سنو سنو!!
لوگ کیا کہیں گے؟
(ناصرالدین مظاہری)
میں اپنے بیٹے کی شادی دھوم دھام سے کروں گا۔ شادی ہال ہوگا، اس کی شاندار سجاوٹ ہوگی، خوان و پکوان میں طرح طرح کے کھانے ہوں گے، اور بارات کے لیے ایک ہی رنگ کی ایک ہی کمپنی کی ماڈل کاریں منگواؤں گا۔
بہو کے لیے سونے کے زیورات ہوں گے اور بہو کے گھر والوں کے لیے سوٹ بوٹ کی لائن لگا دوں گا۔
اس طرح کے خواب عموماً تھرڈ کلاس یا مڈل کلاس لوگ دیکھتے ہیں، اور کسی نہ کسی طرح قرض لے کر اپنی یہ آرزو پوری بھی کر لیتے ہیں۔
لیکن شادی کے اگلے ہی دن اصل حقیقت سامنے آنے لگتی ہے۔
بارات گھر والا، باورچی، ٹینٹ والا اور گاڑیوں والے سب دروازہ کھٹکھٹانا شروع کر دیتے ہیں کہ کرایہ ادا کیجیے۔
یہیں سے اصل کہانی شروع ہوتی ہے۔
جھوٹی شان کا انجام عموماً ایسا ہی ہوتا ہے۔ ایک دو مہینے انتظار کے بعد قرض دینے والے بھی تقاضا شروع کر دیتے ہیں۔ اگر کوئی سخت مزاج یا ڈھیٹ نکل آئے تو سود پر سود جوڑنا بھی شروع کر دیتا ہے۔
لڑکا بے چارہ قرض ادا کرنے کے لیے نوکری کی تلاش میں در در بھٹکتا ہے۔ گھر گھر جھانکتا اور مارا مارا پھرتا ہے۔
باپ فون اٹھانا بند کر دیتا ہے۔
ادھر بیوی اپنے میکے شکایت کرتی ہے کہ جس شخص سے اس کی شادی ہوئی ہے وہ تو پردیس میں ہی رہتا ہے۔ نہ خرچہ آتا ہے نہ چرچا۔
یوں دونوں خاندانوں میں دوریاں پیدا ہونے لگتی ہیں، اور شوہر سے دور نئی نویلی دلہن کی زندگی میں بھی طرح طرح کی پیچیدگیاں جنم لینے لگتی ہیں۔
درحقیقت یہ سارا فساد اس باپ کا ہے جس نے جھوٹی شان اور جھوٹی آن کی خاطر اپنے ہی بیٹے کو بلی کا بکرا بنا دیا۔
حالانکہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أعظمُ النكاحِ بركةً أيسرُه مئونةً
سب سے زیادہ بابرکت نکاح وہ ہے جس میں خرچ کم کیا گیا ہو۔
کم خرچی مستقبل میں آسانیاں پیدا کرتی ہے، جبکہ فضول خرچی زندگی میں پریشانیاں کھڑی کر دیتی ہے۔
جتنی چادر ہو اتنے ہی پیر پھیلانے چاہئیں۔
ایسا کرنے سے چادر بھی محفوظ رہتی ہے اور جسم بھی محفوظ۔
لہٰذا یہ مت سوچیں کہ کفایت شعاری پر لوگ کیا کہیں گے۔
بلکہ یہ سوچیں کہ جب قرض خواہوں کے سامنے رسوا اور ذلیل ہونا پڑے گا تو یہی لوگ کیا کہیں گے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ آپ کے خیرخواہ نہیں بلکہ بدخواہ ہوتے ہیں۔
ہمدرد نہیں بلکہ سردرد ہوتے ہیں۔
اپنے نہیں بلکہ پرائے ہوتے ہیں۔
ان کے لیے اپنے آپ کو ہرگز مشقت میں مت ڈالیں، کیونکہ مشکل گھڑی میں یہی لوگ محض تماشائی بن کر تالیاں بجاتے ہیں اور آپ کی رسوائی کا سامان فراہم کرتے ہیں۔
(بیس رمضان المبارک چودہ سو سینتالیس ہجری)

0 تبصرے