سنو سنو!!
غیر حافظ عالم دین
(ناصرالدین مظاہری)
حضرت مولانا عبدالرؤف غزنوی سابق استاذ دارالعلوم دیوبند تحریر فرماتے ہیں:
"احقر نے ابتدائی اور متوسط درجات کی تعلیم ایک ایسے ماحول میں پائی ہے جہاں حفظِ قرآن کا معمول نہیں تھا اور حفاظِ قرآن کا وجود نہ ہونے کے برابر تھا،اور جب حدیث پڑھنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے دارالعلوم دیوبند پہنچایا تو اس ماحول میں احقر نے دیکھا کہ طلبہ کا ایک عام معمول یہ تھا کہ سب سے پہلے حفظِ قرآن کرکے پھردرسِ نظامی کی کتابیں پڑھتے تھے، چنانچہ اسی معمول کی برکت سے صورتِ حال یہ بنی تھی کہ دارالعلوم دیوبند میں میرے دورۂ حدیث کے ساتھیوں میں سے حفاظِ قرآن کی ایک اچھی خاصی تعداد موجود تھی، ان ساتھیوں کو دیکھ کر میری بھی یہ تمنا ہوتی کہ کاش! میں بھی اس نعمت سے سرفراز ہوتا، لیکن دورۂ حدیث کے سال اسباق کی مصروفیات کی وجہ سے اس تمنا کو پورا کرنے کی کوئی ممکن صورت نظر نہیں آتی تھی".
(ماہنامہ بینات نومبر 2019)
یہ اقتباس پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ میرے دل کی آواز ہے ، اگر کوئی عالم ہو اور کتنا ہی بڑا عالم کیوں نہ ہو اسے بات بات میں حافظ علماء یا حافظ طلبہ کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ علوم اور معارف سے بھرا ہوا ذہن و دماغ ہے ، نکات و جواہر سے مالامال سینہ اور سفینہ ہے مگر اچانک دوران وعظ یا دوران گفتگو کوئی آیت ذہن میں آئی تو فورا دل چاہتا ہے کہ فلاں آیت پڑھوں تاکہ نص قرآنی سے بات مدلل اور مزین ہوسکے لیکن یہاں پر پہنچ کر اس عالم کبیر کو احساس ہوتا ہے کہ کاش وہ بھی حافظ قرآن ہوتا۔
میں خود اپنی بات اور اپنا دکھ درد آپ کو سناؤں تو آپ میرے اس درد کی کسک محسوس کریں گے بہت بار ایسا ہوتا ہے کہ آیت کا پورا مفہوم اور ترجمہ میرے ذہن میں موجود ہے لیکن کوئی بھی ترجمہ آیت نہیں ہوسکتا یا کوئی بھی مفہوم اصل روایت کا قائم مقام نہیں بن سکتا۔
ایسے موقع پر دل روتا ہے ، بہت سے لوگ اسی لئے فارغ ہونے کے بعد حفظ کیا تاکہ اس پچھتاوے سے نکل سکیں۔
حضرت مولانا عبدالرؤف غزنوی نے بھی دارالعلوم دیوبند میں ملازمت کے دوران اپنے استاذ حضرت مفتی سعید احمد پالن پوری کے پاس حفظ کیا تھا۔
میرے درجہ میں کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ پوری کی پوری جماعت حافظ ہوتی ہے اور اس نعمت پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں لیکن کہیں نہ کہیں دل کے اندر یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ حفاظ قرآن کو جو فضیلت حاصل ہے میں اس میں شامل نہیں ہوں۔
قابل شکر ہے کہ لوگوں نے اپنے بچوں کو تحفیظ القرآن میں لگایا اور ہر سال ملک عزیز میں لاکھوں بچے حافظ قرآن ہوریے ہیں۔
(اٹھائیس ذی الحجہ چودہ سو سینتالیس ہجری)

0 تبصرے