65a854e0fbfe1600199c5c82

اے خاکِ مدینہ!

 سنو سنو !!


اے خاکِ مدینہ!


(ناصرالدین مظاہری)


تو دنیا کی عام مٹی نہیں،تو وہ امانت ہے جس پر رحمت اتری،

جسے قدمِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوا اور جس نے روحوں کو زندگی عطا کی۔

تیرا ایک ذرّہ دنیا کے تمام پیرے جواہرات سے بہتر ہے۔

تیری ایک خوشبوصدیوں کی مسافت سمیٹ لیتی ہے۔

اور تیری نسبت زندگی کو معنی عطا کرتی ہے۔

میں نے کئی بار چاہاکہ تجھ میں سے کچھ ذرے اپنے ساتھ اپنے وطن لے آؤں 

اور انہیں اپنے گھر کی دیواروں یا اپنی قبر کے فرش میں رکھواؤں تاکہ میرا رب اپنے حبیب پاک کے شہر کی خاک پاک کے صدقے مجھ پر عفو و کرم اور فضل و رحم کی چادر ڈھانپ کر رسوائی سے بچالے۔


میں نے چاہا کہ یہ مٹی یا کنکر پتھر لیتے جاؤں اور اپنی نسلوں کو دکھاؤں

اور فخر سے کہوں:

یہ وہ خاک ہے

جس پر رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم چلے تھے۔

مگر اسی لمحے میرے ضمیر نے مجھے ملامت کی اور ایک ہاتف نے میرے کانوں میں پکارا:

یہ سوچنا بھی نہیں! یہاں خاک نہیں،

یہاں روح ہے۔ یہاں روحانیت ہے۔ یہاں روحُ الامینؑ کی امانت ہے۔ یہاں تبّعِ حِمیری کا خلوص و وفا ہے۔ یہاں ایمان کی بہاریں ہیں۔ اور تو کیا چاہتا ہے؟

کہ اس مقدس خاک کودارالکفر اور دارالحرب کی فضا میں لے جائے؟

یہ ذرے ابھی اذانوں کی پرکیف صدائیں سنتے ہیں، یہاں ابھی کلمۂ توحید کی گونج ہے، یہاں ابھی درود و سلام کی خوشبو رچی ہے۔

اور کل؟

کل یہ وہ آوازیں سنیں گے

جن کا ایمان سے کوئی رشتہ نہیں،

یہاں یہ توحید پرستوں کے درمیان ہیں،

اور تو انہیں اعداءِ اسلام کے بیچ رکھ دینا چاہتا ہے؟

یہ خاک

سجدوں کی گواہ ہے۔

آنسوؤں کی رازدار ہے۔

اور سلاموں کی امین ہے۔

اور تو اسے شرک، ساز و مزامیر اور کیرتنوں کے شور میں لے جانا چاہتا ہے؟

نہیں!

اے خاکِ مدینہ! تو یہیں شہر نبی میں زیبا ہے، تو یہیں مقدس ہے، تو یہیں مکمل ہے۔ مجھے سمجھ آ گئی کہ محبت کا تقاضا قبضہ نہیں، ادب ہے؛ اور عشق کی معراج لے جانا نہیں، چھوڑ آنا ہے۔

میں تجھے وہیں چھوڑ آیا ہوں

جہاں تو صدیوں سے محفوظ ہے،

مگر تیری یادیں اپنے ساتھ لے آیا ہوں؛

کہ دل پر کوئی پہرہ نہیں اور محبت پر کوئی سرحد نہیں۔


اے خاکِ مدینہ!


تو گواہ رہ!

کہ میں نے تجھے اٹھایا نہیں،

قید نہیں کیا،

بلکہ تجھ سے سیکھا کہ تقدیس

حدود کی پاسداری سے جنم لیتی ہے۔

تو یہیں رہ اذانوں کے سائے میں،

درود کی گونج میں،

اور اس شہر کی حفاظت میں

جسے اللہ نے ایمان و یقین کا گھر بنایا۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے