سنو! سنو!
جمعۃ الوداع ؟
(ناصرالدین مظاہری)
رمضان المبارک کی فضا جوں جوں رخصتی کے قریب پہنچتی ہے، ہمارے معاشرے میں ایک عجیب منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ خطابات ہوتے ہیں، اعلانات ہوتے ہیں، اور ایک خاص جوش کے ساتھ یہ کہا جاتا ہے کہ یہ “جمعۃ الوداع” ہے۔ مساجد میں اس عنوان سے بیانات ہوتے ہیں، بعض جگہ باقاعدہ اعلان کیا جاتا ہے، اور لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات بٹھائی جاتی ہے کہ گویا رمضان کا آخری جمعہ کوئی خصوصی شرعی درجہ رکھتا ہے۔
کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے آخری جمعہ کو “جمعۃ الوداع” قرار دیا؟
کیا صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس دن کی کوئی خاص تیاری کی؟
کیا ائمۂ مجتہدین نے اس کے لیے کوئی خاص عبادت یا خاص خطبہ مقرر کیا؟
تاریخِ اسلام اور حدیث کی کتابیں اس سوال کے جواب میں خاموش ہیں۔
ہماری تاریخ کا عجیب المیہ ہے کہ ہم بدعت کے خاتمے کے لیے سنجیدہ جدوجہد کرتے رہے اور بدعت ہمارے درمیان پروان چڑھتی رہی۔
بعض چیزیں آہستہ آہستہ رواج بن گئیں اور پھر اتنی مضبوط ہوگئیں کہ لوگوں نے انہیں دین سمجھ لیا۔
مثلاً:
* منجھلا روزہ
* جمعۃ الوداع
ان دونوں کی کوئی شرعی اصل نہیں، مگر معاشرے میں ان کا ایسا چرچا ہے کہ گویا یہ دین کے مسلمہ اجزاء ہوں۔
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ رمضان کے تمام روزے مرتبہ کے اعتبار سے برابر ہیں۔
نہ پہلا روزہ کسی خاص شرعی فضیلت کا حامل ہے، نہ منجھلا روزہ، نہ آخری جمعہ۔
البتہ شریعت نے جس چیز کو اہمیت دی ہے وہ آخری عشرہ ہے۔
احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رمضان کے آخری دس دنوں کی بڑی فضیلت ہے۔
اسی عشرے میں:
لیلة القدر کی تلاش کا حکم ہے
اعتکاف کی سنت ہے
عبادت میں اضافہ کی تلقین ہے
اور جہنم سے آزادی کی بشارت ہے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول یہ تھا کہ جب آخری عشرہ شروع ہوتا تو عبادت کا اہتمام پہلے سے زیادہ بڑھا دیتے تھے۔ راتیں جاگ کر گزارتے تھے، گھر والوں کو جگاتے تھے اور اعتکاف فرماتے تھے۔
یہاں بھی توجہ پورے عشرے پر ہے، کسی ایک جمعہ پر نہیں۔
بعض مقامات پر نیم ملا، خطرۂ ایمان کا مصداق بن جاتے ہیں۔
وہ پورے اعتماد کے ساتھ اعلان کرتے ہیں:
"آج جمعۃ الوداع ہے!"
لوگ بھی عقیدت سے سن لیتے ہیں، سر ہلا دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ شاید یہی دین ہے۔
لیکن اگر ان سے ادب کے ساتھ پوچھ لیا جائے کہ:
"حضرت! اس کی اصل کیا ہے؟
کون سی حدیث میں یہ عنوان آیا ہے؟ کس صحابی نے اس کو اس نام سے منایا؟”
تو جواب میں تاویل بے جا یا بغلیں جھانکنے کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔
یہی وہ مقام ہے جہاں علم اور روایت کی کمی واضح ہوجاتی ہے۔
بعض جگہوں پر آخری جمعہ میں ایک خاص انداز سے خطبہ پڑھا جاتا ہے جس میں کہا جاتا ہے:
"الوداع والفراق والسلام یا شہر رمضان"
یعنی: اے رمضان! تجھ سے جدائی کا وقت آگیا۔
یہ جملے بظاہر جذباتی اور دل کو چھونے والے ہیں، لیکن سوال پھر وہی ہے:
کیا یہ طریقہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے؟
اکابر علماء نے اس کا جواب نفی میں دیا ہے۔
متعدد فقہاء اور محدثین نے اپنی کتابوں میں اس کو بدعت اور مکروہ قرار دیا ہے۔
رمضان سے محبت تو ایمان کا تقاضا ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم محبت کے اظہار میں شریعت کے دائرے سے باہر نکل جاتے ہیں۔
دین میں جو چیز ثابت نہیں، اسے دین بنا لینا ہی بدعت ہے۔
اور بدعت کی یہی خاصیت ہے کہ وہ آہستہ آہستہ رواج بن کر دین کا حصہ سمجھ لی جاتی ہے۔
رمضان کے آخری دنوں میں اصل فکر یہ ہونی چاہیے کہ:
عبادت میں اضافہ ہو
تلاوتِ قرآن زیادہ ہو
دعاؤں میں گریہ و زاری ہو
لیلة القدر کی تلاش ہو
گناہوں سے سچی توبہ ہو
اگر یہ سب کچھ نہیں ہوا اور ہم صرف جمعۃ الوداع کے جذباتی عنوان میں الجھے رہے تو ہم نے رمضان کے اصل پیغام کو کھو دیا۔
یاد رکھئے:
رمضان کا حسن کسی ایک جمعہ میں نہیں ہے، بلکہ آخری عشرے کی ہر رات میں پوشیدہ ہے۔
اور دین کی حفاظت اس میں ہے کہ جو چیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اسی کو دین سمجھا جائے۔ ورنہ تاریخ گواہ ہے کہ
جب بدعتیں بڑھتی ہیں تو سنتیں سمٹنے لگتی ہیں۔

0 تبصرے