✨❄ اِصلاحِ اَغلاط: عوام میں رائج غلطیوں کی اِصلاح❄✨
سلسلہ نمبر 230:
🌻 صدقۃُ الفِطر کے متفرق مسائل
▪ سلسلہ مسائلِ صدقۃ الفطر: ③
(تصحیح ونظر ثانی شدہ)
📿 صدقۃ الفطر کب واجب ہوتا ہے؟
صدقۃ الفطر عید الفطر کے دن صبح صادق کے وقت واجب ہوتا ہے، اس لیے صدقۃ الفطر واجب ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ شخص عید الفطر کی صبح صادق کے وقت نصاب کا مالک ہو، یہی وجہ ہے کہ جوشخص عید الفطر کی صبح صادق کے وقت نصاب کا مالک نہ ہوتو اس پر صدقۃ الفطر واجب نہیں۔(ردالمحتار، بدائع الصنائع)
📿 صدقۃ الفطر کن افراد کی طرف سے دینا واجب ہے؟
❶ جو شخص صاحبِ نصاب ہو اس پر اپنا صدقۃالفطربھی واجب ہے اور اپنی نابالغ اولاد کا صدقۃ الفطر بھی واجب ہے، اس کے علاوہ اس کے ذمّے اپنی بیوی، بالغ اولاد اور والدین کا صدقۃ الفطر لازم نہیں، بلکہ اگر یہ حضرات خود صاحبِ نصاب ہیں تو ان کا صدقۃالفطر انہی کے ذمّے واجب ہے، اور اگر صاحبِ نصاب نہیں ہیں تو ان کا صدقۃ الفطر کسی کے ذمّے واجب نہیں۔ (فتاویٰ عالمگیری، المحیط البرہانی، عمدۃ القاری، مبسوط السرخسی، امداد الفتاویٰ)
اس سے ان حضرات کی غلط فہمی دور ہوجاتی ہے کہ جو سمجھتے ہیں کہ صاحبِ نصاب شخص پر اپنی بیوی اور بالغ اولاد کا صدقۃ الفطر بھی واجب ہے۔
❷ نابالغ بچہ یا بچی اگر خود صاحبِ نصاب ہے تو ان کے ذمّے صدقۃ الفطر واجب ہے، یہ صدقۃ الفطر ان کے مال سے ادا کیا جائے گا، البتہ اگر سرپرست یا کوئی اور اپنے مال سے ان کا صدقۃ الفطر ادا کردے تب بھی جائز ہے۔
(سنن النسائی حدیث: 2504، رد المحتار، تحفۃالفقہاء)
❸ عید الفطر کے دن صبح صادق سے پہلے صاحبِ نصاب شخص کے یہاں جو بچہ پیدا ہوجائے تو اس کی طرف سے بھی صدقۃ الفطر دینا واجب ہے، اور جو بچہ صبح صادق کے بعد پیدا ہو تو اس کی طرف سے صدقۃ الفطر دینا واجب نہیں۔(العالمگیریہ، بدائع الصنائع)
❹ جو شخص صاحبِ نصاب نہ ہو اور وہ پھر بھی صدقۃ الفطر دینا چاہے تو یہ بھی جائز بلکہ بڑے ہی اجر وثواب اور فضیلت کی بات ہے۔ (شوال اور عید الفطر کے فضائل و احکام از مفتی محمد رضوان صاحب دام ظلہم، مبسوط السرخسی)
📿 صدقۃ الفطر میں ہر ایک کی ذاتی ملکیت کا اعتبار ہے:
صدقۃ الفطرکے نصاب میں بھی ہر ایک کی ملکیت کا الگ الگ اعتبار ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ میاں بیوی، والدین اولاد، بہن بھائی میں سے جو جو صاحبِ نصاب ہے تو اسی کے ذمّے صدقۃ الفطر واجب ہے، اور جو صاحبِ نصاب نہیں تو اس کے ذمے صدقۃ الفطر واجب نہیں۔ اسی طرح ایک شخص کا صدقۃ الفطر دوسرے شخص کے ذمے لازم نہیں، البتہ اگر والد اپنی بالغ اولاد کی طرف سے یا شوہر اپنی بیوی کی طرف سے یا کوئی اور شخص کسی دوسرے شخص کی طرف سے اس کی اجازت سے صدقۃ الفطر ادا کرنا چاہے تو یہ بھی جائز ہے۔
جب صدقۃ الفطر میں ہر ایک کی ذاتی ملکیت کا اعتبار ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ گھر میں موجود اموال اور سامان میں ہر ایک کی ملکیت متعین اور واضح ہو، اسی طرح مشترکہ چیزوں اور اموال میں بھی ہر ایک کی ملکیت واضح ہو۔
🌼 صدقۃ الفطر کی ادائیگی میں مقام کا اعتبار کرنے سے متعلق اہم مسئلہ:
🌺 اس حوالے سے دارا لعلوم کراچی کا ایک فتویٰ ملاحظہ فرمائیں:
’’صدقہ فطر کی مقدار پونے دو کلو گندم ہے، چاہے کہیں بھی ادا کیا جائے، اور اگر قیمت ادا کرنی ہو تو جہاں ادائیگی کرنے والا موجود ہے وہاں کا اعتبار ہوگا، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر آپ عید الفطر دبئی میں کریں تو آپ پر اپنا اور اپنے نابالغ بچوں کا صدقہ فطر دبئی کے نرخ کے مطابق ادا کرنا لازم ہے، خواہ خود دبئی میں ادا کریں اور خواہ پاکستان میں کوئی آپ کی اجازت سے ادا کرے۔
جہاں تک آپ کی اہلیہ اور بالغ بچوں کا تعلق ہے تو وہ اگر پاکستان میں ہیں تو ان پر صدقہ فطر اپنے مقام یعنی پاکستان کے حساب سے ادا کرنا لازم ہے، تاہم اگر آپ ان کی طرف سے ادا کرنا چاہتے ہیں تو ایسی قیمت لگانا بہتر ہے جس میں فقراء کا زیادہ فائدہ ہو۔‘‘ (فتویٰ نمبر: 1738/65)
📿 صدقۃ الفطر کی ادائیگی کا وقت:
❶ صدقۃ الفطر درحقیقت عید الفطر کی صبح صادق کے وقت واجب ہوتا ہے، لیکن اگر کوئی شخص رمضان ہی میں ادا کرلے تب بھی جائز ہے۔
❷ سنت طریقہ یہی ہے کہ عید الفطر کی نماز سے پہلے پہلے صدقۃ الفطر ادا کرلیا جائے، اس کا اجر وثواب زیادہ ہے، لیکن اگر کسی شخص نےعید الفطر سے پہلے ادا نہیں کیا تو عید الفطر کے بعد بھی اس کا ادا کرنا ضروری ہے۔
چنانچہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے صدقۃ الفطر واجب قرار دیا ہے روزے داروں کو بے کار اور بیہودہ باتوں سے پاکیزگی حاصل کرنے کے لیے اور مساکین کو کھلانے (یعنی ان کے ساتھ تعاون کرنے) کے لیے۔ جس نے عید الفطر کی نماز سے پہلے ادا کردیا تو یہ مقبول صدقۃ الفطر ہے اور جس نے عید الفطر کی نماز کے بعد ادا کیا تو پھر یہ صدقوں میں سے ایک صدقہ ہے۔
☀ سنن ابی داود میں ہے:
1611- عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: فَرَضَ رَسُولُ اللهِ ﷺ زَكَاةَ الْفِطْرِ؛ طُهْرَةً لِلصَّائِمِ مِنَ اللَّغْوِ وَالرَّفَثِ، وَطُعْمَةً لِلْمَسَاكِينِ، مَنْ أَدَّاهَا قَبْلَ الصَّلَاةِ فَهِىَ زَكَاةٌ مَقْبُولَةٌ، وَمَنْ أَدَّاهَا بَعْدَ الصَّلَاةِ فَهِىَ صَدَقَةٌ مِنَ الصَّدَقَاتِ. (باب زَكَاةِ الْفِطْرِ)
☀ مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:
10424- حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: إنَّ السُّنَّةِ أَنْ يُخْرِجَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ قَبْلَ الصَّلَاةِ.
📿 صدقۃ الفطر کس کو دینا جائز ہے؟
جس شخص کو زکوٰۃ دینا جائز ہے صرف اسی کو صدقۃالفطر دینا جائز ہے، بالفاظِ دیگر اِسے یوں بھی بیان کیا جاسکتا ہے کہ صدقۃ الفطر صرف اسی شخص کو دینا جائز ہے جس کے پاس زکوٰۃ کا نصاب بھی نہ ہو اور صدقۃ الفطر کا نصاب بھی نہ ہو۔ اس کی کافی تفصیل پچھلی قسطوں میں بیان ہوچکی ہے۔ (رد المحتار، الجوہرۃ النیرۃ)
📿 صدقۃ الفطر کی ادائیگی میں نیت کی شرط:
صدقۃ الفطر ادا کرنے کے لیے نیت ضروری ہے کہ دل میں یہ نیت ہو کہ میں اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے صدقۃ الفطر ادا کرتا ہوں۔ اگر کسی نے ہدیہ، تحفہ یا عیدی کہہ کر صدقۃ الفطر ادا کیا لیکن دل میں صدقۃ الفطر ہی کی نیت تھی تب بھی صدقۃ الفطر ادا ہوجائے گا۔ (رد المحتار)
✍🏻۔۔۔ مفتی مبین الرحمٰن صاحب مدظلہ
فاضل جامعہ دار العلوم کراچی
9 رمضان المبارک1441ھ/ 3 مئی 2020

0 تبصرے