65a854e0fbfe1600199c5c82

اعظمی منزل کا نام ” اعظمی“ کیوں ؟



 🕯️چراغ نعمانی


 🔰 اعظمی منزل کا نام ” اعظمی“ کیوں ؟ تاریخِ دارا لعلوم کے جھروکے سے


-------------------------------------------------------------------

     بعض شخصیات، مقامات اور مکانات وغیرہ کے نام ایسے ہوتے ہیں جن کی 'وجہ تسمیہ‘ معروف یا معلوم نہیں ہوتی۔ ان کا آئینۂ توجیہ غبار آلود رہتا ہے جسے صاف کرنے کے لیے علم و تاریخ ہی کا تکیہ لینا پڑتا ہے اور آج بھی ایک عمارت کے نام سے اس کا پردۂ تسمیہ بہ ذریعۂ تاریخ ہی اٹھایا جائے گا۔

       یہ زیر نظر بلڈنگ ہے دارالعلوم دیوبند کی، فوٹو میں تو یہ اک منزلہ ہے جو دورِ تعمیر کی تصویر ہے؛ مگر اب اس کا تکملہ سہ منزلہ ہے۔ یوں تو قریباً جملہ تعمیراتِ دارالعلوم کسی نہ کس شخصیت ‌کے نام سے موسوم یا منسوب ہیں، مثلاً: حجۃالاسلامؒ منزل(مدرسہ ثانویہ) حکیم الامتؒ منزل(دار القرآن) وغیرہ؛ مگر اکثریت کے ایک سے زائد نام ہیں‌ تو یہ مذکورہ تصویری عمارت بھی دو٢؀ نامی ہے: 

       ۱۔ ”شیخ الہندؒ منزل“ یہ نام انتساب عظیم ہے مے خانۂ دارالعلوم کے اول بادہ خور، استاذ العلماء و المحدثین، محرّکِ"ریشمی رومال"، اسیرِ مالٹا، شیخ العرب والعجم حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی رحمہ اللّٰہ سے۔ یہ عظیم نسبتی نام دیگر بلڈنگوں کی طرح اس عمارت کے وسط میں سنگ مرمر پر کندہ ہے۔ تاہم عمارت کا یہ نام زبان زد عام نہیں۔

      ۲۔ ”اعظمی منزل“ یہ دیگر عمارتوں کی طرح اس کا دوسرا نام ہے، یہی معروف بھی ہے اور مقصود تحریر بھی، سہل اللسان بھی ہے اور اختصار زبان بھی۔

      اب اعظمی منزل کا نام اعظمی کیوں ہے؟ کیا طلبۂ ضلع اعظم گڑھ اس بلڈنگ میں قیام پذیر ہوں اس لیے ؟ عموماً تو یہی خیال ابھرتا ہے مگر ایسا نہیں؛ بلکہ واقعہ یہ کہ ضلع اعظم گڑھ کے چند باتوفیق اصحاب خیر نے جو کاروباری تعلق سے ممبئی میں پناہ گزیں تھے یہ طے کیا کہ دارالعلوم دیوبند میں طلبہ کے لیے پچاس رہائشی کمرے تعمیر کیے جائیں اور اس کا نام ” اعظمی منزل“ ہو، چناں چہ 1407ھ=1986ء کو مدرسہ ثانویہ کے وسیع حلقے میں ۲۶ کمروں پر مشتمل ایک دارالاقامہ بنایاگیا جو بعد میں دو منزلہ پھر سہ منزلہ ہوا، یوں اب اس عمارت کے ساٹھ سے متجاوز کمرے ہیں۔

     یہ تحریری توجیہ خانہ زاد نہیں؛ بل کہ ” دارالعلوم دیوبند کی جامع و مختصر تاریخ “ میں مسطور اور وہیں سے مستفاد ہے، راقم نے علمی و معلوماتی افزودگی اور مطالعۂ تاریخ (خصوصاً دارالعلوم کی تاریخ) کی تشویق و ترغیب (کہ ہمیں علمی و مطالعاتی سفر میں’تاریخ‘ کی منزل پر بھی پڑاؤ ڈالنا چاہیے) کی خاطر یہ چند بے ڈھب سطور اور بے مزہ الفاظ کاغذی دامن پر ڈال دیے ہیں؛ بلکہ کہنا چاہیے ایک طویل وقفے نے کتاب و قرطاس کو غبار آلو د اور اس خم قلم کو زنگ آلود کر دیاتھا تو ناچیز میں بےکاری کی تحریک ہوئی اور یوں یہ تحریر عدالت قارئین میں پیش ہوئی۔ 


قلمکش اخبار:

 اسجد نعمانی کشن گنجی

تحريراً في

۲۹/شوال١٤٤۷ھ=17/اپریل

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے