65a854e0fbfe1600199c5c82

رمضان کے مہینے میں مشرق کی جانب آگ کا ستون والی روایت کی تحقیق

 سوال: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ 

"إذا رأيتم عموداً أحمرَ من قِبل المشرقِ في شهرِ رمضانَ، فادَّخِروا طعامَ سنتِكم" 

ترجمہ: جب تم رمضان کے مہینے میں مشرق کی جانب آگ کا ستون دیکھ لو ، تو ایک سال کے خوراک کا ذخیرہ کرو۔ 

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب ارشاد فرما رہے تھے تو آپ مدینے میں تشریف فرما تھے ۔ اور عرب کے مشرق میں ایران ہے۔ 

ایران کے آئل ڈپوٹ پر صہیونی حملے کے بعد آگ ستون بن کر بھڑک اٹھی ۔ 

اگر اس حدیث پاک سے یہی مراد ہے تو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق ایک سال کیلئے خوراک اور دیگر اخراجات کا ذخیرہ کیا جانا مناسب ہوگا۔ کیونکہ ہو سکتا ہے کہ اس کے بعد قحط پڑ جائے۔

مذکورہ بالا حدیث کی تحقیق درکار ہے.


الجواب حامداًومصلیاً 

    

اس حدیث کو امام طبرانی نے المعجم الأوسط میں حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے اپنی سند کے ساتھ مرفوعا روایت کیا ہے، ان کی سند ملاحظہ فرمائیں : حدثنا *أحمد بن رشدين*، قال: حدثنا زيد بن بشر الحضرمي، قال: حدثنا بشر بن بكر، قال: حدثتني *أم عبد الله ابنة خالد بن معدان* عن *أبيها عن عبادة بن الصامت*. اه.


*سند پر کلام*


امام طبرانی نے اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد فرمایا:

 *لم يروِ هذا الحديث عن أم عبد الله ابنة خالد إلا بشر بن بكر تفرد به زيد بن بشر*.


اس حدیث کی سند میں امام طبرانی کے شیخ *احمد بن رشدین* ہیں، بھت سارے ائمہ نے ان کو *متہم بالکذب* قرار دیا ہے. (الكامل في الضعفاء(1/198)، الضعفاء والمتروكين لابن الجوزي(84) 

 

البتہ ابن عدی نے الكامل في ضعفاء الرجال میں فرمایا :أنكرت عليه أشياء مما رواه، وهو ممن يكتب حديثه مع ضعفه.


*زید بن بشر* حضرمی مصری ثقہ ہیں. (الجرح والتعدیل:3/557 لسان المیزان: 2/502).


*بشر بن بکر* تنیسی أبو عبد اللہ بجلی ثقہ ہیں. (تھذیب الکمال: 4/95،96). 


*ام عبد اللہ ابنۃ خالد بن معدان*

علامہ هيثمی نے مجمع الزوائد ومنبع الفوائد (5/ 35) میں فرمایا :رواه الطبراني في الكبير والأوسط، *وفيه أم عبد الله ابنة خالد بن معدان ولم أعرفها*، وبقية رجاله ثقات.


*تنبیہ*: باقی سب روات کا ثقہ ہونا بھی مسلم نہیں، اس لیے کہ احمد بن رشدین متہم بالکذب ہے، ان پر کلام اوپر گذر چکا ہے. نیز خالد بن معدان کا ارسال اور حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے عدم لقاء اور عدم سماع کی تصریح آگے آئے گی. 


تھذیب الکمال (8/169) میں علامہ مزی نے خالد بن معدان کے ترجمہ میں ان سے روایت کرنے والوں میں ان کی بیٹی *ام عبد اللہ کا نام عبدۃ بنت خالد بن معدان* ذکر کیا ہے. اسی طرح علامہ مزی نے (تھذیب الکمال: 4/95،96) میں بشر بن بکر تنیسی بجلی کے ترجمہ میں ان کے شیوخ کے ذیل میں ان کا نام عبدۃ بنت خالد بن معدان نقل کیا ہے. 


ام عبد اللہ ابنۃ خالد بن معدان کے بارے میں ابو اسحاق جوزجانی نے احوال الرجال میں فرمایا : *أحاديثها منكرة جدا*. 


*عن أبيها (أي خالد بن معدان) عن عبادة بن الصامت*. 

 یعنی ام عبد اللہ عبدہ بنت خالد اپنے والد خالد سے اور وہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت یہ روایت نقل کرتے ہیں. 


علامہ ذہبی نے تذکرۃ الحفاظ (1/72) میں خالد بن معدان کے بارے میں فرمایا: وهو أحد الأثبات غير أنه *يدلس ويرسل*. 

اور حافظ ابن حجر نے طبقات المدلسین(31) میں علامہ ذہبی ہی سے نقل فرمایا: *كان يرسل ويدلس*. 


تنبیہ: امام ابو زرعہ عراقی نے تحفة التحصيل في ذكر رواة المراسيل (ص:93) میں اور علامہ علائی نے جامع التحصيل (271) اور علامہ ذہبی نے تاریخ الاسلام (3/41) میں خالد بن معدان کے بارے میں امام ابو حاتم کا قول نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا : *لم يصح سماعه من عبادة بن الصامت*. 


علامہ مزی التحفة (4/248) میں نقل کیا ہے کہ حافظ ابو نعیم نے فرمایا : *وخالد لم يلق عبادة بن الصامت*.

علامہ مزی نے تهذيب الكمال (8/168) میں اور حافظ ابن حجر نے تھذیب التھذیب (3/102) میں فرمایا : وعبادة الصامت وأبي الدرداء *ولم يذكر سماعا منهما*.


علامہ ذہبی نے سیر أعلام النبلاء (4/537) : *وأرسل عن معاذ بن جبل وأبي الدرداء وعائشة *وعبادة بن الصامت*. 


علامہ مناوی نے فیض القدیر (1/361) میں وله شواهد کہکر خالد بن معدان اور کثیر بن مرہ وغیرہ کے بعض اقوال بھی ذکر کیے ہیں.

لیکن یہ اقوال ایسے نہیں کہ بطور شاہد ان سے روایت میں تقویت آسکے.


*حدیث کے متن پر کلام وشرح*

اس حدیث کے مصداق میں بھی کئی احتمالات ہیں، عمود احمر سے کوئی حقیقی ستون مراد ہو، یا سرخ رنگ کا خط جو سرخ ستون کے مشابہ ہو.


مشرق کی جھت سے ظاہر ہونے میں کوئی جگہ متعین نہیں، جھت میں عموم ہے، جزم سے کسی ملک کو متعین نہیں کیا جاسکتا.


ہوسکتا ہے کہ اس سے اہل حجاز مراد ہوں اور قحط فقط حجاز میں ہو، یا یہ بھی احتمال ہے کہ عموم مراد ہو.


نیز یہاں *ادخار کا حکم امر ارشادی ہے وجوب کے لیے نہیں*. 


علامہ مناوی نے فيض القدير میں اس کی مفصل کی ہے، ملاحظہ فرمائیں:

(إذا رأيتم) ؛ في نواحي السماء؛ (عمودا أحمر) ؛ أي: خطا يشبه العمود الأحمر؛ يظهر (من قبل) ؛ بكسر؛ ففتح؛ أي: من جهة؛ (المشرق؛ في شهر رمضان) ؛ فإن ذلك علامة الجدب والقحط؛ (فادخروا) ؛ أمر إرشاد؛ (طعام سنتكم) ؛ أي: قوت عيالكم تلك السنة؛ التي مبدؤها ظهور ذلك؛ لتطمئن قلوبكم؛ وذلك لا ينافي التوكل؛ بدليل ادخار سيد المتوكلين؛ المصطفى - صلى الله عليه وآله وسلم - قوت عياله سنة؛ (فإنها سنة جوع) ؛ يجوز أن يكون ظهور ذلك علامة للقحط في تلك السنة؛ [ ص: 362 ] ولا أثر لظهوره فيما بعدها؛ وهو ما عليه ابن جرير ؛ ويحتمل أنه كلما ظهر في سنة كانت كذلك؛ ثم هذا خطاب مشافهة؛ فيحتمل أن يكون خاصا بأهل الحجاز؛ وأن الجوع يكون في إقليمهم فقط؛ ويحتمل العموم؛ وحكمة التخصيص أنه لما كان نسخة لتقدير الأرزاق؛ وتقديرها؛ وإقرارها على ما اقتضاه القضاء الإلهي؛ فيستنسخ من اللوح المحفوظ في ليلة القدر؛ التي هي في رمضان؛ وتسلم إلى ميكائيل؛ الذي هو الملك الموكل بذلك؛ كما أخرجه محيي السنة وغيره؛ ناسب أن يكون ظهور العلامة في الشهر الواقع فيه الاستنساخ؛ وتسليم الصحف؛ وحكمة كون ذلك على الصورة العمودية التي هيئتها الاستطالة؛ دون التربيع؛ والاستدارة؛ وغيرها من الأشكال؛ الإشارة إلى أنه عام يكون شره مستطيرا؛ ويكون جدبه مستمدا عسيرا؛ وحكمة كونه أحمر؛ أن الحمرة لون مذموم؛ فقد نهى عنه المصطفى - صلى الله عليه وسلم - أهل الإيمان؛ وذلك أن الشيطان يتزين به ويؤثره على غيره من الألوان؛ كما ورد في عدة أخبار حسان ؛ فجعل اللون المكروه المذموم علامة على حصول المكروه؛ وموقع الهموم والغموم؛ والعرب تسمي عام المحل " السنة الحمراء" ؛ وتصف سنة الجدب بالطول؛ وعليه جرى العرف العام بين الأنام؛ فيقال لليلة الشديدة: " كانت ليلة طويلة" ؛ وتسمي نزع الروح من الجسد؛ الذي هو أعظم العذاب بـ " الحمرة" ؛ فيقال: هذا هو الموت الأحمر؛ فلذلك جعل علامة سنة الجوع حمراء؛ وفيه أنه لا بأس بادخار القوت خوف الغلاء؛ وأنه لا ينافي التوكل؛ لكن الكلام في ادخار غلة أرضه أو ما يشتريه لمؤنة عياله كما يأتي؛ و" الاذخار" ؛ بذال معجمة: إعداد الطعام لوقت الحاجة؛ والخطاب لأهل تلك الديار؛ أعني الأقطار الحجازية؛ كما مر؛ ويحتمل العموم.


(طب؛ عن عبادة بن الصامت ) ؛ قال الهيتمي: فيه أم عبد الله بن خالد بن معدان ؛ ولم أعرفها؛ وبقية رجاله ثقات؛ انتهى؛ *وله شواهد*؛ منها ما أخرجه نعيم بن حماد ؛ في كتاب الفتن؛ من حديث خالد بن معدان : " إذا رأيتم عمودا من نار من قبل المشرق؛ في شهر رمضان؛ في السماء؛ فاتخذوا من الطعام ما استطعتم؛ فإنها سنة جوع" ؛ وعن كثير بن مرة: " إني لأنتظر ليلة الحدثان في رمضان؛ منذ سبعين سنة" ؛ قال عبد الرحمن بن جرير : هي علامة تكون في السماء؛ يكون اختلاف بين الناس؛ فإن أدركتها فأكثر من الطعام ما استطعت؛ وعن عبد الوهاب بن نحت: بلغني أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قال: " في رمضان آية في السماء كعمود ساطع؛ وفي شوال البلاء؛ وفي القعدة الفناء" ؛ وعن أبي هريرة مرفوعا: " تكون آية في شهر رمضان" ؛ ومن حديث خالد بن معدان أنه سيبدو عمود من نار يطلع من قبل المشرق؛ في شهر رمضان؛ يراه أهل الأرض كلهم؛ فمن أدرك ذلك فليعد لأهله طعام سنة؛ وعن كثير بن مرة: " آية الحدثان في رمضان علامة في السماء؛ بعدها اختلاف الناس؛ فإن أدركتها فأكثر من الطعام ما استطعت" ؛ قال أبو جعفر : ولا يكون ذلك إلا بعد انكساف الشمس والقمر؛ وفي ذلك العام يغار على الحاج.اھ. 



*خلاصہ*:

اس حدیث کی سند انتہائی ضعیف ہے، امام جوزجانی کے بقول ام عبد اللہ عبدہ بنت خالد کی احادیث انتہائی درجہ منکر ہوتی ہیں.


پھر خارجی تطبیق اجتہادی وذوقی مسئلہ ہے، نیز مصداق میں متعدد احتمالات ہیں.


لہذا ایسی کمزور روایت کی بنیاد پر لوگوں کو خوف میں مبتلا کرنا اور ذخیرہ اندوزی پہ لگانا درست نہ ہوگا.


هذا والله أعلم بالصواب


ابو الخیر عارف محمود

دار الإفتاء مدرسہ فاروقیہ کشروٹ گلگت

14 رمضان المبارک 1447ھ

14 مارچ 2026م.

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے