاد محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم تھے، جہاں سبق الف، ب نہیں ایمان، اخلاص اور یقین کا تھا۔

یہیں وہ تربیت ہوئی جس نے گمناموں کو امام بنا دیا، اور محتاجوں کو رہبرِ عالم کر دیا۔ نہ کوئی عمارت، نہ کوئی کتب خانہ، نہ کوئی رسمی سند، مگر کیسی سند تھی کہ دنیا آج تک اس پر نازاں ہے!

تیری گود سے نکلنے والے ایسے ایسے ستارے تھے جن کی روشنی میں سارا جہان منور ہو گیا۔


اے صفۂ نبوی!


میں تیرے سامنے کھڑا ہو کر سوچتا ہوں

کہ آج ہمارے پاس سب کچھ ہے مگر وہ کیفیت کہاں ہے؟ وہ شوقِ علم کہاں ہے؟وہ سادگی، وہ قربانی، وہ وابستگی کہ جو تجھ سے جڑی ہوئی تھی؟


اے صفۂ نبوی!


تو ہمیں خاموشی سے ایک عظیم سبق دے رہا ہے:

کہ قربِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم مل جائے تو فقر بھی فخر بن جاتا ہے، اور اگر وہ نسبت نہ ہو تو محل بھی ویران ہیں۔


اے صفۂ نبوی!


ہم خالی ہاتھ آئے ہیں

مگر خالی دل نہیں جانا چاہتے۔

ہمیں وہی سوز دے دے

جو تیرے مکینوں کو ملا تھا،

وہی شوق دے دے

جو انہیں دنیا بدلنے والا بنا گیا تھا۔


اے صفۂ نبوی!


ہم گواہی دیتے ہیں

کہ تو ماضی کی یادگار نہیں، تو حال کا پیغام ہے اور مستقبل کی امید ہے۔


یا اللہ! اپنے محبوب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے وسیلہ سے ہمیں بھی صفۂ والوں کے ساتھ محشور فرما۔

 شامل فرما لیجیے…


(بیس رجب چودہ سو سینتالیس ہجری)

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے