سفر تو سفر ہے
(ہنسی کے فوارے)
(ناصرالدین مظاہری)
ٹرین یا بس کے عام ڈبے میں سفر کرتے وقت اگر آپ کے ساتھ دوسرے رفقاء بھی ہوں تو پہلے ہی طے کرلیں کہ ٹرین یا بس کے آنے پر جس کو جہاں سیٹ ملے بیٹھ جائے، کیونکہ عموماً ایسا ہوتا ہے کہ آپ دوسروں کا خیال رکھنے کے چکر میں خود ہی سیٹ سے محروم ہوجاتے ہیں اور یوں القاسم محروم کا عربی مقولہ سر چڑھ کر منہ چڑاتا ہے آپ یقین کیجیے میں نے ایک دفعہ ایک موٹی تگڑی خاتون پر ترس کھاکر سلیپر میں اپنی ونڈو سیٹ پر صرف بیٹھنے کی اجازت دے دی وہ دو گز بائی دو گز چوڑی خاتون یوں میری سیٹ پر دھنس گئی کہ میں خود ایک کونے میں کنیا کماری کی طرح دپک کر رہ گیا اور مجھے لگا کہ یہ شرح ہے اور میں بین السطور ، یہ پانی کا جہاز ہے اور میں کنارہ کا ایک ستم رسیدہ کونا، یہ سیٹ کی اصل مالک ہے اور میں اس کے رحم و کرم پر اجازت یافتہ فلسطینی ۔
زیادہ رحم دلی دکھانے والوں کو کبھی کبھار سنگ دلی اور سنگ دلوں سے واسطہ پڑجاتا ہے۔
میں عموما ٹرین کا کھانا نہیں کھاتا گھر سے لے کر چلتا ہوں میرا ایک ساتھی بھی تھا وہ ظالم کھانا لے کر نہیں چلتا تھا مگر مجھے اس کی یہ عادت قدیمہ و قبیحہ معلوم نہ تھی اور میں نے حاتم طائی بننے کا گناہ کبیرہ کردیا یعنی کھانے کے وقت اس سے کھانے کی پیشکش کردی۔ بھائی جی! وہ تو یوں میری چھوٹی چھوٹی سادی سی دو روٹیوں اور سبزی پر ٹوٹا کہ مجھے محسوس ہوا کہ کھانا یہ لایا تھا شریک مجھے کیا ہے بمشکل نصف روٹی میرے حلق سے نیچے پہنچی ہوگی اور وہ صاحب تو پہنچے چڑھا کر لمبے لمبے ہاتھوں سمک داؤدی و سلیمانی بنے مال غنیمت ہر ہاتھ صاف کئے جارہے تھے۔
میں بے چارہ ، ساتھی زدہ، احمق پنے پر کف افسوس یا کف حسرت ملتا رہ گیا۔ کمال تو یہ ہے کہ مجھ سے پہلے ہی اٹھ بھی گیا تاکہ ارتن برتن جھاڑنے اور دھونے کی کلفت و کوفت سے محفوظ رہ سکے۔
ساتھی کی حقیقت بلکہ قلعی سفر میں ہی کھلتی ہے ۔ اچھے اچھے ساتھیوں کو سفر میں اخلاق بد کی وجہ سے فیل ہوتے دیکھا ہے اور ہاتھ خود کان تک پہنچ گئے کہ الہی کلما کی قسم !
ایک صاحب ساتھ تھے روڈ ویز بس آئی ہم دونوں سوار ہوگئے میرے پاس ایک سیٹ خالی تھی وہ صاحب آگے سے سوار ہوئے تھے میں نے انھیں پکارا کہ یہاں آجائیے میری پکار بس خانے میں طوطی کی آواز ثابت ہوئی اور دھم سے ایک جوان اس سیٹ پر آکودا۔
وہ صاحب شان بے نیازی بلکہ عمران خان نیازی کی طرح چلتے ہوئے مجھ تک پہنچے اور پوچھا سیٹ کہاں ہے؟ع
کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا
بس کی گیلری میں کھڑے ہونے والے لوگ نہایت قابل رحم بلکہ مستحق زکوۃ لگتے ہیں ۔ مسکین شکل، چہرے پر بارہ بجے ہوئے ۔فقیر بے نوا کی طرح ادھر ادھر حسرت بھری نظر سے دیکھتے ہوئے۔متانت سے عاری اور مسکنت سے بھاری ان کا آپا اور سراپا لائق دید ہوتا ہے۔کبھی بریک لگنے پر دو قدم آگے بھاگتے اور بتان کعبہ کی طرح اوندھے منہ سرنگوں ہونے لگتے ہیں اور کبھی دائیں بائیں سیٹوں پر بیٹھی ماہ و مہوش سے ٹکراکر بتیسی توڑوانے کا سامان فراہم کرتا ہے۔
بھلا ہو بس والوں کا کہ انھوں نے ترس کھاکر پکڑنے کے لئے اوپر ہتھے لگادئے ہیں اور برا ہو بس والوں کا کہ لگوانے کے بعد کبھی چیک کرانے کی نوبت نہیں آئی ورنہ ہتھا ہاتھ میں آکر میں کتھا سنانے کے لائق بھی نہ ہوتا۔
یہ اس وقت کی بات ہے جب سہارنپور دیوبند والا راستہ نہایت تنگ، ٹوٹا پھوٹا ، راستہ کم گڈھے زیادہ، کشادہ کم تنگ زیادہ، پختہ کم کچا زیادہ، گردو غبار سے اٹا ہوا۔ بس کے ہچکولے اعوذباللہ اور بس کے جھٹکے استغفراللہ۔ دیڑھ دو گھنٹے لگ جاتے تھے دیوبند سے سہارنپور کے درمیان۔ آدمی چلتے وقت صلوٰۃ الحاجہ اور پہنچ کر سجدۂ شکر بجا لاتا تھا۔ہمارے حضرت مولانا عبداللہ مغیثی کے بڑے بیٹے مولانا عبد الخالق اور ایک استاذ کو ناظم مدرسہ مولانا محمد سعیدی نے مظفر نگر ایک پروگرام میں بھیج دیا۔ بس کی بے بسی دھیان میں رکھئے۔
مظفر نگر سے واپسی بس سے ہی ہوئی ، ایک جگہ زور دار جھٹکا لگا اور بے چارے مولانا عبد الخالق اپنی سیٹ سے اچھل کر گیلری میں آگرے۔ اسی حالت افتادگی میں کہتے ہیں کہ
"واہ رے اللہ میاں! آپ کے انداز بھی نرالے ہیں ابھی پروگرام میں اسٹیج پر گاؤ تکیے لگوارکھے تھے اور اب یہاں گیلری میں پھینک دیا۔"
سفر تو بہرحال قطعۂ سقر ہی رہے گا۔ گھر سے نکلتے وقت آدمی خود کو عقل مند سمجھتا ہے، راستے میں دوسروں کو بے عقل سمجھتا ہے اور منزل پر پہنچ کر معلوم ہوتا ہے کہ سب سے بڑا نمونہ تو خود وہی تھا۔ یہی سفر کا حسن ہے، یہی اس کی مصیبت ہے اور یہی اس کی سب سے بڑی تفریح بھی۔

0 تبصرے